یوں تو پاکستان روز اول سے تقسیم کی کشتی میں ڈانواں ڈول ہچکولیاں کھارہا ہےـ کبھی سوات کا قضیہ تو کبھی بلوچستان اور خان آف قلات سے کشمکش اور پھر بنگلہ دیش جیسی کثیر آبادی سے مالامال حصہ جدا ہوتے اور بکھرتے نظر آرہا ہےـ مگر بعد میں پاکستانی ریاست کی مقتدرہ کی ناکام پالیسیوں نے پاکستان کے عام عوام کے دلوں میں جہاں نفرت بھری ہیں وہیں سب کو احساس کمتری میں بھی مبتلی کردیا ہیں۔ ساتھ میں اسلامی تعلیمات، دینی اقدار اور شعائر پر سے بدظنی بھی حقیقی اور واقعی صورتحال کی بنیاد پر جنم دی ہیں۔ جس کے باعث ملک کے طول وعرض میں کسی نے احساس کمتری کی خاطر جلاو گھیراو کا سلسلہ شروع کردیا ہیں تو کسی نے اسلامی اقدار کو بچانے کی مہم شروع کر رکھی ہیں اور کوئی بچا ہے تو اس نے بڑے ہی حکیمانہ انداز میں عوامی شعور بیدار کرنے کا طوفان مچا رکھا ہےـ
گزشتہ دنوں لاہور میں ’’عاصمہ جہانگیر کانفرنس‘‘ میں ایک دلچسپ واقعہ یہ رونما ہوا کہ بلوچستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاستدان اور بلوچستان کے بااثر شخص سردار اختر جان مینگل بلوچ نے ایک ہنگامہ خیز مگر حقائق کے عین مطابق بیان دے ڈالاـ انہوں نے شروع میں ایک تاریخی دستاویز دکھائی جس میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح اور خان آف قلات کے درمیان ایک معاہدہ کی سند ثبت تھی۔
سردار اختر جان مینگل نے واضح کیا جو معاہدہ خان آف قلات اور محمد علی جناح کے درمیان ہوا تھا اس کا ایک ذرہ بھی پاکستانی ریاست نے آج تک نافذ نہیں کیا ہے، نافذ کیا کرتے بلکہ یہاں تو اس کی دھجیاں اڑادی گئی ہیں ـ سردار صاحب نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے گزشتہ اٹھتر سال سے کوشش کی ہے کہ کسی طرح ریاست کے ساتھ ہم آہنگ ہو سفر طے کریں مگر ریاست نے ہمیں ہمیشہ پیچھے دھکیلا ہےـ
میرے والد سردار عطاؤ اللہ مینگل عوامی مینڈیٹ سے وزیر اعلی بنےـ ریاست نے اسے منظور نہیں کیاـ میں خود وزیر اعلی بنا مگر ریاست نے زور زبردستی مجھے ہٹادیاـ اور پھر کئی نام گنوالئے کہ ان سب کو ریاست نے عوامی مینڈیٹ کے باوجود نمائندگی کرنے کا حق نہیں دیاـ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ریاست ہماری کوشش کے باوجود ہمیں ساتھ چلنے چلانے پر راضی نہیں ہے اور گزشتہ قریب آٹھ دہائیوں میں یہ ثابت بھی ہوا ہےـ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کا وہ جملہ دہرالوں جو انہوں نے بنگلہ دیش کے سربرآوردہ لوگوں سے کہا تھا کہ تم ادھر، ہم ادھر، اس لئے کہ مزید اس میں کچھ رہا ہی نہیں ہےـ ان کا یہ جملہ اس موقع پر اور بھی زیادہ دلچسپ تھا کہ ریاست ہمارے ساتھ چلنے پر راضی نہیں تو ہمیں اپنا ہمسایہ ہی بنادےـ
یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سردار اخترجان مینگل پاکستانی سیاست کا ایک بہت ہی معزز چہرہ ہیں۔ ان کی زندگی پوری کی پوری سیاست میں کٹی ہےـ بلکہ وہ تو سیاست کو میراث میں پاچکے ہیں اور ان سے قبل ان کے والد بھی ایک نامی گرامی سیاست دان تھےـ وہ سیاست کے داو پیچ سے واقف ہیں اور سیاست کے نشیب وفراز سے بخوبی آگاہ ہیں۔ بایں ہمہ وہ اس قدر مایوس یوچکے ہیں کہ اب بلوچستان کو پاکستان کا ہمسایہ بنانے کی آفر کررہے ہیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے کہ اخترجان مینگل نے بلوچستان میں مسلح مزاحمت کاروں کو اپنی گفتگو میں ایک طرح سے جواز فراہم کرنے کی کوشش کی، ان.کا کہنا تھا کہ نوجوان ہماری بات ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ وہ ریاستی دھونس دھمکیاں اور جبر وتسلط کو دیکھ رہے ہیں؛ اس لئے مجبور ہوکر ہم ہی جا کر ان کی مزاحمت میں شامل ہوجائیں گےـ
یہاں ایک اور حیران کن بات پاکستان کے نامور صحافی حامد میر نے کی، ان کا کہنا ہے کہ جس وقت عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اخترجان مینگل نے بلوچستان علیحدگی کا نعرہ لگایا تو ہال میں بیٹھے پنجاب اور سندھ سے متعلق تمام لوگوں نے زوردار طریقہ سے تالیاں بجائیں ـ جس کا واشگاف الفاظ میں مطلب یہ تھا کہ یہ سب شرکاء کانفرنس اختر جان مینگل صاحب کی بات سے متفق تھےـ اب حامد میر نے یہ تو نہیں بتایا کہ کس بات میں متفق تھے؛ لیکن حالات سے پتہ یہ چلتا ہے کہ اخترجان مینگل نے ایک ایک کرکے ریاستی ظلم وجبر اور معاہدوں سے انحراف کی بات کی تو شرکاء سارے کے سارے متفق تھے کہ وہ یہ سب کچھ سننے کے ساتھ ساتھ محسوس بھی کرچکے تھے اور عینی گواہ بھی تھےـ
حامد میر ایک اور چونکا دینے والی بات یہ بھی کرگئے کہ اخترجان مینگل کے بعد وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بات کی اور بلوچستان کی آزادی کی مذمت کے ساتھ بصورتِ دیگر سخت آپریش اور کولٹرل ڈیمیج کی بات کی تو شرکاء بطور احتجاج کانفرنس ہال سے نکلنا شروع ہوگئےـ جس کا اس کے سوا اور کیا مقصد ہوسکتا ہے کہ جس ظلم کی کارستانیوں سے اہلیانِ بلوچستان تنگ آکر ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں پر چلے گئے ہیں تم اس ظلم کا تو سد باب نہیں کرسکتے الٹا پھر سے دھمکیاں دے رہے ہو؟
اس لئے ہمیں یہاں بیٹھنا اور تمہارا بیان سننا ہی گوارا نہیں اور یہ جو شرکاء بطور احتجاج نکل پڑے تھے ان کا تعلق پنجاب اور سندھ سے تھاـ گویا سندھ اور پنجاب کے باشندوں کو خوب پتہ ہے کہ بلوچستان کے ساتھ وحشت اور بربریت ہوتی چلی آرہی ہےـ اور اس کا حل ان کے نزدیک بھی صرف اور صرف یہ ہے کہ بلوچستان کو پاکستان کا ایک بہترین ہمسایہ بنادیا جائےـ
اگرچہ پاکستان میں مختلف صوبوں کے اندر ریاستی جبر واستبداد کے بدولت آزادی کی لہریں اٹھ رہی ہیں، سندھ میں سندھی اور بلوچ، پنجاب میں سرائیکی اور کے پی کے میں ہزارہ سمیت متعدد قومیں اشارے دے رہی ہیں۔ مگر بلوچستان میں یہ مسئلہ کچھ زیادہ شورش اختیار کرگیا ہےـ ایک طرف مسلح مزاحمت ہے جو آئے روز بڑے بڑے شہروں کو یرغمال بنادیتا ہےـ دوسری طرف سیاسی سطح پر بلوچستان کے قد آور لوگ ریاستی پالیسی سے مزید بیزار ہو کر سامنے آرہے ہیں۔
تیسری طرف مذہبی طبقہ بھی دھیرے دھیرے دل میں چھپی نفرت کو مزید دبا نہیں سکتےـ حالیہ دنوں متعدد پلیٹ فارمز پر مذہب سے وابستہ اہل علم اور روحانی پیشوا یہ بات کرتے چلے آرہے ہیں کہ پاکستان بنتے وقت بلوچستان ’’قلات ریاست‘‘ کے نام سے ایک آزاد اور خود مختار ریاست تھاـ پاکستان کے ساتھ الحاق اس شرط پر ہوا تھا کہ یہاں شرعی نظام قائم رہے گا۔ مگر آج سات دہائیوں بعد بھی شریعت کی رمق نہیں ہےـ بلکہ جو تھی وہ بھی ختم کردی گئی اور مسلسل ختم کرتی جارہی ہےـ اس لئے بلوچستان کو اپنی اصل کی طرف لوٹ ہی جانا چاہیےـ سیاست، مذہب اور ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کا یہ حال کھلم کھلا بتارہا ہے کہ پاکستان تقسیم کے خطرناک گھڑے کے کنارے آ پہنچا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ یہ لاوا پھٹ جائےـ




















































