امریکی قبضے کے دوران 48 سے 52 قابض ممالک اور ان کے بے شمار آلۂ کار، نیز سوویت یلغار کے زمانے میں روس اور اس کے حامی، اپنے وقت کے جدید ترین ہتھیاروں، اسلحے اور ذرائعِ ابلاغ سے لیس تھے۔ مگر ان کے مقابلے میں افغانستان کے مسلمان عوام اور مجاہد قوم کا اہم ہتھیار آر پی جی راکٹ تھا، جس کی گھن گرج اور "اللہ اکبر” کی صدا سے زمین پر دوڑتے بکتر بند ٹینک اور فضا میں اڑتے ہیلی کاپٹر بھی خوف زدہ ہو جاتے تھے۔
سوویت قبضے کے دور میں افغان عوام ابھی جدید دنیا کے فریب و مکر سے اس قدر آگاہ نہ تھے، لیکن امریکی قبضے کے زمانے میں وہ دشمن کی ہر چال اور دھوکے سے پوری طرح باخبر اور ہوشیار تھے۔ اگرچہ امارت اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین کو جدید ترین وسائل میسر نہ تھے، لیکن انہوں نے نہایت سادہ ذرائع، مثلاً ڈرون کیمروں، جن کا بنیادی مقصد میڈیا، تحقیق اور نگرانی تھا، اللہ تعالیٰ کی نصرت سے اس قدر مؤثر اور اختراعی انداز میں استعمال کیا کہ قابض افواج کی صفیں یکے بعد دیگرے کمزور پڑتی گئیں۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا ہے:
وَأَعِدُّوا۟ لَهُم مَّا ٱسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍۢ وَمِن رِّبَاطِ ٱلْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِن شَىْءٍۢ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ. [سورة الأنفال: ۶۰]
"اور تم اپنی استطاعت کے مطابق ان کے مقابلے کے لیے ہر ممکن قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو، تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے دشمنوں، اپنے دشمنوں اور ان کے علاوہ ان لوگوں پر بھی رعب ڈال سکو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور تم اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے، اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا اور تم پر ہرگز ظلم نہیں کیا جائے گا۔”
چنانچہ امارت اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین اور مسؤولین نے اسی مقدس شریعت کی بنیاد پر اپنی راہ اختیار کی۔ بالآخر انہوں نے ان دوسرے دشمنوں کے خلاف، جو آج ہمارے پڑوس میں پاکستانی فوجی رجیم کے زیرِ سایہ امتِ مسلمہ کی تباہی اور امن کے خاتمے کے لیے تیار کیے جا رہے تھے، ایسے مؤثر، نہایت درست، تیز رفتار، حکمت آمیز اور طاقتور حملے کیے کہ مذکورہ آیتِ مبارکہ کے مفہوم کے مطابق امتِ مسلمہ کے ہر پوشیدہ اور ظاہر دشمن کی مادی و معنوی بنیادیں، یعنی اس کے عزم، ارادے، غرور اور اپنے فوجی وسائل پر اعتماد کے ستون لرز اٹھے۔
خصوصاً پاکستان کی اجیر فوجی رجیم کے جرنیل اگر ذرا بھی غور و فکر، تدبر اور تحقیق سے کام لیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ افغانوں کو، اور بالخصوص اس مجاہد سرزمین کے ہر اس فرزند کو جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند سمجھتا ہے، نہ کبھی کوئی زیر کر سکا ہے اور نہ ہی اس نے کسی کے سامنے سر جھکایا ہے۔
ہم پاکستانی فوجی رجیم کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے حملے حالیہ کارروائیوں کے مقابلے میں مزید درست، زیادہ مؤثر، بہتر نشانے پر، زیادہ طاقتور اور زیادہ حکمت کے ساتھ ہوں گے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنی ناکامیوں پر غور کریں اور ہماری تیاری و قوت کا امتحان لینے سے گریز کریں۔


















































