افغانستان وہ سرزمین ہے جس کی تاریخ جارح قوتوں کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت کی لازوال داستانوں سے بھری پڑی ہے، جس نے تاریخ کے کسی بھی دور میں طاقت، جبر اور بیرونی تسلط کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ برطانوی استعمار نے اپنی پوری عسکری قوت کے ساتھ اس سرزمین پر حملہ کیا، لیکن مسلسل تین جنگوں میں شکست سے دوچار ہوا۔
سوویت یونین کے قبضے کے دوران بھی افغان عوام نے اپنے قومی اتحاد اور غیرت کے ساتھ سوویت فوج کو پسپائی پر مجبور کیا، اور تقریباً دو دہائیوں بعد امریکہ اور اس کے اتحادی بھی ایک طویل اور بے نتیجہ جنگ کے نتیجے میں افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ تاریخ کے ان مسلسل ادوار نے ثابت کیا کہ افغان عوام کے عزم کو کسی بھی بیرونی طاقت کے زور سے شکست نہیں دی جا سکتی۔ لیکن آج افغانستان کی سکیورٹی کی تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہو چکا ہے، جس میں ملک کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی فورسز محض دفاعی اور ردِعمل کی پوزیشن سے نکل کر ایک فعال، فیصلہ کن اور خطرات کی روک تھام پر مبنی سکیورٹی پوزیشن کی جانب بڑھ چکی ہیں۔
افغانستان کی سکیورٹی پالیسی میں یہ تبدیلی ان بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف ایک فطری ردِعمل ہے جو بعض ہمسایہ ممالک، خصوصاً پاکستانی فوجی رجیم، کی جانب سے اس ملک کو درپیش ہیں۔ پاکستان، جس نے برسوں سے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے مسلح گروہوں کو بطور آلہ استعمال کیا ہے، اب ایک نئی حقیقت کا سامنا کر رہا ہے: آج کا افغانستان اب وہ غیر فعال اور کمزور ملک نہیں جو کل تھا۔
افغانستان کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی فورسز نے برسوں کی جدوجہد اور جہاد کے قیمتی تجربے، داخلی صلاحیتوں اور مضبوط عزم سے استفادہ کرتے ہوئے تیاری اور قوت کی اس سطح تک خود کو پہنچا دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی اور تجاوز کا فیصلہ کن اور کئی گنا جواب دیا جائے گا۔
اس تبدیلی کی اہم علامات میں سے ایک سرحد پار سے لاحق خطرات کے مقابلے میں طرزِ عمل کی تبدیلی بھی ہے۔ ماضی میں افغانستان اکثر ردِعمل کی پوزیشن میں رہا اور ہر حملے یا تجاوز کے بعد شکایت درج کرانے اور عالمی برادری کی جانب سے کارروائی کے انتظار پر اکتفا کرتا رہا۔ لیکن آج ’’سٹریٹیجک صبر‘‘ کی پالیسی کی جگہ ’’خطرات کو ان کے منبع پر ہی غیر مؤثر بنانے‘‘ کی پالیسی نے لے لی ہے۔ جیسا کہ امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح الفاظ میں کہا ہے، افغانستان اب کسی کو اجازت نہیں دے گا کہ اس ملک کی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور سکیورٹی میں خلل ڈالنے والے عناصر کی پناہ گاہ میں تبدیل کیا جائے، اور کسی بھی خطرے کا، جغرافیائی سرحدوں سے قطع نظر، فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
فرضی ڈیورنڈ لائن کے ساتھ افغان فورسز کی حالیہ کارروائیاں، جن کے نتیجے میں پاکستان کی درجنوں فوجی چوکیوں پر قبضہ ہوا اور اس ملک کی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، اس سٹریٹیجک تبدیلی کا واضح ثبوت ہیں۔ یہ کارروائیاں، جو مختلف عسکری اور انٹیلی جنس اداروں کے مکمل باہمی ربط کے ساتھ انجام دی گئیں، ظاہر کرتی ہیں کہ افغان سکیورٹی فورسز معلومات جمع کرنے، درست منصوبہ بندی اور ملک کی سرحدوں سے باہر عملی کارروائیاں انجام دینے میں قابلِ ذکر صلاحیت رکھتی ہیں۔
ان کامیابیوں میں افغانستان کے بدخواہوں کے لیے، خواہ وہ اندرونی اجرتی عناصر ہوں یا بیرونی عوامل، واضح پیغام ہے کہ ان کے تحفظ اور آسودگی کا دور ختم ہو چکا اور افغانستان کی سکیورٹی کے خلاف کسی بھی اقدام کا سخت اور ناقابلِ پیش گوئی جواب دیا جائے گا۔
یہ بڑی سکیورٹی پیش رفت بلاشبہ افغانستان کی عسکری قیادت کی جانب سے نئے خطرات کی نوعیت کے گہرے ادراک کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بخوبی سمجھ لیا ہے کہ موجودہ دور میں صرف کلاشنکوفوں اور ’’پیلے بشکوں‘‘ جیسے سادہ ساز و سامان کا استعمال ملک کی سکیورٹی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ ایسے دشمنوں کے خلاف، جو جدید فضائی اور تکنیکی وسائل سے لیس ہیں، مقابلے کے لیے جدید ساز و سامان اور موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ دفاعی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔ اسی لیے عسکری ساز و سامان کی تیاری میں خود کفیل ہونے اور مسلح افواج کی تکنیکی سطح بلند کرنے کی کوششیں امارت اسلامیہ کی سنجیدہ ترجیحات کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
تاہم اس میدان میں افغانستان کی سب سے مضبوط طاقت اب بھی ’’قومی عزم‘‘ اور ’’قوموں کا اتحاد‘‘ ہے۔ جیسا کہ اس سرزمین کی تاریخ نے دکھایا ہے، جب بھی افغان کسی مشترکہ خطرے کے مقابلے میں متحد ہوئے ہیں، انہوں نے ہر قسم کی طاقت پر فتح حاصل کی ہے۔ آج بھی انٹیلی جنس اور سکیورٹی فورسز اسی عوامی حمایت کے سہارے قومی سلامتی کے مضبوط ستون بن چکی ہیں اور ہر قسم کی جارحانہ کارروائی کے مقابلے میں ملک کی ارضی سالمیت اور قومی وقار کا تحفظ کر رہی ہیں۔ پاکستانی فوجی رجیم اور دیگر شر و فساد کے عناصر کو سمجھ لینا چاہیے کہ آج کا افغانستان اب ان کے لیے آزمائش گاہ اور غلطی کا میدان نہیں رہا، ہر غلط اندازے کی انہیں بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔




















































