مغرب کا ایک اور مقصد: داعش کے ذریعے جہاد و قتال کی بدنامی
مغرب نے داعش کے ذریعے مسلمانوں اور دنیا بھر کے لوگوں کے سامنے جہاد کی ایسی تعریف پیش کی کہ گویا، نعوذ باللہ، جہاد وحشت، ظلم، بے گناہ انسانوں کا قتل اور تخریب کاری کا نام ہے۔ داعش نے جہاد کو بدنام کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جنہوں نے لاعلم مسلمانوں اور نوجوانوں کی اکثریت کے ذہنوں میں جہاد کا تصور مسخ کر دیا۔
جہاد (قتال)، جو اللہ تعالیٰ کا ایک مقدس حکم اور فریضہ ہے اور کفار و اہلِ مغرب جس سے سخت خوف زدہ ہیں، مسلمانوں کے دفاع کا واحد راستہ ہے۔
مسلمان اپنے جائز دفاع، اپنے ناموس اور مال کی حفاظت، اسی طرح محارب کفار کے مقابلے میں وطن کی حفاظت، ظلم سے نجات اور اسلامی نظام کے دفاع کے لیے جہاد کرتے ہیں۔
ہاں، جہاد میں بے گناہ انسانوں کے قتل سے سختی سے منع کیا گیا ہے، لیکن اہلِ مغرب نے مسلمانوں کے اس مقدس الٰہی فریضے کو بدنام کرنے کے لیے داعش کے ذریعے درج ذیل اقدامات کیے:
داعش نے ہزاروں بے گناہ انسانوں، خصوصاً مسلمانوں، کو قتل کیا اور اسے جہاد کا نام دیا۔
حالانکہ دنیا میں انسان کو آگ سے سزا دینا ممنوع قرار دیا گیا ہے اور حدیث میں اس کا ذکر آیا ہے، جو درج ذیل ہے:
«لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ»
ترجمہ: «اللہ کے عذاب (آگ) کے ذریعے عذاب نہ دو۔»
حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب «لا يعذب بعذاب الله»، حدیث ۳۰۱۶۔
لیکن داعش نے اردن کے ایک شہری پائلٹ کو زندہ آگ میں جلا دیا اور اس کی ویڈیوز بنائیں۔ اس وحشت کا منظر پوری دنیا نے دیکھا، اور داعش نے اسی عمل کو جہاد کا نام دیا۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ جنگ کے وقت تم بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو اور نہ انہیں نشانہ بناؤ۔
حدیث درج ذیل ہے: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلی الله علیه وسلم عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ»
ترجمہ: «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔»
حوالہ: صحیح البخاری، حدیث ۳۰۱۵؛ صحیح مسلم، حدیث ۱۷۴۴۔
داعش نے عراق اور افغانستان میں ہزاروں بچوں اور عورتوں کو جان بوجھ کر جہاد کے نام پر قتل کیا۔ اسی طرح ہزاروں دینی مراکز، مساجد اور مدارس کو جہاد کے نام پر تباہ کیا اور جان بوجھ کر انہیں عسکری ہدف بنایا۔




















































