پاکستان کے فوجی جرنیلوں نے جو یہ پالیسی اپنائی ہے کہ ایک بار پھر شکست خوردہ اجرتی جنگجوؤں اور اربکیوں کو جمع کیا جا رہا ہے، دراصل دہشت گردی کی اسی پرانی شکل کو دوبارہ زندہ کرنا ہے جس کے نتائج صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ان نیم فوجی اور اجرتی مسلح افراد کی پرورش خطے میں داعش جیسی ایک نئے تباہ کن اور غیر ذمہ دار گروہ کے ابھرنے کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ اگرچہ یہ اجرتی عناصر اس قابل نہیں کہ کوئی ان سے براہ راست خوف محسوس کرے یا ان کے پاس کوئی فوجی طاقت ہو، لیکن ان کا وجود آہستہ آہستہ اور زہریلے فساد کی شکل میں علاقائی استحکام کو تباہ کرتا ہے۔
یہ اجرتی عناصر نہ کوئی منظم نظریہ رکھتے ہیں اور نہ ہی عوام کے درمیان ان کی کوئی جڑیں ہیں، بلکہ دراصل یہ انٹیلی جنس کے ایسے اوزار ہیں جو کسی بھی وقت دہشت گردانہ انتشار اور معاشرتی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر عالمی برادری ان اجرتی گروہوں کی بار بار تربیت اور رسد پر سنجیدہ توجہ نہ دے تو یہ گروہ اپنے ناپاک چلانے والوں کے بھی وفادار نہیں رہیں گے اور پیشہ ورانہ خانہ جنگیوں، عدم تحفظ اور خطے کی ہمہ جہت اقتصادی و سیاسی عدم استحکام کا ایک نیا ذریعہ بن جائیں گے۔
دہشت گردی اور انٹیلی جنس بحران کے اس خطرناک رخ کے ساتھ ساتھ، دوسری جانب مؤثر نسلی تصادم پیدا کرنے کی کوشش اور پشتونوں اور بلوچوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کا عمل جاری ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ پشتونوں اور بلوچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تحریکوں کو خاموش کرنے کے لیے نسلی اور قومی انتشار پیدا کرنے والے طریقوں کا استعمال کیا ہے، اور اس وقت اربکیوں اور سابق بدنام شخصیات کا استعمال عین اسی شیطانی منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے مطابق نسلی اختلافات پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، اور پشتون اجرتیوں اور اربکیوں کو بلوچستان کے قلب میں استعمال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے اور بلوچوں کے درمیان ایک گہری تاریخی اور قومی دشمنی پیدا کی جائے۔ فوج چاہتی ہے کہ وہ ان مظالم سے خود کو بری الذمہ ظاہر کرے اور جنگ کو پشتون-بلوچ جنگ کی شکل دے دے۔ اسی لیے شعور اور سمجھ داری کا تقاضا ہے کہ دونوں مضبوط قومیں (پشتون اور بلوچ) یہ سمجھیں کہ یہ اجرتی عناصر اور سابق شر و فساد کے کردار کسی قوم کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ اس فوجی مشین کے آلہ کار ہیں جس نے برسوں سے دونوں قوموں کے قدرتی اور انسانی وسائل کو نچوڑا اور انہیں دبایا ہے۔
اسی نسلی انتشار اور انٹیلی جنس کھیلوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال آج اندرونی سیاسی ردعمل اور فوج کی وجہ سے پاکستان کے تنہائی کا شکار ہونے اور تباہی کی طرف بڑھنے کا سبب بنی ہے۔ یہ تجزیہ براہ راست پاکستان کے اندرونی سیاسی حلقوں، فکری رہنماؤں اور عام عوام کو مخاطب کرتا ہے تاکہ فوج کی اس ناکام پالیسی پر انگلی اٹھائی جائے۔ مجرموں کے ساتھ شراکت داری جاری ہے، اور پاکستان کے عوام اور سیاسی غیر جانب دار حلقوں کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ان کی فوج اور انٹیلی جنس افغانستان اور خطے کے سب سے بدنام اور شکست خوردہ جنگجوؤں کو برقرار رکھنے پر اپنی دولت اور وسائل کیوں ضائع کر رہی ہیں؟
اس کے نتیجے میں سیاسی تنہائی اور ملک کی بربادی پیدا ہوتی ہے، اور ان شکست خوردہ عناصر کے ساتھ جاری یہ ناپاک شراکت داری پاکستان کو نہ صرف اپنے ہمسایوں کے ساتھ مسلسل دشمنی میں مبتلا کرتی ہے بلکہ اسلام آباد کی علاقائی اور عالمی ساکھ کو بھی صفر کر دیتی ہے۔ یہ کھیل پاکستان کو مزید سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی ترقی کے بجائے تنہائی کی کھائی میں دھکیل رہا ہے۔
یہ تمام صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ پاکستان کے اندر فوج کی من مانی اور غیر ذمہ داری جاری ہے، اور پاکستان کے مستقبل، عوام اور سیاست کے نقصان پر یہ منصوبے صرف چند فوجی جرنیلوں کے محدود مفادات کے لیے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کو سمجھنا چاہیے کہ عدم تحفظ کو پانی فراہم کرنے والی یہ پائپ لائنیں آخرکار پاکستان کے اپنے سیاسی منظرنامے، عالمی ساکھ اور ہمسائیگی کو مکمل تنہائی اور تباہی کی طرف لے جائیں گی۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان شکست خوردہ گروہوں پر موجودہ توجہ اور ان کی حمایت نہ تو پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنا سکتی ہے اور نہ ہی خطے کے سیاسی توازن پر کوئی مثبت اثر ڈال سکتی ہے، بلکہ یہ ایک مسلط کردہ عدم استحکام ہے جو نہ صرف ہمسایوں اور قوموں بلکہ خود پاکستان کے داخلی سیاسی اور اقتصادی نظام کے لیے بھی طویل المدتی تباہی کا پیغام رکھتا ہے۔




















































