پچھلی اقساط میں ہم نے پڑھا کہ جو کوئی بھی یہود کی بدنما شبیہ کو پہچاننا چاہتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی ایک ایک خصلت کو جانے۔ تو اسی بنیاد پر، یہود کی ایک اور خصلت کا جائزہ اس قسط میں لیں گے۔
۴: اخلاقی اصولوں میں بے پروائی
اخلاقی مسائل میں عدم پابندی اسرائیل کے اعمال کی بنیاد ہے، خاص طور پر مسلمانوں، عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف۔ اسرائیلیوں کا فلسفہ اس نظریے پر مبنی ہے کہ اخلاق تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ان میں ثبات نہیں ہوتا، اس لیے اخلاقی اصول یکساں نہیں ہوتے۔ اسی سوچ کی بنیاد پر یہود دوہرا رویہ رکھتے ہیں، ایک اپنوں کے ساتھ اور دوسراغیر یہودیوں کے ساتھ۔
اسی طرح، اسرائیل کے لیے حلت و حرمت کا معیار نفسانی خواہشات پر مبنی ہوتا ہے۔ جو چیز بھی ان کی خواہشات سے ہم آہنگ ہو، چاہے وہ بری ہی کیوں نہ ہو، وہ اسے اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ ایک اور فلسفہ جو اسرائیل اور یہود میں موجود ہے وہ یہ ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیےہر طرح کا طریقہ اپنانا جائز سمجھتے ہیں، چاہے اس سے دوسروں کے حقوق و اقدار کی پامالی ہو۔
لہذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اسرائیل ان معاہدوں اور عہدوں میں پابند نہیں رہتا جو اس کے مفاد میں نہ ہوں، لیکن جن میں اسے فائدہ ہو، ان میں خود کو پابند سمجھتا ہے۔
تقریباً ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے جو بھی مظالم یہود اور اسرائیل نے فلسطین کے مظلوم عوام پر کیے ہیں، وہ صرف مسلمانوں، بچوں اور عورتوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ جانور اور پودے بھی ان کے مظالم کا شکار ہوئے ہیں۔ یہود کا یہی رویہ اور اخلاق، جو اخلاقی اصولوں کی پابندی نہیں کرتا، کوئی عارضی خصلت نہیں ہے، بلکہ اس کی جڑیں ان کی تاریخ میں گہری ہیں اور ان کی ابتدائی نسلوں تک جاتی ہیں۔ وہاں سے جہاں بہترین انسانوں، یعنی انبیاء علیہم السلام کو بھی قتل کیا گیا۔
یہ سب وہ حقائق ہیں جو یہود کے اخلاق کی حقیقت بیان کرتے ہیں، ایسے اخلاق جن میں کبھی اخلاقی اصولوں کی رعایت نہیں کی جاتی۔ اس کے برعکس، مسلمان اخلاقی اصولوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور اخلاقی مسائل میں پابندی ایک مسلمان کی دینی اور ایمانی ذمہ داری ہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو عالمی سطح پر یہ پیغام دیا اور فرمایا:
إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق
ترجمہ: "مجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں بلند اخلاق کو مکمل کروں۔”
اسلام میں کوئی چیز اخلاق سے الگ نہیں، معیشت اخلاق سے الگ نہیں، جنگ بھی اخلاقی دائرے سے باہر نہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ اگر ایک مسلمان اپنے ہدف تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے پاکیزہ وسائل استعمال کرنے چاہییں۔ اسلام کبھی یہ نہیں تسلیم نہیں کرتا کہ کوئی باطل کے ذریعے حق تک پہنچ سکتا ہے۔




















































