حاصلِ کلام
اگرچہ پاکستانی فوج کی تاریخ کے بے شمار سیاہ ابواب ابھی باقی ہیں جن پر ان شاء اللہ آئندہ مواقع پر روشنی ڈالی جائے گی، لیکن یہاں جس نکتے کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے، امید ہے کہ پیش کی گئی تفصیلات کی روشنی میں وہ بخوبی واضح ہو چکا ہوگا۔
فوج کی تاریخ اور اس کے فکری پس منظر کو جان لینے کے بعد کوئی بھی صاحبِ شعور اور فہم رکھنے والا شخص کابل کے ہسپتال پر بمباری، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ما ورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور اغوا کے واقعات پر حیران نہیں ہوگا۔
اسی طرح اگر اسے بتایا جائے کہ اس فوج نے گزشتہ برسوں میں سوات سے لے کر وزیرستان تک درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں مساجد اور دینی مدارس کو مسمار کیا؛ لاکھوں مسلمانوں کو اپنے علاقوں سے ہجرت پر مجبور کیا؛ جنگی طیاروں اور توپ خانوں کے ذریعے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا؛ ڈرون حملوں کے لیے جاسوسی کی اور براہِ راست سینکڑوں مسلمانوں کے خون بہانے میں شریک رہی؛ دیہات اور آبادیاں جلائیں، بازار ویران کیے، حق گو علماء کو برہنہ کر کے ان پر وحشیانہ تشدد کیا؛ حامیانِ شریعت کو قطاروں میں کھڑا کر کے گولیوں سے بھون ڈالا؛ گھروں اور پردے کی حرمت پامال کی اور مجاہدین کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اغوا کیا—تو اس میں بھی کوئی تعجب کی بات نہیں ہوگی۔
سوات، بونیر، درہ آدم خیل اور دیگر علاقوں میں لوگوں کے گھروں سے سامان لوٹ کر ٹرکوں میں بھر کر لے جایا گیا؛ امت کے مجاہد فرزندوں کی لاشیں گلیوں اور چوراہوں میں گھسیٹی گئیں؛ خفیہ اداروں کی عقوبت خانوں میں ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، یہاں تک کہ ان کی روحانی اذیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی مقدس ذات کے بارے میں گستاخانہ کلمات کہنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔
بلاشبہ ان باتوں میں سے کوئی بھی امر حیرت انگیز نہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ آج بھی بعض سادہ لوح مسلمان اس فوج کو ’’اپنی فوج‘‘ سمجھتے ہیں اور اس سے خیر اور بھلائی کی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ وہ فوج جسے برطانوی استعمار اپنا دایاں ہاتھ قرار دیتا تھا؛ جو کبھی دہلی میں علماء اور مجاہدین کا خون بہاتی تھی اور کبھی سوات و قبائلی علاقوں میں؛ جو کبھی بنگال میں عزت و آبرو کو پامال کرتی تھی اور آج بلوچستان میں؛ جو کبھی انگریز کے لیے بغداد فتح کرتی تھی اور کبھی یہود کے لیے فلسطین کی راہیں ہموار کرتی تھی؛ جو کبھی خلافتِ عثمانیہ کے انہدام میں شریک رہی اور کبھی افغانستان کی امارتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں صف آراء ہوئی۔
ایسے بد بختوں کو ‘اپنا’ سمجھنا یا ان سے کسی بھلائی کی امید لگانا چہ معنی دارد؟
ایسی بدنام اور ظالم فوج کو ’’اپنی فوج‘‘ کہنا یا اس سے کسی خیر کی توقع رکھنا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟ یہ فوج نہ میری ہے اور نہ تمہاری؛ بلکہ یہ انگریز کے مفادات کی محافظ ہے، انگریزی نظام کی نگہبان ہے، اور انگریزی تہذیب و ثقافت کی پاسبان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہندوستان سے خراسان تک ہر صاحبِ ایمان دوست اور دشمن کو صحیح طور پر پہچانے، اپنے اور پرائے میں امتیاز کرے، اور اس معرکے کو اپنا معرکہ سمجھے؛ اللہ کے دوستوں سے دوستی اور اللہ کے دشمنوں سے دشمنی کا حق ادا کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور باطل کو باطل جان کر اس سے اجتناب کرنے کی توفیق بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔


































