پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب فیصلے عوامی امنگوں اور زمینی حقائق کے بجائے بند کمروں میں مخصوص میٹرک پاس فوجی مائنڈ سیٹ کے تحت کیے جائیں تو ریاستیں ترقی نہیں کرتیں، بلکہ اپنی ہی جڑیں کھوکھلی کرنے لگتی ہیں۔ امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ کی حالیہ رپورٹ کہ جس میں بظاہر انکشاف کیا گیا ہے کہ ‘پاکستانی فوج اور اس کے انٹیلی جنس حکام نے افغانستان کے اسلامی نظام کے مخالف گروہوں سے خفیہ ملاقاتیں کیں، کوئی حیران کن خبر نہیں ہے۔’
یہ خبر یا انکشاف پاکستان کی اُس دیرینہ اور ناکام فوجی ڈاکٹرائن کا تسلسل ہے، جس نے پاکستان کو ہمیشہ فائدے کے بجائے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب ملک شدید معاشی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، فوج و انٹیلی جنس کی جانب سے پڑوسی ملک میں ایک نئی نیابتی جنگ (Proxy War) چھیڑنے کی یہ کوششیں نہ صرف ایک تزویراتی حماقت ہیں، بلکہ بجائے خود پاکستانی ریاستی بقا کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہیں۔
پاکستان کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ جن فوجی پالیسیوں کے نام پر اُن کے خون پسینے کی کمائی کا 70 سے 80 فیصد حصہ دفاعی بجٹ کی نذر کر دیا جاتا ہے، اُن کا حاصل کیا نکلا؟ جموں و کشمیر میں دہائیوں تک درجنوں مسلح تنظیمیں بنا کر پراکسی کھیل کھیلا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان سفارتی محاذ پر تنہا ہو گیا، معیشت تباہ ہوئی اور بالاآخر جنرل اشفاق کیانی کی عسکری کمانڈ کو خود اعتراف کر کے کشمیر پالیسی سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ مقبوضہ کشمیر مستقل طور پر نئی دہلی کے مکمل کنٹرول میں چلا گیا اور اسلام آباد تماشا دیکھتا رہ گیا۔
پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس نے کشمیر میں اپنی اس تاریخی ناکامی سے سبق سیکھنے کے بجائے یہی مہم جوئی افغانستان میں دہرا رہی ہے۔
جب اکتوبر 2025 سے لے کر 2026 کے وسط تک افغان سرزمین پر براہِ راست فضائی اور ڈرون بمباریاں کر کے بھی فوج اپنے مذموم اور خود ساختہ مقاصد حاصل نہ کر سکی تو اب وہ شکست خوردگی کے نچلے ترین درجے پر اُتر آئی ہے، جہاں امارتِ اسلامیہ کے خلاف سابق جمہوری افغان فوج کے کرائے کے قاتلوں اور باغی گروہوں کو گود لیا جا رہا ہے۔
ساتھ ہی امارت اسلامیہ کے بیانیے کے بعد اب ایرانی میڈیا نیٹ ورک ‘تسنیم نیوز ایجنسی’ کے حالیہ انکشافات پاکستانی شہریوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں، جن کے مطابق پاکستانی فوج نے سابق افغان جمہوری حکومت کے بھاگے ہوئے فوجیوں اور کمانڈوز کو بلوچستان میں پناہ دے رکھی ہے۔
ان کرائے کے فوجیوں کو نہ صرف افغانستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، بلکہ خود بلوچستان کے اندر بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے خلاف کاؤنٹر انسرجنسی(Counterinsurgency) کے لیے اُتارا جا رہا ہے۔
اپنے ناراض شہریوں سے نمٹنے اور داخلی مسائل حل کرنے کے لیے دوسرے ملک کے بھگوڑے فوجیوں کا سہارا لینا کسی طاقت ور فوج کی نہیں، بلکہ ایک انتہائی کمزور اور فکری طور پر مفلوج فوجی نظام کی علامت ہے۔ یہ پالیسی صرف عسکری طور پر بے وقوفانہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان اور افغانستان کی آنے والی نسلوں کے درمیان ایک سدا بہار اور مستقل نفرت کاشت کرنے کی ہولناک سازش ہے۔
اس پراکسی کھیل کا خمیازہ خیبر پختونخوا بھگت رہا ہے، جہاں تحریک طالبان پاکستان کے بڑھتے اثر و رسوخ اور متوازی نظام (Shadow Governance) کے باعث عسکری اسٹیبلشمنٹ صوبے پر کنٹرول کھو چکی اور بوکھلاہٹ میں وہاں بظاہر عارضی طور پر گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج شاید اِس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اُس کا یہ خفیہ کھیل پوشیدہ رہے گا، لیکن امارت اسلامی افغانستان کی بیدار مغزی نے اُس کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ ستمبر 2026 کے آواخر میں افغان صوبے نورستان کے ضلع کامدیش میں ڈیورنڈ لائن پار سے داخل ہونے والے جس مسلح جتھے (جس میں داعش اور سابق افغان فوجی شامل تھے) کو افغان فورسز نے گھیر کر ہلاک اور گرفتار کیا، وہ پاکستانی انٹیلی جنس کی حکمتِ عملی کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ ہے۔
دو دہائیوں تک دنیا کی سپر پاورز کو دھول چٹانے والی افغان قوت کو اس طرح کی بھونڈی پراکسیز سے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ کابل حکومت نے بارہا ثابت کیا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں عسکریت پسندی پاکستان کے داخلی مسائل ہیں اور پاکستانی فوج کی جانب سے ان کا الزام افغانستان کو دیا ہی جاتا ہے، تب بھی امارت اسلامیہ ہمسائیگی کے تناظر میں ان مسائل کو امن اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا موقف رکتھی ہے۔ تاہم اگر پاکستان کی جانب سے جنگ مسلط کی گئی تو امارت اسلامیہ اپنے نظام کا دفاع کرنا بخوبی جانتی ہے۔
لہذا پاکستان کے عوام کو اب یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ ‘آخر کب تک چند فوجی جرنیلوں اور انٹیلی جنس بیوروکریٹس کے جیو پولیٹیکل ایڈونچرازم (Geopolitical Adventurism) کی قیمت یہ ملک اپنی بقا، معیشت اور جغرافیائی ٹکڑوں کی صورت میں چکاتا رہے گا؟ سقوطِ ڈھاکہ کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، جہاں عوامی مینڈیٹ کو کچلنے اور طاقت کے اندھے استعمال نے ملک کو دو لخت کر دیا۔ آج خیبر پختونخوا اور بلوچستان جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، وہاں پراکسیز کا یہ کھیل پاکستان کو ایک نئے اور بھیانک جغرافیائی حادثے کی طرف دھکیل رہا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ ادارے اپنے تزویراتی کھلونوں کو خیرباد کہیں، اپنی شکست تسلیم کریں اور سکیورٹی پالیسی کو مکمل طور پر عوامی اور سیاسی قیادت کے تابع کر کے پڑوسی ممالک کے ساتھ برابری اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں، ورنہ جو گڑھا دوسروں کے لیے کھودا جا رہا ہے، ایک دن وہ پوری ریاست کو نگل جائے گا۔


















































