داعش کے بارے میں گفتگو سے پہلے مناسب ہوگا کہ موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے عراق کی بعث پارٹی کے بارے میں مختصراً جان لیں، کیونکہ داعش کی قیادت کا تقریباً 95 فیصد حصہ بعث پارٹی کے ارکان پر مشتمل تھا۔
عرب سوشلسٹ بعث پارٹی (حزب البعث العربی الاشتراکی) 1947ء میں دمشق میں قائم ہوئی۔ اس کے بانی درج ذیل افراد تھے:
1. میشیل عفلق؛ مسیحی (عیسائی) عرب مفکر۔
2. صلاح الدین بیطار؛ عرب سنی اور سیکولر مسلمان۔
3. زکی الارسوزی؛ عرب قوم پرست مفکر۔
"بعث” کے معنی "دوبارہ زندہ ہونا” یا "ازسرِنو احیا” کے ہیں۔ اس نام سے ان کی مراد یہ تھی کہ تمام عرب، خواہ وہ کسی بھی دین، مذہب، عقیدے یا فکر سے تعلق رکھتے ہوں، متحد ہو کر ایک قوم بن جائیں۔ وہ کھلے عام یہ نعرہ دیتے تھے کہ دین، مذہب، عقیدہ اور نظریاتی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر صرف عرب قومیت کی بنیاد پر متحد ہو جاؤ تاکہ ایک عظیم عرب قوم وجود میں آئے۔ وہ عموماً لوگوں کو "عرب” اور "عجم” کی بنیاد پر تقسیم کرتے تھے۔ بعثیوں کا کہنا تھا کہ عربوں کو ایک مضبوط قومی اتحاد قائم کرنا چاہیے اور مغرب کی غلامی اور اس کے اثر و رسوخ سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔
ان کے نزدیک عربوں کے درمیان سرحدیں، مختلف ریاستوں میں تقسیم، فکری اختلافات اور دین و عقیدے کی بنیاد پر تفریق نے عرب دنیا کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ جماعت شام میں 1963ء میں حافظ الاسد کی قیادت میں، جبکہ عراق میں 1968ء میں احمد حسن البکر اور صدام حسین کی قیادت میں فوجی بغاوتوں کے ذریعے اقتدار میں آئی، اور دونوں حکومتیں کئی دہائیوں تک قائم رہیں۔
اسلام کے بارے میں بعث پارٹی کے عمومی سیکولر نظریات درج ذیل تھے:
1. اسلام اور سیاست کو ایک دوسرے سے الگ ہونا چاہیے۔
2. اسلام ریاست کا قانون نہیں ہے۔
3. اسلام اور مذہب ہر فرد کا ذاتی معاملہ ہیں۔
4. اسلامی فکر اور عقیدہ عربوں کے لیے خطرہ اور انتشار کا سبب ہیں۔
5. اسلامی فکر اور اسلام پسندی ایک بڑا خطرہ ہیں۔
6. عرب دنیا سے اسلامی فکر اور اسلام پسندی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
اسی سوچ کے تحت بعثیوں نے شام کے شہر حماہ میں اسلامی فکر کے حامی اخوان المسلمین کے کارکنوں کا تاریخی قتلِ عام کیا۔ اسی طرح عراق میں صدام حسین نے تمام اسلامی تحریکوں کو کچل دیا اور انہیں ختم کرنے کی کوشش کی۔ ہزاروں علماء کو شہید کیا اور ہزاروں کو قید میں ڈال دیا۔
بعث پارٹی بڑی حد تک سوشلسٹ فکر سے متاثر تھی۔ وہ مشترکہ ملکیت، مساوات اور مذہب کو ایک ذاتی معاملہ قرار دینے پر یقین رکھتی تھی۔
چونکہ بعثیوں کا نظریہ یہ تھا کہ مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے، دین اور سیاست الگ الگ ہیں اور دینی فکر ایک خطرہ ہے، اس لیے ان کا اسلام پسندوں کے ساتھ شدید تصادم رہا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک شام میں اسلامی فکر اور اسلام پسندوں کو کچلنے اور ختم کرنے کی کوشش جاری رکھی۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اگرچہ بعثی سوشلسٹ فکر سے متاثر تھے، تاہم وہ مغرب اور سرمایہ دارانہ نظام (کیپٹلزم) سے بھی ٹکراؤ رکھتے تھے۔
داعش کے منصوبے کے لیے مغرب نے پس پردہ بعثیوں ہی کا انتخاب کیوں کیا؟
قارئین کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب بعثی مغربی فکر کے مخالف تھے تو پھر مغرب نے انہیں اپنے منصوبے کے لیے کیوں منتخب کیا؟
اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف بعثی ہی نہیں بلکہ اکثر سوشلسٹ، سیکولر اور کمیونسٹ عناصر میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے نظریات اور مؤقف کو آسانی سے بدل لیتے ہیں۔ ان کی بنیادی ترغیب اقتدار، منصب، دولت اور اختیار کا حصول ہوتی ہے۔ اگر یہ چیزیں انہیں کسی بھی ماحول میں میسر آ جائیں تو ان کے لیے زیادہ فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس نظام کا حصہ ہیں۔
اس کی مثال افغانستان کے سوشلسٹوں، سیکولروں، خلقیوں اور پرچمیوں کے طرزِ عمل سے دی جا سکتی ہے، جنہوں نے مختلف ادوار میں مختلف نظاموں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر لیا۔
افغان کمیونسٹ اور سیکولر انوار الحق احدی، جو خلقیوں اور سوویت یونین کے قابلِ اعتماد افراد میں شمار ہوتا تھا، جس نے ہزاروں افغانوں کو اس الزام میں قتل کیا کہ وہ امریکہ کے غلام اور سرمایہ دارانہ نظام کے ایجنٹ ہیں، بعد میں خود امریکہ کی حمایت سے قائم ہونے والی جمہوری حکومت میں وزیر بن گیا۔
اسی طرح حنیف اتمر، جو سوویت دور میں بی بی سی سننے کو جرم قرار دیتا تھا، بعد میں جمہوری نظام میں وزیرِ داخلہ، قومی سلامتی کونسل کا سربراہ اور اعلیٰ حکومتی عہدیدار رہا۔
سرور دانش، جو خلقیوں کے دورِ حکومت میں جج تھا اور مغربی فکر کی حمایت کے الزام میں بہت سے لوگوں کو سزائیں سناتا تھا، جبکہ اسی الزام میں متعدد افغان شہید بھی کیے گئے، بعد میں مغرب کی حمایت یافتہ جمہوری حکومت میں نائب صدر بن گیا۔
اسی طرح خلقی اور پرچمی پس منظر رکھنے والے بہت سے جرنیل، جو سوویت جنگ کے دوران امریکہ اور مغرب کے خلاف نعرے لگاتے تھے، دس لاکھ سے زائد افغانوں کی ہلاکت اور لاکھوں افراد کی ہجرت کے ذمہ دار رہے، آج یورپ اور امریکہ میں زندگی گزار رہے ہیں۔
بہت سے کمیونسٹ، جنہوں نے برسوں مغربی فکر کے خلاف جدوجہد کی، آج خود مغربی نظریات اور سرمایہ دارانہ نظام کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں۔
اسی بنا پر مغربی ممالک نے سوشلسٹوں اور سیکولر عناصر کی اس کمزوری کو سمجھ لیا تھا کہ وہ دولت اور عہدے کی خاطر جلد اپنا مؤقف بدل لیتے ہیں، چنانچہ انہوں نے داعش کے منصوبے کے لیے بعث پارٹی کے ارکان کا انتخاب کیا۔


















































