۲۱ ستمبر، پیر کے روز، صبح سویرے پاکستانی فوجی رجیم کے جنگی طیاروں نے ایک بار پھر افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور صوبہ کنڑ کے ضلع نورگل اور صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل کے رہائشی علاقوں کو اندھی بمباری کا نشانہ بنایا۔ ضلع نورگل میں کیے گئے حملے میں ایک رہائشی مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور اس حملے میں ایک خاندان کے تین افراد شہید اور چار دیگر زخمی ہوگئے۔
متاثرین میں دو بچے اور دو خواتین بھی شامل تھیں۔ ضلع برمل میں ایک دکان اور ایک خالی مکان تباہ ہوگئے۔ امارت اسلامیہ کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے ان حملوں کو ’’جنگی جرائم‘‘ اور ’’افغانستان کے عوام کے خلاف جرائم کا تسلسل‘‘ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ یہ حملہ ’’بے جواب نہیں رہے گا۔‘‘
یہ حملہ ایک جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ پاکستانی رجیم نے ان اندھی بمباریوں کے ذریعے نہ صرف افغانستان کی قومی خودمختاری کو پامال کیا بلکہ اپنا وحشیانہ اور بزدلانہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے ظاہر کردیا۔ بے گناہ بچوں اور خواتین کے قتل کو ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا نام کیسے دیا جاسکتا ہے؟ یہ رجیم خود دہشت گرد ہے اور اس کے ہاتھ افغانستان کے مظلوم عوام کے خون سے کہنیوں تک رنگے ہوئے ہیں۔
جنیوا کنونشنز کے پہلے پروٹوکول کے مطابق ایسے حملے جو فوجی اور شہری اہداف کے درمیان امتیاز نہیں کرتے، واضح طور پر ممنوع اور جنگی جرم قرار دیے گئے ہیں۔ ان حملوں کا ارتکاب کرکے پاکستانی رجیم نے ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی قانون، اخلاق اور انسانی ضمیر کی پابند نہیں ہے۔
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستانی رجیم ان حملوں کے ذریعے اپنے داخلی بحرانوں سے عوام کی توجہ ہٹانے اور اپنی سکیورٹی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ رجیم جو خود اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی بحرانوں سے دوچار ہے، افغانستان میں کشیدگی پیدا کرکے اپنے عوام کی توجہ داخلی مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے بھی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کے حملے ’’اس ملک میں سکیورٹی کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے‘‘ کے مقصد سے کیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ بزدلانہ پالیسی نہ صرف مسئلہ حل نہیں کرسکتی بلکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان نفرت اور بداعتمادی کو مزید بڑھاتی ہے
اس جرم کے ردعمل میں امارت اسلامیہ کے ترجمان نے زور دیا ہے کہ یہ حملے ’’بے جواب نہیں رہیں گے‘‘ اور افغانستان اپنے دفاع کے حق کو محفوظ سمجھتا ہے۔ یہ پاکستانی رجیم کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ اسے سمجھنا چاہیے کہ افغانستان اندھے ہتھیاروں کے تجربے کا میدان نہیں ہے اور افغان قوم کبھی بھی ان تجاوزات کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ امارت اسلامیہ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین اور عوام کی ناموس کے دفاع میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرے گی اور ان تجاوزات کا مناسب اور بروقت جواب دے گی۔
ان بے گناہ متاثرین کا جرم کیا ہے؟ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ پاکستان کی اس خون کی پیاسے اور بدنام رجیم کے پڑوس میں رہتے ہیں، جو بچوں کو ان کے بستروں میں قتل کرتی ہے، خواتین کو ان کے گھروں میں قتل کرتی ہے اور انسانی جانوں کا کوئی احترام نہیں کرتی۔ یہ رجیم نہ صرف افغانستان کی دشمن ہے بلکہ یہ انسانیت اور خطے میں امن کی دشمن بھی ہے۔
عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ اس جرم کی سخت الفاظ میں مذمت کرے اور پاکستانی رجیم سے مطالبہ کرے کہ وہ شہری علاقوں پر فضائی حملوں سے باز رہے۔ ان جرائم کے سامنے خاموشی انسانیت سے خیانت اور مجرموں کی حوصلہ افزائی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی طاقت افغان قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکی اور پاکستانی رجیم بھی اس قاعدے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔




















































