فتح کے دن کے ثقافتی پہلوؤں اور جڑوں کے بارے میں بحث کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ مختصر تمہید کے طور پر اس اہم دن کے سیاسی اور تزویراتی پہلو پر بھی کچھ روشنی ڈالی جائے۔ جیسا کہ پوری دنیا پر واضح ہے، ۲۴ اسد یا ۱۵ اگست افغانستان کی معاصر تاریخ میں ایک معمولی دن نہیں ہے، یہ صرف افغانستان سے وابستہ نہیں بلکہ پوری دنیا، بالخصوص نیٹو اور امریکہ، کی تقدیر بھی اس سے وابستہ ہے۔
امریکہ اور اس کے ساتھ اس کے فوجی اتحاد نے تقریباً پچیس سال قبل ایسے وقت میں افغانستان پر قبضے کا اتحاد قائم کیا جب ہمارا ملک نہ کسی ملک کے لیے خطرہ تھا اور نہ ہی ۱۱ ستمبر کے واقعے سے اس کا کوئی تعلق تھا، لیکن اصل حقیقت یہ تھی کہ افغانستان میں خانہ جنگیوں کا خاتمہ کرنے والی امارت اسلامیہ مغرب اور امریکی اتحاد کے لیے قابلِ قبول نہیں تھی۔ یہ خالص اسلامی اور اپنی اقدار پر قائم نظام خطے اور دنیا کے اسلامی ممالک کی سطح پر اپنی نوعیت کی کوئی مثال بھی نہیں رکھتا تھا۔
دوسری جانب، خفیہ اداروں کے مفاد پرست عناصر اور اسلام مخالف عناصر جانتے تھے کہ اسلامی اقدار سے امارت اسلامیہ کی وابستگی اس نظام کو افغانستان اور خطے کے ایک طاقتور ملک میں تبدیل کر دے گی، جس کے بعد اس کی روک تھام ان کے لیے مشکل ہو جائے گی۔ اس وقت کے امریکی صدر اور موجودہ دور میں صلیبی جنگوں کے بانی جارج بش نے اعلان کیا کہ یا تو تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف؛ اس کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے۔
انہی بیانات کی روشنی میں اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ ہر جدوجہد کامیابی اور فتح کے مقصد سے کی جاتی ہے اور اس کی کامیابیاں معاشرے کے مستقبل کا راستہ متعین کرتی ہیں۔ امارت اسلامیہ کی بیس سالہ جدوجہد صرف ایک عسکری تحریک نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی قومی تحریک تھی جس کی جڑیں لوگوں کی زندگی، ثقافت اور روزمرہ امور سے جڑی ہوئی تھیں۔ یہ ایک اسلامی اور افغان جدوجہد تھی، کیونکہ عوام کے گھر، حجرے، ڈیرے اور اپنے تمام وسائل قابضین کے خلاف مجاہدین کے لیے وقف تھے، اور اگر یہ حمایت نہ ہوتی تو کسی بھی صورت یہ ممکن نہ تھا کہ بے بس اور اسلحے سے محروم مجاہدین کی جدوجہد ایک عالمی طاقت کے مقابلے میں کامیاب ہو پاتی۔
اس کے برعکس، بیس سالہ قبضے کے ملکی اور غیر ملکی حامیوں کی شکست کا ایک راز یہ تھا کہ ان کی حکمرانی اور نظام کی ہماری سرزمین اور ثقافت میں کوئی جڑیں نہیں تھیں، وہ کسی بھی زاویے سے اپنے تسلسل کے لیے کوئی جائز بیانیہ تشکیل نہیں دے سکتے تھے، اسی لیے وہ عوام کے سامنے اجنبی تھے۔ امریکی اور نیٹو افواج کے بل بوتے پر مغرب سے لائے گئے ذمہ داران کی زبان، رسم و رواج، طور طریقے، رویے اور دیگر ثقافتی خصوصیات کبھی بھی افغانستان کے عام اور بے چاری عوام کی زندگی اور شناخت کا حصہ نہ بن سکیں؛ ہر چیز اجنبی تھی اور ہماری ثقافتی اقدار سے بیگانہ تھی۔ فوجیوں سے حتیٰ کہ بچے بھی بھاگتے تھے، مساجد، حجرے، جنازے اور شادی کی تقریبات بمباری کا نشانہ بنتی تھیں اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کے مخالفین کے اجتماع اور سرگرمیوں کے مراکز ہیں۔ بہت سے مواقع پر مردوں کی بے شرمانہ تلاشی کے ساتھ افغان خواتین کی تلاشی کے واقعات بھی ریکارڈ ہوئے، جو ردِعمل کا سبب بنے، لیکن یہ ردِعمل عام اور بیدار عوام کا تھا، ان اربکیوں اور کٹھ پتلیوں کا نہیں جنہیں قابض افواج اپنے ساتھ لیے پھرتی تھیں اور پھر ڈھال کے طور پر استعمال کرتی تھیں۔
اس دن کے لیے جتنی گولیاں اور بندوقیں چلیں، جتنے سر نذر کیے گئے، اتنے ہی قلم بھی حرکت میں آئے، اتنے ہی منبر سجائے گئے، تقریریں کی گئیں اور اشاعتیں ہوئیں، آزادی اور خودمختار زندگی کے ترانے گونجے، جن کا اثر بہت سے مواقع پر بندوق اور گولی سے بھی زیادہ بلند تھا۔ اب جبکہ ہم یوم فتح کی برسی کی دہلیز پر ہیں، اس دن کو محض نام کے طور پر نہیں منانا چاہیے، بلکہ اس سے بھرپور ثقافتی فائدہ اٹھایا جائے، اسے ثقافتی کوششوں کو مضبوط بنانے اور قومی اتحاد کی ایک علامت میں تبدیل کیا جائے۔
یہ دن کوئی معمولی دن نہیں، صرف افغانستان تک محدود کوئی ولولہ انگیز اور تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا متاثر کن دن ہے جس نے نیٹو، امریکہ اور ان کے علاقائی حامیوں کی تمام عسکری اور سیاسی حکمتِ عملیوں کو چیلنج کیا اور انہیں ثابت کر دیا کہ نظام عسکری تعاون سے نہیں بلکہ عوامی حمایت اور حاکمیت کے ذریعے برقرار رہتے ہیں۔
ضروری ہے کہ اس تاریخی دن کے وقوع، اس کے پہلوؤں اور اس کے تحفظ کے لیے محض کھوکھلی تعریفوں اور جشن منانے کے بجائے علمی اور اکیڈمک مباحث، سیمینار اور کانفرنسیں ترتیب دے کر پیش کی جائیں۔ اس حوالے سے تحقیقات، رسائل اور تخصصی تحریریں شائع کی جائیں، تاکہ ایک طرف ذہنوں کی بہتر آگاہی ہو اور دوسری طرف تحریری صورت میں آنے والی نسلوں کے لیے بھی یادگار کے طور پر باقی رہیں۔
اس دن کو جذباتی یادوں، یادداشتوں اور خود نمائی تک محدود نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کے تحفظ، تسلسل اور قومی حق کے حوالے سے سکولوں، مدارس اور یونیورسٹیز میں عملی نشستوں اور تجزیوں کی صورت میں اس کا احترام کیا جائے۔ عسکری حکمتِ عملی، معاشی اقدامات، تاریخی چیلنجز، سیاسی بصیرت اور امارت اسلامیہ کی مثبت خارجہ پالیسی اور سفارت کاری کی روشنی میں، حتیٰ کہ دوسری عالمی زبانوں میں بھی خطے اور دنیا کے ممالک کو قائل کیا جائے کہ افغانستان دوسروں کے سیاسی اور مسابقتی کھیلوں کا میدان نہیں بلکہ استحکام اور باہمی احترام پر مبنی تعاون کا مرکز ہے، اور جب بھی کوئی ان خطوط سے تجاوز کرے گا، اس کا نتیجہ ۲۴ اسد ہوگا اور افغان کبھی بھی کسی دوسرے کے تسلط اور احکامات کے تحت زندگی نہیں گزار سکتے۔



















































