معیشت اور انسانی سوسائٹی کا تعلق صرف اعداد و شمار سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسانی اخلاقیات اور عقائد کا عکاس ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں جب ہم معاشی اصلاحات کی بات کرتے ہیں تو سب سے بڑا علمی مغالطہ الفاظ کے لغوی اور اصطلاحی معنوں کے ہیر پھیر سے پیدا کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا اور عام بحثوں میں اکثر یہ نکتہ اٹھایا جاتا ہے کہ ‘عربی زبان کا لفظ رِبا اور اردو زبان کا لفظ سُود دو الگ الگ چیزیں ہیں۔’
اس مغالطے کو ہوا دینے کے لیے اردو کے ایک عام لفظ ‘سود مند’ یعنی فائدہ مند کی مثال دی جاتی ہے اور یہ تاثر اُبھارنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ‘چوں کہ سود کا لغوی معنی نفع یا فائدہ ہے، اس لیے ہر قسم کا سود حرام نہیں ہو سکتا۔’ یہ ایک ایسا علمی دھوکہ ہے، جو انسان کو شریعت کے ایک بنیادی اور قطعی حکم سے دُور کر دیتا ہے۔
عربی لغت میں لفظ رِبا کا اصل معنی بھی زیادتی، بڑھوتری یا نفع ہی ہے۔ تاہم اسلام نے انسانی معاشرے کو ظلم اور استحصال سے بچانے کے لیے ہر قسم کے نفع کو حلال نہیں کیا، بلکہ ایک مخصوص قسم کے مالیاتی فائدے کو ممنوع قرار دیا ہے، جسے شریعت کی اصطلاح میں رِبا کہا جاتا ہے۔
جب برصغیر کے جید علما اور مفسرین نے قرآن کریم کا اردو ترجمہ کیا تو انہوں نے عربی لفظ رِبا کے عین متبادل کے طور پر اردو کا لفظ سود استعمال کیا، کیوں کہ مالیاتی لین دین میں بغیر کسی محنت کے حاصل ہونے والے اِس مخصوص نفع کو ہماری زبان میں سُود ہی کہا جاتا ہے۔ لہٰذا شرعی، قانونی اور معاشی اعتبار سے سُود اور رِبا ایک ہی حقیقت کے دو مختلف نام ہیں۔ شریعت کا یہ اصول بالکل واضح ہے کہ نام بدلنے سے کسی حرام چیز کی حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی۔
اس حقیقت کو عام فہم انداز میں سمجھنے کے لیے ہم اپنے روزمرہ کے ماحول سے ایک دکان دار اور خریدار کی مثال لے سکتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک محلے کی گلی میں دکان دار کے پاس ایک موبائل فون موجود ہے۔ وہ گاہک سے کہتا ہے کہ ‘اگر تم یہ فون نقد قیمت پر خریدتے ہو تو یہ 20 ہزار روپے کا ہے، لیکن اگر تم اِسے ادھار پر ایک مہینے کی قسط پر خریدنا چاہتے ہو تو اس کی قیمت 25 ہزار روپے ہوگی۔’
اگر خریدار سودا کرتے وقت اس 25 ہزار روپے کی قیمت پر راضی ہو جاتا ہے اور دکان دار سے فون لے لیتا ہے تو فقہِ اسلامی کے مطابق یہ سودا بالکل حلال اور جائز ہے، جسے معاشی اصطلاح میں بیع مؤجل… یعنی ادھار یا قسطوں پر خرید و فروخت (Deferred Payment Sale) کہا جاتا ہے۔ یہاں جو 5 ہزار روپے اُوپر بڑھائے گئے ہیں، وہ اِس چیز کی بڑھی ہوئی قیمت (Asset Price) کے طور پر بڑھائے گئے ہیں۔ کیوں کہ اپنی ملکیت کی چیز کو نقد پر سستا اور اُدھار پر مہنگا بیچنا دکان دار کا شرعی حق ہے۔ ایک بار سودا طے ہو جانے کے بعد اب ایک مہینے بعد خریدار دکان دار کو 25 ہزار روپے ہی ادا کرے گا اور اگر وہ ادائیگی میں تاخیر بھی کر دے، تب بھی دکان دار اس 25 ہزار روپے کے اوپر ایک روپیہ بھی مزید وصول نہیں کر سکتا۔
اس کے برعکس سُود کا آغاز اُس وقت ہوتا ہے، جب دکان دار اور خریدار کے درمیان چیز کی قیمت تو 20 ہزار روپے ہی طے ہوتی ہے اور دکان دار وہ 20 ہزار روپے خریدار کے ذمے ایک قرض کے طور پر لکھ لیتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ شرط لگا دیتا ہے کہ اگر تم نے ایک مہینے کے اندر یہ پچاس روپے واپس نہ کیے تو ہر مہینے تاخیر کے بدلے تمہیں دو فیصد اضافی رقم جرمانے یا انٹرسٹ کے طور پر دینا ہوگی۔
شریعت کی نظر میں یہ آخری طریقہ کار ہی خالص سُود اور ربا ہے۔ یہاں جو اضافی رقم لی جا رہی ہے… وہ کسی سامان یا چیز کے عوض نہیں ہے، بلکہ وہ صرف وقت گزرنے کی قیمت (Cost of Time) کے طور پر وصول کی جا رہی ہے۔ دکان دار یہاں تاجر کے بجائے ایک سرمایہ دار بن جاتا ہے، جو چیز بیچنے کے بجائے ‘وقت کا کرایہ’ وصول کرتا ہے اور یہی وہ بنیادی خلا ہے، جہاں سے معاشی استحصال کا آغاز ہوتا ہے۔
دوسری طرف مالیاتی مارکیٹ میں روایتی سودی کمپنیاں، کریڈٹ کارڈ ادارے اور قسطوں پر سامان بیچنے والے ادارے (Installment Companies) گاہک کو شکار کرنے کے لیے ایک اَور متبادل اور اس سے بھی زیادہ پیچیدہ طریقہ کار استعمال کرتے ہیں۔ اس طریقے میں خریدار کو ایک یا دو بار نہیں، بلکہ تین مختلف سطحوں پر معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جسے ہم ‘تہرے استحصال کا سُودی جال’ کہہ سکتے ہیں۔ اس پورے نظام کو سمجھنے کے لیے ہم مارکیٹ کی ایک عملی مثال لیتے ہیں۔
فرض کریں ایک گاہک دکان یا کسی کمپنی سے 20 ہزار روپے مالیت کا ایک سامسنگ موبائل فون اُدھار یا قسطوں پر خریدنا چاہتا ہے۔ اب سودی کمپنی یہاں سب سے پہلا وار یہ کرتی ہے کہ ‘وہ اُدھار کی وجہ سے اس موبائل کی بنیادی قیمت ہی 20 ہزار سے بڑھا کر 25 ہزار روپے مقرر کر دیتی ہے۔’
یہاں تک بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ دکان دار کی طرح اُدھار کی وجہ سے قیمت بڑھانے کا ایک جائز سودا ہے، لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کمپنی اس 25 ہزار روپے کو ‘محض ایک چیز کی فکس قیمت’ نہیں رہنے دیتی، بلکہ اسے خریدار کے ذمے ایک مالیاتی قرض (Financial Debt) بنا دیتی اور اس کے اوپر سالانہ یا ماہانہ بنیادوں پر باقاعدہ سود (Interest) کا میٹر فٹ کر دیتی ہے۔ یوں گاہک اب صرف 25 ہزار روپے نہیں دے رہا، بلکہ اس 25 ہزار پر لگنے والا سود ملا کر کل رقم قسطوں کی صورت میں مثلاً 30 ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ اس استحصال کی دوسری سطح ہے۔
اس جال کا سب سے آخری اور سب سے زیادہ ظالمانہ حصہ وہ شرط ہوتی ہے… جو کمپنی معاہدے کی باریک لکیروں میں پہلے ہی دن لکھوا لیتی ہے، جسے تاخیر کا جرمانہ یا ڈیفالٹ سود (Late Payment Fee / Default Interest) کہا جاتا ہے۔ کمپنی یہ طے کرتی ہے کہ ‘آپ نے ہر مہینے کی پانچ تاریخ تک اپنی مقررہ قسط لازمی جمع کروانی ہے۔’ اب اگر خریدار کسی معاشی تنگی یا مجبوری کی وجہ سے وقت پر وہ قسط جمع نہیں کروا پاتا تو کمپنی اِس ‘وقت کی تاخیر’ کے بدلے اس قسط پر روزانہ یا ماہانہ کے حساب سے مزید سُود یا بھاری جرمانہ عائد کر دیتی ہے۔
اس تہرے چکر کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ خریدار پہلے مرحلے پر چیز کی 20 ہزار سے بڑھی ہوئی قیمت (25 ہزار) کا نقصان اُٹھاتا ہے، دوسرے مرحلے پر اس بڑھی ہوئی قیمت پر لگنے والے مستقل سود (انٹرسٹ) کا بوجھ برداشت کرتا ہے اور تیسرے مرحلے پر قسط لیٹ ہونے کی صورت میں سُود کے اوپر مزید سُود اور جرمانے کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔
یہ وہ طریقہ کار ہے، جہاں خریدار تین مرتبہ معاشی طور پر ڈسا جاتا ہے۔ اسلام اِسی لیے ایسے تمام معاہدوں کو جڑ سے حرام قرار دیتا ہے، کیوں کہ اِن کی بنیاد ہی گاہک کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اسے ایک ایسے اوپن اینڈڈ (Open-ended) یعنی نہ ختم ہونے والے قرض کے چکر میں پھنسانا ہے، جہاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رقم کا بڑھنا کبھی بند نہیں ہوتا۔
چناں چہ قرآن مجید نے چودہ سو سال پہلے اسی استحصالی ذہنیت کو بے نقاب کیا تھا۔ کفارِ مکہ کا بھی یہی اعتراض تھا کہ ‘جب تجارت میں بھی نفع کمایا جاتا ہے اور سُود میں بھی رقم بڑھتی ہے تو پھر دونوں میں فرق کیا ہے؟’ قرآن نے اُن کے اس فلسفے کو سورۃ البقرۃ کی آیت 275 میں اِن الفاظ کے ساتھ رد کیا کہ ‘اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا ہے۔’
تجارت میں انسان اپنی محنت، وقت اور سرمایہ لگاتا اور اسے نفع کے ساتھ ساتھ نقصان کا خطرہ (Risk and Return) بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ سود میں سرمایہ دار کا منافع سو فیصد یقینی اور محفوظ ہوتا ہے، جب کہ ضرورت مند کا نقصان طے شدہ ہوتا ہے۔ اسلام ایک ایسے منصفانہ نظام کی بنیاد رکھتا ہے، جہاں سرمائے کو محنت اور خطرے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، تاکہ معاشرے میں دولت کا بہاؤ صرف چند ہاتھوں تک محدود نہ رہے، بلکہ ہر انسان کو ترقی کے یکساں مواقع مل سکیں۔


















































