فوجی رجیم کے حالات، تخمینے اور طاقت کا توازن، سب تیزی سے بدل رہا ہے، اور بہت جلد سب کچھ واضح اور آشکار ہو جائے گا۔ وہ مذموم منصوبے اور ناپاک عزائم جو اسلامی نظام کے امن و استحکام کے خلاف بنائے گئے تھے اور اب بھی بنائے جا رہے ہیں، عملی طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستانی فوجی رجیم اپنے غلط اسٹریٹیجک فیصلوں اور مسلسل ناکام پالیسیوں کے باعث ایسے نازک حالات میں علاقائی اور عالمی تنہائی کے سنگین بحران سے دوچار ہو چکی ہے۔
فوجی رجیم کے حکمران حلقے خوارج کی سرپرستی اور ان کی رسد رسانی پر فخر کرتے رہے ہیں، اور جنگی پالیسیوں، معاشی مشکلات اور سفارتی ناکامیوں کے تسلسل نے پاکستان کو ایسے مرحلے تک پہنچا دیا ہے جہاں اس کے اثر و رسوخ کا دائرہ محدود ہوتا جا رہا ہے اور اس کی ساکھ میں کمی کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ اگر طاقت، مداخلت اور تصادم پر مبنی پالیسیاں جاری رہیں تو یہ فوجی رجیم کے لیے آخری موقع ثابت ہو گا۔
اسی تناظر میں فوجی رجیم کے حالیہ حملوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خطے کے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی سے متعلق حالات تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں، اور اب ہر قسم کی فوجی مہم جوئی یا دباؤ کی پالیسیوں کو نئے حقائق، اقدامات اور اہداف کی روشنی میں پرکھا جائے گا۔
جیسا کہ حالیہ اقدامات کو محض انتقامی کارروائیوں کے عنوان سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ انہیں افغانستان کے اسلامی نظام کے خلاف دباؤ، تصادم اور ممکنہ فوجی کشیدگی میں اضافے کا ایک واضح پیغام بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف جوابی کارروائیوں کے دائرے تک محدود نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کے آغاز کی علامت بھی ہے۔ اسی لیے ہر غیر محتاط فیصلہ اور جارحانہ حکمتِ عملی سخت، شدید اور پیچیدہ حالات سے دوچار ہو کرے گی۔
آئندہ پاکستانی فوجی رجیم کا ہر غیر محتاط اقدام متقابل ردعمل اور سکیورٹی کے حوالے سے نئی مساوات کا سامنا کرے گا۔ وہ فریق جو برسوں سے جنگ اور پراکسی پالیسیوں کے ذریعے اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش کرتا رہا، اب ایسے حقائق سے دوچار ہے جہاں وہ اپنے ہی اقدامات کے نتائج کا سامنا کر رہا ہے۔
حالیہ تبدیلیوں میں نئے اہداف کی نشاندہی، جدید وسائل کا استعمال اور دفاعی تدابیر میں نفوذ کی صلاحیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی یہ پیغام دیتی ہے کہ اب فوجی رجیم فقط اپنی عسکری قوت یا دفاعی نظاموں کی برتری پر انحصار نہیں کر سکتی۔
امارت اسلامیہ افغانستان نے اپنی پالیسیوں، اسٹریٹیجک اقدامات اور حربی سرگرمیوں کے ذریعے ایسی تجرباتی صلاحیت اور سابقہ کارکردگی حاصل کی ہے جس نے مخالفین کے بے شمار اندازوں اور منصوبوں کو ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ یہی تجربات اور عملی حکمت عملیاں دشمن کے متعدد منصوبوں اور تخمینوں کو بے اثر کرتی ہیں اور ان کے اندازوں کو ازسرِنو تبدیل کرتی ہیں۔ وہ تدابیر اور حربے جو مناسب وقت اور ضرورت کے مطابق اختیار کیے جاتے ہیں، مخالف فریق کے سکیورٹی اور دفاعی اقدامات کے اثرات کو محدود کرنے اور اس کے تخمینوں کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حالیہ واقعات نے بھی ظاہر کیا ہے کہ دشمن کی تمام تشہیر اور دعوؤں کے باوجود اس کے فوجی نظام اور دفاعی منصوبے مشکلات سے دوچار ہیں، اور ان کے پس پردہ بہت سی خامیاں اور سوالات موجود ہیں۔
فوجی رجیم کے لیے یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے کہ طاقت، دھمکی اور دباؤ پر مبنی پالیسیاں پائیدار نہیں ہوتیں۔ جو بھی فریق افغانستان کے اسلامی نظام کے خلاف سازشوں، تخریبی سرگرمیوں اور معاندانہ پالیسیوں کا راستہ اختیار کرے گا، اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اندازوں اور طاقت کے توازن کے تمام پہلو بدل چکے ہیں اور پرانے اندازے اب عملی حقائق کی نمائندگی نہیں کرتے۔ امارت اسلامیہ کا اسٹریٹیجک وژن اور حربی لچک وہ خصوصیات ہیں جنہوں نے دشمن کے متعدد اندازوں کو صفر کر دیا اور انہیں آغاز ہی میں ناکام بنا دیا۔ جب بھی دشمن نئی منصوبہ بندی اور تازہ منظرنامے کی امید کے ساتھ میدان میں اترا، عملی حقائق نے اس کے تخمینوں کو درہم برہم کر دیا اور اس کے پراپیگنڈہ دعوؤں کو بے وقعت ثابت کیا۔
فوجی رجیم کی جانب سے کسی مسلمان ملک پر حملے محض اتفاقی واقعات نہیں سمجھے جاتے، بلکہ اکثر ایسے دباؤ اور جارحیت اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت اسلامی نظاموں کے لیے مزید استحکام، وسعت اور یکجہتی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ایسے اقدامات مسلمان قوم اور امت میں اپنے نظام، اقدار اور آزادی کے تحفظ کے جذبے کو مزید مضبوط کرتے ہیں، اور یہی حالات اسلامی نظام کے دائرۂ اثر میں وسعت اور توسیع کا سبب بنتے ہیں، ان شاء اللہ۔



















































