پاک افغان سرحد کی دھندلی فضاؤں میں جب بارود کی بو پھیلتی اور توپوں کی گرج سنائی دیتی ہے تو ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف بسنے والے عام مسلمان کے دل میں ایک ایسا سوال جنم لیتا ہے، جو اسے اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ لوگ حیرت اور اضطراب سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کلمہ گو مسلمانوں کی اس زمین پر یہ کیسا معرکہ بپا ہے؟ کیا یہ جنگ دو ایسے بھائیوں کی ہے… جن کا دین، جن کی تاریخ، جن کی ثقافت اور جن کا قبلہ ایک ہے؟ یا پھر یہ محض دو ریاستوں کی سیاسی اور سرحدی اَن بَن ہے؟
تاہم جب ہم اس اُلجھن اور سوال کی گہرائی میں اُترتے اور جغرافیائی و تاریخی غبار کو ہٹا کر دیکھتے ہیں تو سچی بات یہ کُھل کر سامنے آتی ہے کہ ‘یہ نہ تو دو عوام کے درمیان کوئی قومی خصومت ہے اور نہ ہی یہ محض دو پڑوسی ملکوں کی روایتی سرحدی جھڑپ ہے۔ یہ بنیادی طور پر دو متضاد نظاموں، دو مختلف فکری محوروں اور دو جداگانہ ترجیحات کا تصادم ہے۔’
اس الجھن کو سلجھانے کے لیے سب سے پہلے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ امارت اسلامی افغانستان نہ تو پاکستان سے جنگ کی خواہش مند ہے اور نہ ہی اس نے کبھی اس راہ کو خود اختیار کیا ہے۔ کابل کی پالیسی اور رویّہ اس بات کا شفاف ثبوت ہے کہ وہ اسلام آباد کے ساتھ دیرپا امن، باہمی احترام اور تجارتی و سفارتی روابط کی مضبوطی چاہتی ہے۔
اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ یہ کہ امارت اسلامی کے نزدیک پاکستان کوئی غیر یا بیگانہ خطہ نہیں، بلکہ اپنے سیاسی و فوجی اشرافیہ کے نظام سے قطع نظر، عوام کی حد تک یہ ایک بیدار اور متحرک مسلمان خطہ ہے۔ وہاں صدیوں سے علمی و دینی منارے قائم ہیں، مساجد کی صفیں آباد ہیں، علمائے کرام کا احترام موجود اور گلی کوچوں میں اسلام کے شعائر کی پابندی کی جاتی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ دونوں خطوں کے درمیان رشتوں کی وہ مضبوط طنابیں بندھی ہیں، جنہیں کوئی سیاسی طوفان توڑ نہیں سکتا۔ تاریخی بندھن ہوں یا سیاسی و تجارتی ضرورتیں… قبائلی قرابت داریاں ہوں یا جغرافیائی پیوستگی… دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ سانس لیتے ہیں۔
مثال کے طور پر سرحدی علاقوں میں رہنے والے قبائل کی مثال بالکل ایک ایسے گھر کی سی ہے، جس کے صحن کے بیچ میں ایک عارضی دیوار اٹھا دی گئی ہو۔ ایک ہی خاندان کی ایک شاخ چمن یا طورخم کے اِس پار بس رہی ہے تو دوسری شاخ اُس پار… ان کا غم، ان کی خوشی، ان کا بازار اور ان کا قبرستان تک سانجھا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کوئی بھی ذی شعور قیادت جنگ کا ایندھن بننے کی غلطی نہیں کر سکتی۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی ڈیورنڈ پر تناؤ بڑھا یا اشتعال انگیزی ہوئی… امارت اسلامی کی طرف سے انتہائی ضبطِ نفس، تدبر اور محتاط جوابی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا گیا۔ امارت خوب جانتی ہے کہ اگر ایک بار یہ چنگاری شعلہ بن گئی تو اس کی لپیٹ میں دونوں طرف کے بے گناہ مسلمان آئیں گے اور خوامخواہ کی یہ کشیدگی ایک ایسی تباہ کن آفت میں بدل جائے گی، جس کا فائدہ صرف خطے کے بدخواہوں کو ہوگا۔
اگر بالفرضِ محال یہ کشیدگی ایک ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو دونوں جانب کا نقصان اس قدر ہولناک ہوگا کہ جس کا تصور بھی کپکپی طاری کر دیتا ہے۔ افغانستان کی بات کریں تو افغان عوام نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک بارود کا دھواں دیکھا ہے، لاکھوں جنازے اٹھائے ہیں اور بے وطنی کا عذاب جھیلا ہے۔ اب کہیں جا کر اِنہیں امن و امان کی سانس نصیب ہوئی ہے اور دہائیوں کی قربانیوں کے بعد یہاں ایک اسلامی نظام کا سورج طلوع ہوا ہے۔ جنگ کا مطلب یہ ہوگا کہ امن کی اس قیمتی نعمت کو داؤ پر لگا دیا جائے اور ترقی و بحالی کے سفر کو دوبارہ صفر پر دھکیل دیا جائے۔
دوسری طرف اگر پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو اُس کے لیے یہ معرکہ کسی ساہوکار کے اُس آخری داؤ جیسا ہے، جو اسے مکمل دیوالیہ پن کی طرف لے جائے گا۔ پاکستان کی معاشی حالت اس وقت جس نازک موڑ پر کھڑی ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ معیشت کا سارا ڈھانچہ غیر ملکی قرضوں اور امداد کی بیساکھیوں پر ٹکا ہوا ہے۔
حالت یہ ہے کہ ایک طرف چین سے جا کر سابقہ قرضوں کی معافی کی التجا کی جا رہی ہے، دوسری طرف خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب سے طویل المدتی ادھار پر تیل دینے کی درخواستیں کی جاتی ہیں اور تیسری طرف امریکی ایوانوں میں جا کر یہ گلہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے نائن الیون کے بعد آپ کی نام نہاد ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ میں اپنے نوّے ہزار شہریوں اور فوجیوں کی قربانیاں دیں، لہذا ان خدمات کے عوض ہمیں اربوں ڈالر کا ریلیف دیا جائے۔
جب کسی ملک کی معاشی حالت ایسی ہو کہ عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی ایک نایاب خواب بن جائے اور تنگ دستی و غربت اس حد تک بڑھ جائے کہ لوگ مسائل سے نجات کا واحد ذریعہ خودکشی میں ڈھونڈنے لگیں تو ایسی صورت میں جنگ مول لینا اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوتا ہے۔
پاکستان کے اندر کا معاشرتی اور معاشی بحران ایک ایسے بارود کے ڈھیر کی مانند ہو چکا ہے، جسے جلانے کے لیے صرف ایک چنگاری ہی کافی ہے۔ عوام کا اپنی حکمران اشرافیہ سے اعتماد اس حد تک اٹھ چکا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو کر مرنے مارنے تک آ چکا ہے۔
جب ہم ان تمام حقائق و شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے اس معرکے کی اصل ہیئت کا تجزیہ کرتے ہیں تو بات بالکل شیشے کی طرح صاف ہو جاتی ہے۔ یہ جنگ نہ افغان اور پاکستانی عوام کے درمیان ہے اور نہ ہی دو مسلم ریاستوں کی روایتی سرحدی جنگ ہے۔ یہ بنیادی طور پر دو مختلف معرکوں اور نظریات کا تصادم ہے۔ ایک طرف افغانستان کا وہ نظام ہے… جو اسلامی شریعت کی حاکمیت، آزادی اور خودداری کی بنیاد پر قائم ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان کی فوجی و سیاسی اشرافیہ کا وہ مفاداتی نظام ہے، جو دہائیوں سے مغربی اور خصوصاً امریکی مفادات کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کا زیادہ پرانا صفحہ پلٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نائن الیون کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر ناحق حملہ کیا تو پاکستانی فوجی اشرافیہ نے اپنے فوری مفادات اور ڈالر کے عوض امریکی اتحاد کا فرنٹ لائن اتحادی بننا قبول کیا۔ افغان عوام پر جو بمباری کی گئی اور جو نظام مسلط کیا گیا، اس میں پاکستان کے فوجی اڈوں اور لاجسٹک سپورٹ کا کتنا بڑا ہاتھ تھا، یہ ایک کھلی حقیقت ہے۔ اور جب بیس سالہ طویل جدوجہد کے بعد امریکا کو افغانستان میں شکست فاش ہوئی اور وہ یہاں سے ناکام و نامراد لوٹا تو اس کے بعد بھی پاکستانی فوج کے امریکا کے ساتھ پرانے گٹھ جوڑ کی بُو خُو ختم نہ ہو سکی۔
اس کا سب سے بڑا اور واضح ثبوت خود پاکستان کے اندر سے سامنے آنے والے وہ بیانات ہیں، جو اُن کی اپنی زبانی سچائی کا اعتراف کرتے ہیں۔ جب سے ڈیورنڈ لائن پر نئے سرے سے کشیدگی مسلط کی گئی ہے… پاکستان کے خود کئی نام نہاد سیاست دان، تجزیہ نگار اور فوج و انٹیلی جنس کے سوشل میدیا ہینڈلرز پُرجوش انداز میں یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ ‘جو کام امریکا بیس سال میں افغانستان میں نہ کر سکا، وہ ہماری بہادر فوج نے چند دنوں میں کر دکھایا!’
ذرا رُک کر اس مذکورہ جملے کی گہرائی پر غور کیجیے… امریکا افغانستان میں کوئی تعلیم یا اسلام کی اشاعت کا کام کرنے تو نہیں آیا تھا۔ وہ ایک طاقت ور ظالم کی حیثیت سے اسلامی نظام کا خاتمہ کرنے اور اپنے کٹھ پتلی سیٹ اَپ کو قائم رکھنے آیا تھا، جس میں وہ ذلت آمیز طریقے سے ناکام ہوا۔ اب جب پاکستانی فوجی اور سرکاری بیانیے کے گماشتے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ جو کام امریکا بیس سال میں نہ کر سکا، وہ پاکستانی فوج نے چند دنوں میں کر دکھایا ہے تو اس کا صاف اور سیدھا مطلب اس کے سوا کیا نکلتا ہے کہ جس مذموم و اسلام دشمن مشن کو امریکا ناکام چھوڑ کر بھاگ گیا تھا، اس باطل مشن کو آگے بڑھانے کی ذمے داری اب پاکستانی فوجی نظام نے اپنے سر لے لی ہے…؟
یہ ایک ایسا نکتہ ہے، جہاں ہر مسلمان کو بصیرت اور کھلے ذہن سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جب دو مختلف فکری اور سیاسی صفیں بالکل واضح ہو کر سامنے آ چکی ہوں تو پھر یہ معاملہ صرف سرحدی دفاع یا قومی و وطنی جذبات کا نہیں رہتا، بلکہ یہ فکر اور عقیدے کا امتحان بن جاتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ اور انسانی تاریخ کا یہ ازلی اصول ہے کہ انسان جس فکر، جس باطل یا حق کے نظام اور جس صف کی حمایت کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اس کا شمار اُسی صف کے لوگوں میں ہوتا ہے۔
دنیاوی فائدے، قوم پرستی کے نعرے یا وقتی سیاسی مفادات انسان کو گمراہ کر سکتے ہیں، لیکن آخرت کے دائمی نظام میں فیصلہ اسی بنیاد پر ہوگا کہ ‘انسان نے باطل کے آلہ کار نظام کا ساتھ دیا تھا یا حق اور اسلام کے قائم کردہ نظام کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا تھا…؟’
اس لیے ہر صاحبِ ایمان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ حقیقت کے اس بنیادی فرق کو سمجھے، پروپیگنڈے کے دباؤ میں آئے بغیر اپنے دینی و اخلاقی موقف کا تعین کرے اور یہ بات یاد رکھے کہ میدانِ محشر میں ہر شخص کا حشر اسی صف کے ساتھ ہوگا، جس کا اس نے اس دنیا میں انتخاب کیا تھا۔




















































