نفسیاتی اور پروپیگنڈا جنگیں، جدید دنیا میں مسلح جنگ کے ساتھ ساتھ جنگ کی اہم ترین اقسام میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ جنگیں ذہنوں، احساسات اور ارادوں کے خلاف لڑی جاتی ہیں، اور اکثر ان کے نتائج عسکری حملوں سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ نفسیاتی جنگ وہ جنگ ہے جس میں ہتھیار استعمال نہیں کیے جاتے، لیکن اس کے اثرات مسلح جنگ سے کہیں زیادہ گہرے اور وسیع ہوتے ہیں۔ یہ جنگ انسانوں کے اذہان، احساسات، خوف، امیدوں اور ارادوں کو نشانہ بناتی ہے۔ یعنی یہ ایسی منصوبہ بند کوششیں ہوتی ہیں جن کے ذریعے مخالف فریق کے سپاہیوں، کمانڈروں، عام لوگوں کا حوصلہ پست، جبکہ اپنے فریق کا حوصلہ بلند کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دشمن زیادہ گولیاں چلائے بغیر ہی شکست تسلیم کر لے، ہتھیار ڈال دے یا اپنا منصوبہ تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائے۔
نفسیاتی جنگ کی کئی اقسام ہیں:
سفید نفسیاتی جنگ(White Psychological Warfare): اس میں حقیقی معلومات کو خاص انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
سیاہ نفسیاتی جنگ (Black Psychological Warfare): اس میں دشمن کے بارے میں مکمل جھوٹ اور جعلی خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔
سرمئی نفسیاتی جنگ (Grey Psychological Warfare): اس میں موجودہ حالات کے بارے میں آدھی سچائی اور آدھا جھوٹ پیش کیا جاتا ہے۔
اس کے ذرائع اور حربے:
اونچی آوازیں، تیز روشنیاں اور موسیقی (نیند سے محروم رکھنے کے لیے)، جعلی خبریں اور ویڈیوز، قیدیوں کے ساتھ مخصوص برتاؤ تاکہ وہ پروپیگنڈا کریں، سوشل میڈیا مہمات، خوف و ہراس پھیلانا وغیرہ۔
یہ جنگ مؤثر کیوں ہے؟
کیونکہ انسان کا ذہن ہر چیز سے زیادہ حساس ہوتا ہے۔ اگر حوصلہ ٹوٹ جائے تو دنیا کی مضبوط ترین فوج بھی شکست کھا جاتی ہے۔ ایک ایسا سپاہی جو یہ یقین کر لے کہ "ہم ہار رہے ہیں”، وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی شکست کھا چکا ہوتا ہے۔ آج نفسیاتی جنگ ہر ملک کی قومی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ ممالک کے پاس نفسیاتی آپریشنز کے خصوصی شعبے ہوتے ہیں جو چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں۔
پروپیگنڈا جنگ
پروپیگنڈا جنگ وہ جنگ ہے جس میں "حقیقت” پر قبضہ جمانے کی کشمکش جاری رہتی ہے۔ کون اپنی کہانی غالب کرے گا؟ کون دنیا کو یہ باور کرائے گا کہ "ہم اچھے ہیں اور وہ برے ہیں؟”
یعنی یہ جنگ معلومات اور بیانیوں کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں کی رہنمائی کرتی ہے، اپنے حق میں حمایت جمع کرتی ہے اور دشمن کو بدنام کرتی ہے۔ یہ دونوں جنگیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اور پروپیگنڈا نفسیاتی جنگ کا ایک اہم حصہ ہے۔
پروپیگنڈا (Propaganda) ایک منظم اور منصوبہ بند عمل ہے، جس کے ذریعے میڈیا، فن، تعلیم اور ثقافت کی مدد سے لوگوں کے ذہنوں پر اثر ڈالا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ ایک مخصوص نظریے کو قبول کر لیں۔ نفسیاتی جنگ کی طرح اس کی بھی سفید، سیاہ اور سرمئی اقسام ہیں۔ سفید پروپیگنڈے میں اپنے فریق کی کامیابیوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ سیاہ پروپیگنڈے میں مکمل جھوٹ (جعلی تصاویر، جعلی ویڈیوز، جعلی آوازیں وغیرہ) پھیلائے جاتے ہیں، جبکہ سرمئی پروپیگنڈے میں کچھ حقیقت اور زیادہ تر جعل سازی شامل ہوتی ہے۔
پروپیگنڈا جنگ کے جدید ذرائع نہایت خطرناک ہیں اور ہر فریق بہت کم وسائل کے باوجود ان کے ذریعے دشمن کے خلاف مؤثر کارروائی کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے الگورتھمز، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد (تصاویر، ویڈیوز، آوازیں)، سوشل میڈیا کے معروف افراد، میمز اور کارٹون، نیز اسکول اور تعلیمی نصاب (خصوصاً تاریخ کی کتابیں) اس کے اہم ذرائع ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ پروپیگنڈا اتنا طاقتور کیوں ہوتا ہے اور اتنی آسانی سے لوگوں کو کیوں متاثر کر لیتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان "کہانی” سے متاثر ہونے والی مخلوق ہے۔ اگر آپ ایک اچھی کہانی سنا دیں کہ "ہم مظلوم ہیں” یا "ہم ہیرو ہیں”، تو لوگ آپ کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ اکثر حقیقت سے زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ کہانی کس انداز میں پیش کی جاتی ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، آج پروپیگنڈا کے ذرائع انتہائی آسان اور ہر شخص کی دسترس میں ہیں، لیکن اسی نسبت سے ان کے خطرات بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ لوگوں کے درمیان نفرت یا بداعتمادی پھیلانا، جھوٹ کو اس قدر عام کر دینا کہ سچ پر یقین نہ رہے، نوجوانوں کو انتہا پسندانہ افکار کی طرف مائل کرنا، اور ایسے ہی بہت سے عوامل ہیں جنہوں نے بوڑھوں، نوجوانوں اور بچوں سب کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔ آج پروپیگنڈا جنگ مسلح جنگ سے پہلے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ جو ملک پروپیگنڈا میں کامیاب ہو جائے، وہ بہت سے میدانوں میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔
پاکستان کی نفسیاتی اور پروپیگنڈا جنگ
پاکستان کی نفسیاتی اور پروپیگنڈا جنگ عموماً آئی ایس پی آر (ISPR) اور آئی ایس آئی (ISI) کے ذریعے مشترکہ طور پر چلائی جاتی ہے۔ یہ دونوں ادارے فوجی اور ریاستی سطح پر بیانیہ سازی اور پروپیگنڈا پر توجہ دیتے ہیں، خصوصاً بھارت، کشمیر اور داخلی معاملات کے حوالے سے۔
پاکستان کے سرکاری میڈیا اور آئی ایس پی آر کا بنیادی کردار یہ ہے کہ آئی ایس پی آر، جو 1949ء سے پاکستان کی فوج کا سرکاری شعبۂ اطلاعات ہے، فوجی کارروائیوں، بیانات اور ویڈیوز کے ذریعے قومی بیانیے کو کنٹرول کرتا ہے۔
یہ ادارے ٹیلی ویژن، فلموں، سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر/ایکس، انسٹاگرام، ٹک ٹاک) اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ ان کا مقصد فوج کا مثبت تاثر قائم کرنا، دشمن (عموماً بھارت اور حالیہ برسوں میں افغانستان) کو موردِ الزام ٹھہرانا اور اندرونی مخالفت کو کم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے بوٹ اکاؤنٹس، جعلی اکاؤنٹس اور مربوط مہمات استعمال کی جاتی ہیں، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، صحافیوں اور انفلوئنسرز کے ذریعے عالمی رائے عامہ پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے پیچیدہ اور کشیدہ رہے ہیں۔ پاکستان، بالخصوص اس کے فوجی اور انٹیلی جنس ادارے، افغانستان کے داخلی معاملات میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے عرصۂ دراز سے نفسیاتی اور پروپیگنڈا کارروائیاں کرتے آئے ہیں۔ ان کارروائیوں کو "اسٹریٹیجک ڈیپتھ” پالیسی کا حصہ گردانا جاتا ہے، جس کا مقصد افغانستان میں ایک دوست یا تابع حکومت قائم کرنا اور بھارت کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ جنگ بنیادی طور پر جھوٹی خبروں، بیانیہ سازی، مذہبی اور نسلی جذبات کو ابھارنے اور دشمنی پھیلانے کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔
2021ء کے بعد پاکستان اور افغانستان (امارت اسلامیہ) کے تعلقات ڈرامائی انداز میں خراب ہوئے۔ ابتدا میں پاکستان کو امارت اسلامیہ سے کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا، لیکن بعد میں اس نے تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے حوالے سے افغانستان پر اعتراضات شروع کر دیے، جبکہ افغانستان نے ڈیورنڈ لائن کے بارے میں اپنا موقف برقرار رکھا۔ پاکستان الزام لگاتا ہے کہ طالبان، ٹی ٹی پی کو افغانستان میں پناہ دیتے ہیں اور وہیں سے پاکستان پر حملے کیے جاتے ہیں۔ انہی الزامات کی بنیاد پر پاکستان نفسیاتی اور پروپیگنڈا کارروائیوں کے ذریعے اپنے مؤقف کو مضبوط کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہا ہے۔
فوج کا سرکاری ترجمان (ISPR) باقاعدگی سے افغانستان پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ وہ "دہشت گردوں کی حمایت کرتا ہے”، نام نہاد سرحد (ڈیورنڈ لائن) کی حفاظت نہیں کرتا اور ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کرتا ہے۔ پاکستان میں ہر حملے کے بعد آئی ایس پی آر جلد ہی یہ بیان جاری کرتا ہے کہ "حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے کی گئی” اور "امارت اسلامیہ ذمہ دار ہے۔” ان بیانات کا مقصد داخلی حوصلہ بلند کرنا اور عالمی سطح پر خود کو "متاثرہ فریق” کے طور پر پیش کرنا ہوتا ہے۔
2021ء کے بعد پاکستان نے کئی مرتبہ افغانستان میں فضائی حملے کیے (جیسے 2025-2026ء میں ننگرہار، پکتیکا، کنڑ اور خوست میں)۔ ان حملوں کو پاکستانی طالبان اور داعش خراسان کے خلاف کارروائی قرار دیا جاتا ہے، اور پروپیگنڈا میں انہیں "حقِ دفاع” اور "دہشت گردی کے خلاف آپریشن” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن یہ پاکستان کے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کے ردِعمل میں اس کا اپنے دل کی بھڑاس نکالنا ہے، جو "شہری ہلاکتوں” کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ پاکستانی میڈیا ان حملوں کو کامیابی قرار دیتا ہے، حالانکہ یہ کامیابی نہیں بلکہ ایک جنگی جرم ہے، جو فوجی رجیم مختلف علاقوں میں انجام دیتی ہے۔
افغانستان کی فضائی حدود کی اس کھلی خلاف ورزی کے علاوہ میڈیا اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا میں بھی فوجی رجیم کی جانب سے بوٹ اکاؤنٹس، ہیش ٹیگز اور جعلی خبروں کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ امارت اسلامیہ کو "نااہل حکمران” اور "دہشت گردوں کا سرپرست” ثابت کیا جا سکے۔ ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہوں کے حملوں کے بعد پاکستان اور اس کے ادارے یہ مہم چلاتے ہیں کہ "افغانستان دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے” اور "امارت اسلامیہ اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہے”۔ حالانکہ پاکستان افغانستان کے خلاف ہر جائز و ناجائز ذریعہ استعمال کرتا ہے، یہاں تک کہ اس نے لاکھوں افغان مہاجرین کو بھی اپنے ملک سے بے دخل کر دیا، جسے اس نے اپنی "سکیورٹی ضرورت” قرار دیا، جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔
اس کے علاوہ پاکستان اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر امارت اسلامیہ پر "دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے” کا الزام لگاتا ہے، جبکہ امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کی پالیسی اور مؤقف یہی رہا ہے کہ وہ کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی، اور اس مقصد کے لیے اس نے ضروری اقدامات بھی کیے ہیں۔
مختصراً یہ ایک کثیر جہتی جنگ ہے، جس میں پاکستان ایک طرف فوجی حملے کرتا ہے، دوسری طرف نفسیاتی جنگ (الزامات اور حوصلہ شکنی) اور پروپیگنڈا (میڈیا) کا محاذ بھی گرم رکھتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ امارت اسلامیہ ٹی ٹی پی کو قابو میں کرے، حالانکہ یہ بات سب پر واضح ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر وجود میں آنے والی تنظیم ہے، وہیں اس کی تربیت ہوئی اور وہیں اس کی سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن پاکستانی رجیم کی ہٹ دھرمی کے باعث تعلقات جنگی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔
داعش نفسیاتی اور پروپیگنڈا جنگ کیسے استعمال کرتی ہے؟
داعش کے پاس دنیا کی سب سے کامیاب اور وحشیانہ پروپیگنڈا مشینری موجود تھی، اور اس کی تیز رفتار کامیابی کا ایک بڑا سبب یہی تھا۔ اس نے نفسیاتی کارروائیوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، اپنے دشمنوں میں خوف پیدا کیا اور دنیا کے سامنے اپنی مخصوص تصویر قائم کی۔ داعش کا پروپیگنڈا محض "خبریں” نہیں تھا بلکہ براہِ راست ایک نفسیاتی ہتھیار تھا۔
اس مقصد کے لیے اس نے اعلیٰ معیار کی پیشہ ورانہ ویڈیوز تیار کیں، جو ہالی ووڈ کی طرز پر بنائی جاتی تھیں (جیسے "جنگ کے شعلے” جیسی فلمیں)۔ اس کے علاوہ جہادی ترانے، اینیمیشن، میمز اور انفوگرافکس متعدد علاقائی اور عالمی زبانوں میں نشر کیے جاتے تھے۔
داعش اپنی کامیابی کا تاثر قائم کرنے کے لیے اپنے جنگجوؤں کو ہیرو اور مجاہد کے طور پر پیش کرتی، جبکہ اپنے دشمنوں کو "کافر” اور "مرتد” قرار دیتی۔ خوف پھیلانے کے لیے سر قلم کرنے، زندہ جلانے اور پھانسی دینے کی ویڈیوز نشر کرتی، امت مسلمہ کو جوڑنے کے لیے "خلافت” کے مقدس نام سے فائدہ اٹھاتی، اور عدل، امن، خوش حالی اور "حقیقی جہاد” کے میدان کا تصور پیش کر کے مختلف طریقوں سے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتی۔
داعش ذہنوں کی جنگ بہت مہارت سے لڑتی تھی۔ خوف اور دہشت پھیلانے کے لیے وہ اپنے حملوں (جیسے پیرس، برسلز اور مغربی دنیا کے دیگر شہروں میں) کو نہایت ڈرامائی انداز میں منصوبہ بند کرتی، تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ "ہم ہر جگہ موجود ہیں، تم کہیں محفوظ نہیں ہو۔”
اسی طرح نوجوانوں، خصوصاً مغربی ممالک میں رہنے والوں، کو "ہیرو” بننے کا احساس دلاتی تھی، یعنی "تم بھی ہیرو بن سکتے ہو۔” یہ پیغام اس قدر مؤثر تھا کہ بہت سے نوجوان اس سے متاثر ہوئے اور مغربی ممالک میں متعدد حملے کیے۔
جیسا کہ اس مضمون میں پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ آج کل نفسیاتی اور پروپیگنڈا جنگ کے جدید ذرائع انتہائی وسیع ہو چکے ہیں اور ہر شخص کو آسانی سے میسر ہیں، اسی طرح داعش کے پروپیگنڈے کا بنیادی ذریعہ بھی سوشل میڈیا ہے۔ اس کے مختلف پلیٹ فارمز، جیسے فیس بک، ٹیلی گرام، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور درجنوں دیگر ذرائع پر اس کے سیکڑوں ہزار اکاؤنٹس موجود ہیں۔ (یہ سیکڑوں ہزار افراد نہیں، بلکہ ایک ہی شخص کئی کئی اکاؤنٹس چلاتا ہے) تاکہ وہ اپنا پروپیگنڈا زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا سکے۔
داعش کی میڈیا کوریج نہایت وسیع ہے۔ وہ صرف ویڈیو اور آڈیو نشریات ہی نہیں کرتی بلکہ اعلیٰ معیار، خوبصورت اور دلکش ڈیزائن کے ساتھ رسائل اور کتابیں بھی شائع کرتی ہے۔ اس کی اعماق نیوز ایجنسی کئی زبانوں میں فوری خبریں نشر کرتی ہے، اور وہ موجودہ جنگ کے سب سے مؤثر ذرائع میں سے ایک یعنی ریڈیو کو بھی ایف ایم اسٹیشنوں کی صورت میں استعمال کرتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ وہ اتنی کامیاب کیوں تھی؟ پہلی وجہ یہ تھی کہ اس نے "خلافت” اور "امت” جیسے مؤثر نعروں کے ذریعے دنیا بھر سے مختلف شعبوں کے ماہر افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا، جنہیں داعش نے ان کی مہارت کے مطابق استعمال کیا، اور اس کے نتائج واضح ہیں۔ دوسری وجہ اس کی تیزی تھی؛ وہ خبریں اور دیگر اشاعتی مواد بہت جلد جاری کرتی تھی، اور بھرتی و ترغیب کے طریقوں سے بھی بخوبی واقف تھی، جس کی بدولت وہ آسانی سے اپنے مخاطبین کو متاثر کر کے اپنے حق میں استعمال کر لیتی تھی۔
اب اگرچہ داعش کی نام نہاد خلافت ختم ہو چکی ہے اور خطے میں اس کی زمینی موجودگی بھی بہت محدود رہ گئی ہے، لیکن اس کی آن لائن خلافت سرگرم ہے۔ مختصراً یہ کہ داعش اپنے فوجی زور کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ کو بھی یکساں اہمیت دیتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر ذہن فتح ہو جائیں تو زمین بھی فتح ہو جاتی ہے۔ آج یہی طریقہ دیگر جہادی گروہ بھی استعمال کر رہے ہیں۔
ہماری اس تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ نفسیاتی اور پروپیگنڈا جنگ دراصل "حقیقت” کی جنگ ہے۔ جو فریق بہتر کہانی بیان کرے اور لوگوں کے ذہنوں کو فتح کر لے، وہ بہت سے میدانوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ جنگیں صرف فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ ذہنی قوت کی بھی متقاضی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آج معلومات بھی ہتھیاروں کی طرح ایک نہایت خطرناک ہتھیار بن چکی ہیں۔




















































