یوں تو اسلام کا مقدس دین سراسر اور سراپا قربانی ہی قربانی ہےـ اسلام کا ظاہری اور معنوی مطلب ہی مکمل طور پر خود کو کسی کے ہاتھ میں دے کر حوالگی ہےـ اسلام کے متبعین کو سب سے پہلا کام جو سکھایا جاتا ہے وہ یہ کہ میں بندہ ہوں، بندگی ہی میری شان ہے اور باقاعدہ طور پر اسے یہ حلف دینا ہوتا ہے کہ میں پوری زندگی بندہ بن کر ہی جیوں گاـ کوئی خواہش میری نہیں ہوگی، اپنی کسی تمنا پر از خود عمل نہیں کروں گاـ کسی بھی حکم خداوندی کی تعمیل میں اپنے سے نسبت رکھنے والی کسی چیز اور کسی رشتہ کو آڑے نہیں آنے دوں گاـ جو حکم ملے گا اس پر من وعن بغیر کسی چوں وچرا کے غلام بن کر عمل کروں گا اور اس طرح سے حیات کو اپنے آقا کے ہاں جاوداں بنانے کی کوشش کروں گاـ
لیکن ماہ معظم ذوالحجہ میں جس قربانی کا مشرق ومغرب میں بستے تمام مسلمانوں کو بلا کسی امتیاز اور تفریق پابند بنالیا گیا ہیں یہ قربانی ایک الگ نوعیت کی ہےـ اس کا پس منظر بے حد دلکش اور دلربا ہےـ اس کی داستان میں ہزاروں درس موجود ہیں اور قدم قدم پر خدا کی قدرت کی نشانیاں کارگر ہیں، یہاں خالق کون ومکان اور اس کے محبوب بندوں کے درمیان راز ونیاز کی ایک الگ سی دنیا قائم ہےـ یہاں عشق و سر تسلیم خم کرنے کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو رہتی دنیا تک اپنی مثال آپ ہےـ
یہ قربانی دراصل ایک عظیم اولو العزم پیغمبر اور ان کے لخت جگر کے ایک ایسے کارنامہ کی یادگار ہے جنہوں نے خداوند متعال کے احکام کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کی ایک انوکھی مثال قائم کی ہےـ قرآن مجید نے اس واقعہ کو ایک بہت ہی دلچسپ انداز میں نقل کیا ہےـ
سورہ الصافات میں "فلما بلغ معہ السعی ” سے شروع ہو کر آگے کئی آیات تک یہ سلسلہ پہنچتا ہےـ قرآن کا انداز یہ بتاتا ہے کہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاں کوئی فرزند نہیں تھاـ بہت دیر کے بعد اللہ کی طرف سے انہیں اسماعیل کی طرح ایک لخت جگر ملاـ ظاہر ہے ایک تو ویسے ہی اولاد محبتوں کا مرکز ہوا کرتی ہےـ پھر بڑے انتظار کے بعد مل جائے تو محبت کچھ بڑھ کر فریفتگی اور وارفتگی تک پہنچ جاتی ہےـ اسی انداز سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے لخت جگر سے محبت تھی۔
اسی ماحول میں ان کی پرورش جاری رہی یہاں تک کہ وہ جوانی تک پہنچ گئےـ اور وہ مرحلہ آیا جب اولاد باپ کا ہاتھ بٹانا شروع کردیتی ہے اور ایسے وقت بیٹے سے امیدیں بھی وابستہ ہوجاتی ہیں۔ عین اسی موقع پر اچانک اللہ تعالی کی طرف سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بذریعہ خواب ایک حکم ملتا ہے کہ اپنے اس دیر سے ملے لخت جگر اور جوانی اور شباب سے لبریز فرزند کو ذبح کیا جائےـ
اب یہ بظاہر بڑا کھٹن مرحلہ تھا لیکن چونکہ باپ کوئی معمولی نہیں تھاـ اللہ تعالی کا اولو العزم پیغمبر تھاـ اس لئے بغیر کسی گفت وشنید کے وہ یکدم آمادہ ہوگئےـ البتہ بیٹے کو پہلے آمادہ کرنا ضروری تھا اس لئے اسے بتایا گیا کہ مجھے اس طرح کا حکم ملا ہےـ آپ اس حکم بارے کیا خیال رکھتے ہیں۔ یہ بڑا دلچسپ مرحلہ ہےـ جہاں باپ نے خدا کے حکم کو تسلیم کیا ہے وہاں تھوڑا سا یہ خطرہ تو تھا کہ بیٹا انکار کرلےـ لیکن خداوند متعال کی کتاب بتارہی ہے کہ بیٹے نے بھی ایک انمول مثال قائم کی، وہ جواب میں کہنے لگے کہ جو خدا کی طرف سے حکم ملا ہے اباجان آپ کر گزریں، ان شاءاللہ آپ مجھے ان لوگوں میں سے پائیں گے جنھوں نے صبر کو اپنا شعار بنایا ہے، یعنی ایک طرف یہ کارنامہ کہ خدا کے حکم پر کامل رضا وتسلیم اور دوسری طرف اس کو اپنا کوئی قابل فخر کارنامہ نہیں گردانا بلکہ خود کو اللہ کی چاہت سے ان لوگوں کی صف میں شامل کرنے کی امید ظاہر کی جنہوں نے صبر کو اپنا خاصہ بنایا ہےـ
اس مرحلہ پر جب باپ بیٹے دونوں اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل پر متفق ہوگئے اللہ تعالی نے ایک عجیب لفظ استعمال فرمایا ہےـ ارشاد ہے کہ "فلما اسلما” جس کا ظاہری مطلب ہے کہ جب وہ دونوں اسلام لائےـ لیکن اسلام تو وہ پہلے سے لاچکے تھے، پھر اسلام لانے کا کیا مطلب؟ مفسرین فرماتے ہیں کہ دراصل اسلما یہاں اللہ تعالی کے حکم کے سامنے کامل رضا وتسلیم سے تعبیر ہےـ اور بتایا یہ جارہا ہے کہ جب ان کے پاس اللہ کا حکم آ پہنچا تو اب اپنی کوئی مرضی نہیں۔ باپ بیٹے جیسے رشتوں کا کوئی خیال نہیں۔ نفس وشیطان کی کوئی ایک نہیں ماننی۔ روایات تو یہ بھی بتارہی ہیں کہ اس موقع پر شیطان نے تین دفعہ بہکانے کی اپنی سی کوشش بھی کی، مگر عزم وہمت کے پیکر باپ بیٹے نے اسے دھتکار دیا اور ہر دفعہ سات سات کنکریاں ماریں، جس کی یادگار آج بھی خدا تعالیٰ نے تازہ رکھی ہےـ اور حج کرنے والوں کو عین اسی مقام پر شیطان کو سات سات کنکریاں مارنے کا پابند کر رکھا ہےـ
اب قول سے بڑھ کر عمل کا مرحلہ جو آیا تو مہربان والد نے اپنے لخت جگر اور پوری دنیا سے زیادہ محبوب فرزند ارجمند کو لٹایاـ روایات میں ہے کہ بیٹے نے از خود فرمائش کی کہ مجھے اوندھے منہ لٹایا جائےـ تاکہ کہیں شفقت پدری تعمیل حکم خداوندی میں آڑے نہ آئے اور میرے کپڑوں کو اچھے سے سمیٹ لیں تاکہ خون کے چھینٹے اس پر نہ جائیں اور میری ماں کو زیادہ دکھ نہ ہوـ جس کا نقشہ اللہ تعالی نے اس طرح کھینچا ہے: فلما اسلما وتلہ للجبین ” جس کا معنی مفسرین دو طرح سے کرتے ہیں ـ ایک یہ اوندھے منہ اسے لٹایا گیاـ لیکن حضرت حکیم الامہ نے کروٹ پر اس طرح لٹانے سے ترجمہ کیا ہے جس میں ایک طرح پیشانی ہو اور دوسری طرف گدی ہوـ
اب جب حکم تعمیل کے بالکل آخری مرحلہ میں داخل ہوا تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے چھری ہاتھ میں لی اور بیٹے کی گردن پر رکھ کر اب اس گردن کاٹنے لگے تو رحمت خداوندی جوش میں آئی اور جبریل کو حکم دیا کہ پلک جپکنے کی دیر میں اسماعیل کو ہٹا کر ان کی.جگہ ایک جنتی مینڈھے کو ڈال دو تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی چھری اسے کاٹ ڈالے اور جبریل ایسا کر گزراـ
یہاں اللہ تعالی نے ایک اعلان فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام امتحان میں کامیاب ہوگئےـ پھر یہ تمغہ امتیاز بھی عنایت فرمایا کہ رہتی تک دنیا تجھ پر سلامتی ہوـ تجھے ہر ہر نبی کی امت سلام کرے گی اور تجھے پیشوا مانے گی اور یہ کہ ابراہیم ہمارے مؤمن بندوں میں سے ایک تھےـ
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا یوں اللہ کے حکم کے سامنے پوری طرح جھکنا اللہ کو ایسا پیارا لگا کہ تا یوم القیامہ قربانی کی رسم جاری کردی ـ جس سے ایک طرف یہ پیغام دیا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر والد اللہ تعالی کو ایک فرزند قربانی دیتا لیکن اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کی عظیم اطاعت کی وجہ سے رحم فرمایا اور انسان کی جگہ جانور رکھ دیا تاکہ آسانی رہےـ
ساتھ میں یہاں مفسرین ایک اور بڑے پتے کی بات نقل کرتے چلے آرہے ہیں ـ وہ یہ کہ اللہ تعالی کو تو شروع سے ہی اسماعیل کی قربانی مقصود نہ تھی۔ مقصود اور مطلوب یہ تھا کہ خدا جو کہے اس کی من وعن بغیر کسی چون وچرا کی اطاعت کی جائےـ اس میں دلیل اور فہم وسمجھ کی چہ میگوئیاں ہرگز داخل نہ کی جائیں ـ عقل کی ترازو سے اس کی پیمائش سے احتراز کیا جائےـ اور سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام اور سیدنا اسماعیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اس بارے کمال رضا وتسلیم کا ریکارڈ قائم کیاـ
چنانچہ آج بھی یہ جو قربانی کا حکم ہے اس پر عقل کی ترازو سے پرکھنے کا رواج غلط ہےـ یہ مقایسہ اور موازنہ کہ جی اس سے تو کسی کو نقد دینا اور اس طرح کی دیگر بے پرکیاں اڑانا اللہ کے حکم سے ناواقفیت اور تسلیم و رضا کے عشق سے دوری کا نتیجہ ہےـ علماء نے اس کی بہت ہی سادہ مثال دی ہے کہ کعبہ کے رو برو مسجد حرام میں ایک رکعت نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہےـ مگر اللہ تعالی نے ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو عرفات کی طرف نکلنے کا حکم دیا ہےـ جہاں دشت اور پہاڑیاں ہیں۔ کوئی خاص عمل کرنے کا نہیں ہےـ
اب اگر ایک شخص محض عقل کی نگاہ سے اس میں موازنہ کرکے پھر کعبہ میں رہنے اور پورا دن طواف اور نوافل میں گزارنے کا فیصلہ کرلے تو اس نے ثواب کی بجائے گناہ میں کرنے کا فیصلہ کیا یےـ اس لئے کہ ثواب محض عمل میں نہیں بلکہ اس عمل میں ہے جہاں خدا کا فرمان متوجہ ہو اور جس کے نتیجہ میں اپنی ہستی مٹا کر سب کچھ خدا کے ہاتھ میں دیا جائےـ یہی قربانی کا سبق ہے اور ابراہیم اور اسماعیل علیھما الصلاۃ والسلام کے واقعہ سے یہی درس ملتا ہےـ



















































