پاکستانی رجیم نے اپنے قیام کے وقت سے لے کر آج تک ہمیشہ کوشش کی ہے کہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر خطے میں کسی نہ کسی نام پر منفی مسابقتوں کو جنم دینے اور مسائل پیدا کرنے کا محورِ شر بنے۔ اسی مقصد کے لیے وہ سکیورٹی اور استحکام یا دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے گمراہ کن نعروں کے تحت اپنے ناجائز مفادات اور پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے پراکسی گروہوں اور قابلِ نفرت افراد کو استعمال کرتی ہے اور اس طرح شر و فساد کے مخصوص حلقوں سے تعاون کے ذریعے پڑوسی ممالک اور خطے کو نقصان پہنچاتی ہے۔
فوجی رجیم نے حالیہ اقدامات میں کوشش کی ہے کہ مختلف صوبوں میں مہاجرین، چوروں، بدعنوان مجرموں اور مقامی اقلیتوں سے ناجائز فائدہ اٹھائے، اور اسی سلسلے میں افغانستان سے فرار ہونے والے بعض اربکیوں اور شر و فساد کے سابق عناصر کو مختلف وعدوں اور مراعات کے ذریعے چترال کے علاقے میں منتقل کرے، پھر انہیں خطے اور افغانستان کے عدم استحکام کے لیے دہشت گرد گروہوں کے ڈھانچے میں منظم کرے۔
حالیہ دنوں میں مقامی اور عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس سے واضح ہوا ہے کہ فوجی رجیم نے اپنے اس نئے منصوبے کو بہت تیزی سے عملی جامہ پہنا دیا ہے اور وہ خطے میں موجود دہشت گردوں اور خوارج کو طاقتور ظاہر کر کے امریکہ اور یورپی ممالک سے اپنی منفی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے مالی اور سیاسی تعاون حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ایک بھارتی عہدیدار نے رواں ہفتے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت دنیا کو جدید ٹیکنالوجی اور علم فراہم کرتا ہے، لیکن پاکستان ہمیشہ خطے اور دنیا کو دہشت گرد فراہم کرتا رہا ہے۔ اس نے بالکل درست بات کی ہے، اس وقت داعش کے خوارج اور ان کی تربیت و مالی معاونت کے مراکز سب پاکستان میں موجود ہیں، جس کے لیے ثبوت کی بھی ضرورت نہیں، اور امارت اسلامیہ کے فضائی حملوں میں یہ معاملہ کئی بار واضح ہو چکا ہے اور ان کے ٹھکانوں یا کلیدی مراکز کو تباہ کیا جا چکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان چترال اور دیگر قبائلی یا دور دراز علاقوں میں دہشت گردوں، شر و فساد کے عناصر یا اربکیوں کو بسانے اور مسلح کرنے کے ذریعے کس کو نقصان پہنچا رہا ہے؟
چونکہ یہ علاقے افغانستان کے سب سے زیادہ قریب ہیں، اس لیے پہلا گمان یہی ہے کہ پاکستانی رجیم افغانستان میں موجودہ وسیع پیمانے پر قائم امن و استحکام کو چیلنج کرنا چاہتی ہے اور امارت اسلامیہ پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے کہ وہ رجیم کے مطالبات کے سامنے جھک جائے، جو ہرگز ممکن نہیں، کیونکہ امارت اسلامیہ کی افواج اپنی سرزمین اور عوام کے مکمل دفاع کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور اس وقت بھی انہوں نے چترال اور اس کے گرد و نواح میں خوارج اور دہشت گردوں کے متعدد مراکز اور اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ منفی اقدامات افغانستان کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
ان دہشت گردانہ اقدامات کا نقصان سب سے پہلے خود پاکستان کو پہنچتا ہے اور اس ملک میں داخلی عدم استحکام کی موجودہ سطح کو مزید بڑھاتا ہے، جو فوجی رجیم کے منفی اقدامات کا نتیجہ ہے۔
دوسرا سب سے بڑا نقصان، جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، خطے کے ممالک اور دنیا کے استحکام کو ہے، کیونکہ داعش کے خوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو اسی مقصد کے لیے پروان چڑھایا گیا اور وہ خطے سے واقف ہوئے ہیں۔ اگرچہ چین، روس اور افغانستان کے شمالی پڑوسی ممالک اس حقیقت اور پاکستانی رجیم کے دہشت گردانہ پس منظر سے آگاہ ہیں، لیکن اب بھی خاموش ہیں اور انہیں پاکستان کے ساتھ مثبت تعلقات زیادہ اہم دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان مصروف ہے کہ داعش کے دہشت گردوں کو ایک عالمی خطرے کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کرے اور انہیں قابو کرنے کے بدلے دنیا سے مراعات حاصل کرے۔
ان منفی اقدامات کا سب سے بڑا نقصان پاکستانی عوام کو ہے، کیونکہ پاکستانی فوج انہیں کسی نہ کسی نام پر مسلسل نشانہ بناتی ہے اور اب انہیں داعشی خوارج کو اپنی ہی سرزمین پر آستین کے سانپ کی طرح پروان چڑھا رہی ہے، جن کے ذریعے وہ ایک طرف اپنے عوام کو دبائے گی اور دوسری طرف انہیں دنیا کے سامنے ایک خطرناک خطرے کے طور پر پیش کرے گی۔
جس طرح امارت اسلامیہ نے اس معاملے میں اپنی اسٹریٹیجک ذمہ داری بروقت اور اچھے انداز میں ادا کی ہے، اس نے خطے کے عدم استحکام کے لیے پاکستانی رجیم کے ان اقدامات کی مذمت بھی کی ہے اور عملی طور پر ان کا جواب بھی دیا ہے، اسی طرح خطے کے طاقتور ممالک اور تنظیموں کو بھی خاموش نہیں رہنا چاہیے اور ابھی سے ان کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔ ورنہ، خدا نخواستہ، جب پانی سر سے گزر جائے گا تو بہت دیر ہو چکی ہوگی اور خطہ بیک وقت ایک اور بحران کی طرف دھکیل دیا جائے گا اور دہشت گردی کی تربیت کے ایک نئے مرکز میں تبدیل ہو جائے گا۔




















































