وسطی ایشیا کے قلب میں ایک ایسی سرزمین واقع ہے جس کا دشوار اور پیچیدہ جغرافیہ نہ صرف بلند و بالا پہاڑوں اور گہری وادیوں پر مشتمل ہے، بلکہ اس نے اپنے لوگوں کے دلوں میں سرکشی، آزادی اور خودمختاری کی روح بھی پروان چڑھائی ہے۔ افغانستان، مشرق کا یہ نامعلوم موتی، ایک طویل عرصے سے بڑی طاقتوں کے لیے تسخیر کی ایک دلکش وسوسہ انگیزی رہا ہے؛ لیکن یہ وسوسہ ہر بار ایک خوفناک خواب میں تبدیل ہوا اور اس سرزمین کے نام کو دنیا کی عسکری تاریخ کی پیشانی پر ’’سلطنتوں کا قبرستان‘‘ کے طور پر ثبت کر گیا۔
انیسویں صدی کی صلیبی برطانوی سلطنت سے لے کر بیسویں صدی کے لادین سوویت یونین اور بالآخر اکیسویں صدی کے نئے صلیبی اتحاد، امریکہ اور نیٹو تک، سب کو اس سرزمین میں ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا ہے: افغانستان کو ہتھیاروں کے زور اور طاقت کے غرور سے زیر نہیں کیا جا سکتا۔
برطانیہ کا خوف؛ مغرورانہ حملہ اور عجلت میں فرار
انیسویں صدی ’’برطانیہ کے تلخ تجربے‘‘ کا دور تھا؛ اس زمانے میں ایشیا کے قلب (افغانستان) پر اقتدار اور اثر و رسوخ کے لیے برطانیہ اور روس کی دو سلطنتوں کے درمیان ایک خفیہ، سخت اور کشیدہ مقابلہ جاری تھا۔ اس استعماری شطرنج میں افغانستان ایک اہم اور تزویراتی مہرہ تھا۔ برطانیہ اپنے ’’تاج کے جوہر‘‘، ہندوستان، کی جانب روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوف زدہ تھا، اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ افغانستان میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرکے اپنی شمالی سرحدوں کو محفوظ بنائے۔ چنانچہ 1839ء میں برطانوی ہندوستان کی ایک بڑی فوج، جو ہندوستانی اور انگریز فوجیوں پر مشتمل تھی، قندھار کے راستے افغانستان میں داخل ہوئی اور درباری شاہ شجاع کو تخت پر بٹھا دیا۔
لیکن یہ ابتدائی اور بظاہر فتح برطانیہ کی عسکری تاریخ کی بدترین شکستوں میں سے ایک کے آغاز کا سبب بنی۔ عوامی مزاحمت کی لہروں نے برطانوی فوج کو اس قدر تھکا اور بے بس کر دیا کہ وہ مقابلے کی صلاحیت کھو بیٹھی۔ 1842ء میں اس عظیم لشکر کے بچے کھچے افراد، ہندوکش کے پہاڑوں کی برف اور شدید سردی میں شرمناک پسپائی کے دوران، افغان مجاہدین کے ہاتھوں مارے گئے۔ ہزاروں فوجیوں میں سے صرف ایک شخص زندہ بچا تاکہ اس عظیم سانحے کی داستان تاریخ تک پہنچا سکے۔ افغانستان سے برطانیہ کا خوف بعد کی فوجی مہمات کے دوران بھی کم نہ ہوا؛ دوسری اور تیسری افغان-انگریز جنگوں نے ایک بار پھر اس سلطنت کی ہیبت اور رعب کو متزلزل کر دیا۔
سوویت یونین؛ ہندوکش کے نہ ختم ہونے والے جال میں سرخ فوج کا انجام
ایک صدی بعد مشرق کی ’’سرخ بلا‘‘ کی باری آئی۔ 1358 ہجری شمسی، بمطابق 1979ء، سوویت سرخ فوج نے کابل کی کمیونسٹ حکومت کی حمایت اور مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں اس کے خاتمے کو روکنے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا۔ سوویت یونین اپنے فضائی بیڑے اور بکتر بند گاڑیوں کی برتری پر بھروسا کرتے ہوئے یہ سمجھتا تھا کہ چند ہفتوں میں اس ملک کو اپنے زیرِ اقتدار لے آئے گا۔
لیکن وہ بھی برطانویوں کی طرح تاریخ سے مطلوبہ اور تلخ سبق نہیں سیکھ سکے تھے۔ افغان مجاہدین نے اپنے ایمان اور ملک کے دشوار اور پیچیدہ جغرافیے سے مکمل واقفیت کی بنیاد پر اس سپر پاور کے خلاف سخت گوریلا جنگ شروع کی۔ انہوں نے ہوشیار فوجی حکمت عملیوں سے کام لیتے ہوئے سوویت رسد کے قافلوں کو نشانہ بنایا اور تنگ وادیوں میں دشمن کے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے لیے مہلک گھاتیں لگائیں۔ مجاہدین نے اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی مدد اور اپنے دستیاب ہتھیاروں کے استعمال سے سوویت فضائیہ کو بھی سنگین چیلنج سے دوچار کر دیا۔
وہ جنگ جسے سوویت یونین ’’مختصر مدتی مشن‘‘ قرار دیتا تھا، سوویت یونین کے لیے ’’ویتنام‘‘ بن گئی؛ ایک ایسا نہ ختم ہونے والا جال جس نے اس کمیونسٹ سپر پاور کے دسیوں ہزار فوجیوں اور اربوں روبل کو نگل لیا۔ بالآخر 1989ء میں سرخ فوج کی شرمناک واپسی کے ساتھ یہ جنگ سوویت یونین کی کمزوری اور اس کے بعد اس کے انہدام کے اہم عوامل میں شامل ہوگئی۔ افغانستان سے سوویت یونین کا خوف صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھا؛ بلکہ اس کی جڑیں کریملن کے ایوانوں تک پھیل گئی تھیں۔
جدید صلیبیوں کی ناکامی
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعے کے بعد امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امارت اسلامیہ کو ختم کرنے کے بہانے افغانستان میں جدید صلیبی جنگ کا ایک نیا باب کھولا۔ وسیع فضائی حملوں اور زمینی افواج کے ذریعے انہوں نے کابل پر قبضہ کیا اور امارت اسلامیہ کو اقتدار سے ہٹا دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اربوں ڈالر خرچ کرکے اور جدید فوجی سازوسامان استعمال کرکے نہ صرف امن و سلامتی قائم کریں گے بلکہ اس روایتی اور اسلامی سرزمین میں ایک جمہوری اور مغرب نواز نظام کی جڑیں بھی مضبوط کریں گے۔
لیکن جس دشمن کا امریکی افواج کو سامنا ہوا، وہ ایک منظم روایتی فوج نہیں تھی؛ بلکہ ایک زندہ فکر اور مزاحمت تھی۔ امارت اسلامیہ نے ایک بار پھر اپنی پہلے سے معروف گوریلا جنگ کا رخ اختیار کیا۔ دو دہائیوں کے دوران امریکہ اور نیٹو جتنا میدانِ جنگ میں آگے بڑھتے گئے، اتنا ہی جنگ کا دائرہ پھیلتا گیا۔ غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 3500 سے تجاوز کر گئی اور اس جنگ کے مالی اخراجات کی مد میں امریکہ کے خزانے سے سینکڑوں ارب ڈالر نکل گئے۔
سب سے زیادہ افغانستان کے عام عوام اس جنگ کا شکار ہوئے؛ فضائی بمباری، شبانہ کارروائیوں اور تشدد میں اضافے نے لوگوں کی زندگی مزید تلخ کر دی۔ بالآخر دو دہائیوں کے بعد امریکہ بھی اپنی شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا اور۲۴ اسد 1400 ہجری شمسی کو کابل سے اپنی بے ترتیب اور بدنظمی سے بھرپور واپسی کے دوران اس سرزمین پر سلطنتوں کی وحشت کے ایک اور باب کا اختتام بھی ہوگیا۔
اس شرمناک انخلا کے سامنے دنیا کے ردعمل نے ایک بار پھر افغانستان کے لیے ’’سلطنتوں کا قبرستان‘‘ کے نام کی تصدیق کر دی۔
افغانستان؛ آزادی کی ناقابلِ شکست سرزمین
افغانستان کی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے کہ اگرچہ یہ سرزمین غربت اور تباہی کا شکار ہوئی، لیکن اس قوم کا ایمان اور آزادی کی روح دنیا کے قابضین کے خلاف اس کی سب سے مضبوط قوت بنی رہی ہے۔
برطانیہ، سوویت یونین اور امریکہ؛ ہر ایک نے مختلف استعماری، نظریاتی اور بالادستی کے مقاصد کے تحت اس سرزمین پر قدم رکھا، لیکن سب کو افغانوں کے جہاد اور مزاحمت کے سامنے سخت شکستوں اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ان سلطنتوں نے افغانستان میں جس وحشت کا تجربہ کیا، وہ صرف موت اور فوجی شکست کا خوف نہیں تھا؛ بلکہ اس حقیقت کے ادراک سے پیدا ہونے والا خوف تھا کہ ایک قوم کے ایمان اور ارادے کی جڑیں اتنی گہری ہوتی ہیں کہ وہ دنیا کی جدید ترین اور طاقتور ترین جنگی مشینوں کے سامنے بھی سر نہیں جھکاتی۔
افغانستان اپنی تمام تر سانحات اور مصیبتوں کے باوجود آج بھی ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست پہاڑ کی مانند تکبر کے طوفانوں کے سامنے کھڑا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ توحید اور ایمان کے پرچم تلے استکبار کی طاقت خواہ کتنی ہی سرکش اور مغرور کیوں نہ ہو، آخرکار کمزوری، زوال اور شکست کا شکار ہو جاتی ہے۔



















































