معاصر سیاسی اور فکری ماحول میں، بالخصوص جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کے حوالے سے، بیانیوں کی جنگ ہتھیاروں کی جنگ سے بھی زیادہ گہری اور پیچیدہ ہو چکی ہے۔ یہاں حقیقت کو صرف واقعات کی بنیاد پر نہیں پرکھا جاتا، بلکہ ان تعبیرات کے ذریعے بھی متعین کیا جاتا ہے جو مختلف فریقوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں۔
بعض تنقیدی اور سیاسی بیانیوں میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا فوجی ڈھانچہ خطے کی سلامتی کے توازن میں ایک بہت مضبوط اور غالب کردار رکھتا ہے اور اپنے اسٹریٹجک وجود کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف داخلی و خارجی پالیسیوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اسی طرح کچھ تجزیے یہ بھی کہتے ہیں کہ اسی پیچیدہ سکیورٹی ماحول کے سائے میں بعض مسلح گروہ مختلف اوقات میں اپنے وجود، سرگرمیوں یا کم از کم عدمِ کنٹرول کے حوالے سے بحثوں اور الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ تاہم یہ تمام دعوے عالمی سیاست کے متضاد بیانیوں، رپورٹس اور سیاسی رقابتوں کا حصہ ہیں اور انہیں کسی ایک حتمی اور قطعی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
اس وسیع منظرنامے کا سب سے حساس اور متنازع پہلو علمائے دین کا کردار سمجھا جاتا ہے۔ اسی فضا میں بعض تنقیدی بیانیے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کچھ پاکستانی علماء، پاکستان کے فوجی و سیاسی ڈھانچے کی تعریف کرتے ہیں اور فوجی بیانیے کو دینی و اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں۔ ان تجزیوں کے مطابق، اس قسم کی تعریف محض مذہبی یا علمی موقف نہیں ہوتی بلکہ طاقت کے بیانیے کو مضبوط بنانے کا ایک نرم ہیں۔
یہاں واضح طور پر کہنا ضروری ہے کہ یہ کوئی عمومی اور یکساں رجحان نہیں ہے۔ علماء کی دنیا ایک واحد بلاک نہیں ہے۔ یہاں مختلف فکری دھارے، اختلافات اور حتیٰ کہ متضاد مؤقف موجود ہیں۔ کچھ ریاستی بیانیے کے ساتھ ہم آہنگی رکھتے ہیں، کچھ تنقیدی موقف اختیار کرتے ہیں اور کچھ خود کو سیاسی قطب بندی سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم عمومی تنقیدی مباحث میں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آخر کیوں بعض دینی آوازیں طاقت کے سرکاری اور فوجی بیانیے کے قریب ہو جاتی ہیں، اور یہ کہ یہ حمایت عوامی ذہن سازی پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟
اسی تنقیدی بیانیے میں بعض اوقات یہ بھی کہا جاتا ہے کہ علاقائی سلامتی کے بحرانوں، مسلح گروہوں اور عالمی خدشات کے حوالے سے متضاد دعوے اور الزامات موجود ہیں، جو مختلف سیاسی فریقوں کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں۔ مگر یہ موضوعات عالمی انٹیلی جنس، سیاسی اور سکیورٹی رقابتوں سے جڑے ہوئے ہیں، اور ہر دعوے کی تصدیق کے لیے غیر جانبدار اور مستند شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان تمام اختلافات کے باوجود ایک اصول ایسا ہے جسے کوئی سیاسی، عسکری یا فکری بیانیہ رد نہیں کر سکتا: انسانی جان کی حرمت۔ جہاں بھی عام شہریوں کو نقصان پہنچتا ہے، وہاں تمام سیاسی توجیہات اخلاقی سوالات کے کٹہرے میں آ جاتی ہیں۔ بے گناہ انسان کا خون کسی بھی حکمت عملی، سکیورٹی ضرورت یا سیاسی بیانیے کے تابع نہیں ہو سکتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں علماء کی ذمہ داری بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، کیونکہ عالم صرف متن کی تشریح کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کے اخلاقی توازن کا نمائندہ بھی ہوتا ہے۔ جب مذہب طاقت کی حمایت یا تعریف کے بیانیے کے قریب ہو جاتا ہے تو عوام کے ذہن میں حقیقت اور پروپیگنڈا کے درمیان حد باریک ہو جاتی ہے، اور جب یہ حد باریک ہو جائے تو سوال اٹھانے کی جرات کمزور پڑ جاتی ہے۔
تاریخ نے یہ دکھایا ہے کہ ہر طاقت کے ساتھ ایسی فکری اور مذہبی حلقے موجود ہوتے ہیں جو اسے جواز فراہم کرتے ہیں، کبھی عقیدے کی بنیاد پر، کبھی ادارہ جاتی دباؤ کے تحت اور کبھی معاشرتی یا معاشی ضروریات کے باعث۔ مگر ہر صورت میں نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ دین کے مبلغین کی زبان طاقت کے دائرے میں سمٹ جاتی ہے اور وہ اپنی خودمختاری کا ایک حصہ کھو دیتے ہیں۔
تاہم دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ علماء کی برادری ایک متنوع اور کثیر الجہتی دنیا ہے۔ وہاں ایسی آوازیں بھی موجود ہیں جو امن، انصاف اور انسانی جان کے تحفظ کے لیے کھڑی ہوتی ہیں اور ہر قسم کے تشدد کے جواز کے خلاف سوال اٹھاتی ہیں۔ یہی اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دینی فضا اب بھی ایک فکری کشمکش کا میدان ہے، نہ کہ ایک بند اور یک طرفہ نظام۔
حق اور باطل کے درمیان لکیر آخرکار نعروں کی سطح پر نہیں بلکہ اصولوں کی سطح پر متعین ہوتی ہے۔ حق وہ ہے جو انسان کی جان کا احترام کرے، ظلم کے خلاف کھڑا ہو اور سچ کی تلاش کو زندہ رکھے۔ باطل وہ ہے جو سچ کو مفاد کے تابع کر دے اور اخلاق کو سیاسی یا اسٹریٹجک مصلحت پر قربان کر دے۔
فوجی رجیم کے حامی علماء کو چاہیے کہ وہ مغرب کے اس پیالے سے پانی پینے سے گریز کریں جس میں اسلام کا خون شامل ہے۔ پاکستانی علماء کو چاہیے کہ وہ منبر کی موجودہ اسیری کا خاتمہ کریں، ورنہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی چیخیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی مظلومانہ آہوں کے ساتھ مل کر کانوں کے پردے پھاڑ ڈالیں گی۔




















































