پاکستانی فوجی رجیم کے صدر نے آج اتوار کے روز خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور نام نہاد گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے پر دستخط کیے اور اس کا اعلان کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، آصف علی زرداری نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی کابینہ کے مشورے کی توثیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ ۲۳۲ کے تحت خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ ہے اور دفعہ ۲۳۴ کے مطابق صوبے کے تمام اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
اس فیصلے کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت، جس کا انتظام پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے پاس ہے، عملاً اختیارات سے محروم ہو گئی اور صوبائی اسمبلی کو تحلیل کر دیا گیا۔
دس روز قبل المرصاد نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پاکستان کی وفاقی حکومت، جس کی باگ ڈور مکمل طور پر فوج کے ہاتھ میں ہے، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور صوبائی حکومت کو اختیارات سے محروم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

















































