تیسرا سبب – پاکستان کے خفیہ اداروں کی رسوائی اور کمزوری:
تیسرا سبب، جس کی بنیاد پر پاکستان زوال کی طرف بڑھ رہا ہے، وہ اس کے خفیہ اداروں کی رسوائی اور کمزوری ہے۔ پاکستان کے انٹیلیجنس ادارے عملی کارکردگی کے بجائے زیادہ تر تشہیری اور پروپیگنڈا کی حیثیت رکھتے تھے، لیکن اب ان اداروں کا اصل چہرہ نہ صرف پاکستانی عوام پر بلکہ ان کے مخالفین پر بھی ظاہر ہوچکا ہے۔
کئی سال پہلے پاکستانی عوام کے ذہنوں میں پروپیگنڈے کے ذریعے یہ تصور بٹھایا گیا تھا کہ گویا پاکستان کا ہر تیسرا شخص فوج یا حکومت کا جاسوس ہے۔
لوگ اس قدر خوف میں مبتلا کر دیے گئے تھے کہ اگر کہیں کوئی سیکورٹی واقعہ پیش آتا، تو فوراً کہا جاتا:: ’’یہ تو آئی ایس آئی کی مرضی سے ہو رہا ہے۔‘‘
عوام ذہنی طور پر اس حد تک آئی ایس آئی کے اثر میں آچکے تھے کہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ ہماری کوئی بات، کوئی حرکت، اس کے علم سے پوشیدہ نہیں۔
اسی طرح، آئی ایس آئی کے بارے میں عمومی تصور یہ تھا کہ گویا یہ ادارہ پورے ملک اور عوام پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے، بدعنوانی سے پاک ہے، اور جو کچھ کرتا ہے وہ قوم اور ریاست کے مفاد میں ہوتا ہے۔
لیکن گزشتہ پانچ، چھ برسوں میں پاکستانی طالبان اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی تحریکوں نے آئی ایس آئی کے تمام دعوے اور پروپیگنڈے بے نقاب کر دیے ہیں۔
عوام پر آشکار ہوگیا کہ آئی ایس آئی دراصل عملی صلاحیت سے زیادہ ایک تشہیری ادارہ ہے، اور اس کے اکثر افسران بدعنوان اور عیاش لوگ ہیں۔
انہوں نے ملک کے مفاد کو ترجیح دینے کے بجائے، دن رات عوام پر حکمرانی اور ان کے معاملات میں مداخلت کو اپنا معمول بنا رکھا ہے۔ ان کی بے شرمی یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے ظالم، اسرائیل، کے ساتھ بھی خفیہ تعلقات اور سودے بازیاں کر رہے ہیں۔
پاکستانی عوام کی عزت و ناموس پر ان خفیہ اداروں کے مسلسل ظلم و ستم نے لوگوں پر یہ حقیقت اور بھی واضح کردی کہ آئی ایس آئی وہ ادارہ نہیں ہے جو عوام کی بھلائی کے لیے کام کرتا ہے۔
پہلے جب آئی ایس آئی کسی کو ناحق قتل کرتی، تو لوگ کہا کرتے تھے: ’’یقیناً یہ شخص قصوروار تھا، کیونکہ آئی ایس آئی بلا وجہ کسی پر ظلم نہیں کرتی۔‘‘
لیکن اب یہ سوچ بدل چکی ہے۔ آج کے زیادہ تر پاکستانی جان چکے ہیں کہ آئی ایس آئی اپنی ذاتی مفادات اور مغربی ممالک کے منصوبوں کے نفاذ کے لیے ناحق قتل و غارت کرتی ہے۔
آئی ایس آئی کے وہ پرانے جھوٹ بھی آشکار ہوگئے ہیں جن میں کہا جاتا تھا کہ ’’پاکستان کی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے۔‘‘
اب جبکہ آئی ایس آئی کا وہ پرانا خوف عوام کے ذہنوں سے نکل چکا ہے، لوگوں میں حوصلہ اور جرأت پیدا ہوچکی ہے کہ وہ اپنا حق طلب کریں اور حق و باطل میں خود فیصلہ کریں۔
یہی تبدیلی مسلح مخالف قوتوں کے لیے ایک موقع بن گئی ہے کہ وہ عوامی حمایت حاصل کریں اور ان سے مدد لیں۔
یہی وہ وجہ ہے کہ آج پاکستان کے فوجی نظام کے خلاف ایک شدید طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے، جس نے حکومت کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا ہے۔
لیکن حقیقت کا ادراک کرنے کے بجائے، وہ اپنی ناکامیوں کا الزام پڑوسی ممالک پر تھوپ رہی ہے۔




















































