جب کسی ملک کی سکیورٹی پالیسی زمینی حقائق اور ٹھوس انٹیلی جنس کے بجائے صرف ‘عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے’ اور ‘پبلک ریلیشنز’ (PR) کے اصولوں پر چلنے لگے تو بیانیوں کے تانے بانے بہت جلد اُدھڑ جاتے ہیں۔
دو روز قبل کراچی رینجرز ہیڈکوارٹر پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی عسکری اشرافیہ نے جس عجلت میں اپنی انٹیلی جنس ناکامی کا ملبہ افغانستان پر گرانے کی کوشش کی، وہ اس کی ایک تاریک مثال ہے۔
ایک مبینہ گرفتار قیدی کی نام نہاد اعترافی ویڈیو جاری کی گئی، تاکہ پاکستان کے عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ پاکستان میں ہونے والی تمام تنظیمی عسکری کارروائیوں کے پسِ پردہ افغانستان موجود ہے۔
پاکستانی فوج نے اسی بیانیے کی آڑ میں راتوں رات افغانستان کے صوبہ کنڑ، پکتیا اور پکتیکا پر اسرائیلی طرز کی فضائی دراندازی کر کے معصوم شہریوں کا خون بہا دیا۔
تاہم پاکستانی فوج کے پروپیگنڈے کے اِس غبارے سے ہوا تب نکل گئی، جب ویڈیو میں موجود شخص کا پشتو لہجہ پشاور کے گرد و نواح کا نکلا… مگر پاکستانی فوج کے اس جعلی بیانیے کا حتمی اور تاریخی پوسٹ مارٹم ہونا ابھی باقی تھا، جو 29 جون 2026ء کو سامنے آنے والی ایک ناقابلِ تردید دستاویزی حقیقت نے کر دیا۔
دفاعی اور بین الاقوامی امور کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی غیر معمولی اور چونکا دینے والا واقعہ ہے کہ خود حملہ کرنے والی عسکری تنظیم تحریک طالبان پاکستان (جماعت الاحرار) نے اپنا آفیشل لیٹر ہیڈ جاری کر کے پاکستانی ریاست کے پورے بین الاقوامی دعوے کے پرخچے اڑا دیے۔
تحریک طالبان پاکستان (جماعت الاحرار) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل لیٹر ہیڈ نے پاکستانی فوجی مہرے کو چوپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔
‘ہم کنڑ اور پکتیا میں نہیں، کراچی سے خیبر تک پاکستان کی ہی سرزمین پر ملیں گے!’ کے عنوان سے جاری ہونے والے انکشافی اعلامیے نے اُس فوجی پروپیگنڈے کی دھجیاں اُڑا دیں کہ ‘پاکستان میں ہونے والی عسکریت پسندی افغانستان سے درآمد ہو رہی ہے۔’
تنظیم کے اِس گہرے اعلامیے نے GHQ راولپنڈی کے پروپیگنڈے کی چادر کو تار تار کر دیا ہے۔
تنظیم نے اس تحریری دستاویز میں کسی لگی لپٹی کے بغیر واشگاف الفاظ میں پاکستانی جرنیلوں کو یہ چیلنج دیا ہے کہ ‘تنظیم کا تمام تر عسکری، افرادی اور تنظیمی ڈھانچہ کسی پڑوسی ملک کی زمین پر نہیں، بلکہ خود پاکستان کی حدود کے اندر مضبوطی سے قائم ہے اور انہیں اپنے نظریاتی اور لاجسٹک مقاصد کے لیے افغانستان کی زمین استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔’
جماعت الاحرار نے باقاعدہ خط میں پاکستانی جرنیلوں کو کھلا چیلنج دیا ہے کہ ‘اگر ان میں ذرا برابر بھی ہمت ہے تو وہ سرحد پار نہتے افغانوں پر طاقت کا بزدلانہ استعمال کرنے کے بجائے پاکستان کے اپنے کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور جیسے شہروں میں آ کر اس کا سامنا کریں، جہاں اس کے نیٹ ورکس اور کارکن مستقل موجود ہیں۔
تنظیم کی طرف سے یہ تحریری اعتراف پاکستان کے ایک عام قاری کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ ‘جب خود کارروائی کرنے والی تنظیم یہ گواہی دے رہی ہے کہ اس کا وجود پاکستان میں ہے تو افغان حدود میں بمباری کرنا سوائے اپنی نااہلی چھپانے اور گرتی ہوئی عسکری ساکھ بچانے کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟
دوسری طرف تنظیم کی جانب سے یہ مہرِ تصدیق افغان حکومت کے اُس دیرینہ اور سچے موقف کو بالکل درست ثابت کرتی ہے کہ ‘افغانستان کی سرزمین کسی بھی پڑوسی کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔’
جب پاکستانی نام نہاد انٹیلی جنس اپنے ہی گھر میں باجوڑ سے کراچی تک پندرہ سو کلومیٹر کے روٹ پر آزادانہ نقل و حرکت کرتے عسکریت پسندوں کو ٹریس کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو وہ اس کا ملبہ دوسرے کی دیوار پر پھینک دیتی ہے۔
یہ رخ واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی تھنک ٹینکس اور میڈیا کہ جنہوں نے بندوق کے خوف سے سرکاری بیانیے کو جُوں کا تُوں اپنا کر ایک مصنوعی جنگی ماحول تیار کیا، وہ کتنے گہرے فکری دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔
یہیں سے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ، اس کے میڈیا سیل اور فوج کے نظریۂ جنگی معیشت کا وہ بھیانک تضاد کھل کر سامنے آ جاتا ہے، جس پر اب تک پردہ ڈالا جاتا رہا ہے۔
پاکستان کا نام نہاد انٹیلی جنس نظام اِسی جماعت الاحرار کی عسکری کارروائیوں اور حملوں کی خبروں کو تو چوبیس گھنٹے میڈیا پر سنسنی خیز بنا کر چلا دیتا ہے، تاکہ ملک کے اندر ایک مصنوعی خوف اور افغان مخالف فضا پیدا کی جا سکے۔ جس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ عوام کو ایک خیالی بیرونی دشمن کا ڈر دکھا کر دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافے، اشرافیہ کی آسائشوں اور ملکی سیاست و معیشت پر اپنے غیر آئینی کنٹرول کا جواز پیش کیا جا سکے۔
تاہم اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی فوج اور اس کی بندوق سے ڈرے ہوئے میڈیا ہاؤسز میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ اسی تنظیم کا یہ آفیشل بیان اور لیٹر ہیڈ بھی عوام کے سامنے رکھیں؟
کیا وہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عوام کو تصویر کا معروضی، دوسرا اور حقیقی رخ دکھانے کی جرات کریں گے؟
پاکستانی میڈیا، فوج اور نام نہاد تھنک ٹینکس کی یہ خاموشی دراصل ایک گہری منافقت کا پتہ دیتی ہے۔
عجب تماشا ہے کہ ایک ہی فریق کا مبینہ عسکری عمل تو دنیا کو دکھایا جا سکتا ہے، تاکہ اس پر نام نہاد دہشت گردی کا لیبل لگوایا جا سکے… مگر اِسی فریق کا وہ مثبت عمل اور سچ، جو عسکری پروپیگنڈے کی جڑیں کاٹتا ہو، اسے بلیک آؤٹ کر دیا جاتا ہے۔
وہ اس لیٹر ہیڈ کو میڈیا پر اس لیے نہیں دکھا سکتے، کیوں اگر یہ سچ عوام کے سامنے آ گیا تو پاکستان میں موجود مسائل کے اصل پہلو اور داخلی اسباب بے نقاب ہو جائیں گے، جس سے فوج کی جنگی معیشت کی وہ کھوکھلی دیوار زمین بوس ہو جائے گی، جس پر اربوں روپوں کے داخلی و بیرونی مفادات کھڑے ہیں۔
پاکستانی فوج اور اُس سے ڈرے ہوئے میڈیا، مذہبی و سیاسی رہنماؤں اور تھنک ٹینکس کا یہ رویّہ اُس منافقانہ نفسیاتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جسے ‘کک دی ڈاگ’ کہا جاتا ہے۔ جہاں اپنی اندرونی نااہلی پر قابو پانے کے بجائے غصہ اور بارود کسی کمزور پڑوسی پر نکال دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ پاکستانی عسکری اشرافیہ کو معلوم ہے کہ افغانستان کے پاس فی الحال کوئی جدید فضائی دفاعی نظام یا جنگی طیارے موجود نہیں ہیں۔
اس کے برعکس یہی فوج بلوچستان میں کارروائیوں کا الزام بھارت اور ایران پر تو لگاتی ہے، مگر وہاں ڈیٹرنس اور جوابی عسکری کارروائی کے خوف سے کبھی ایسی فضائی مہم جوئی کی جرات نہیں کرتی۔
تنظیم کا یہ لیٹرہیڈ پاکستانی جرنیلوں کو یہ کھلا چیلنج دے رہا ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کی افغان طرف نہتے افغان بچوں اور شہریوں پر بزدلانہ طاقت استعمال کرنے کے بجائے تنظیم کے مطابق پاکستان کے کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور جیسے شہروں میں آ کر اس کا سامنا کریں، جہاں وہ موجود ہے۔
تنظیم کا یہ لیٹرہیڈ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ پاکستان کے اندرونی سکیورٹی بحران کا حل پڑوسیوں کے خلاف محاذ کھولنے یا معصوم جانوں کا سودا کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنے ہی شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بند کرنے میں ہے۔
اگر پاکستانی فوج کی جانب سے تنظیم کے اس لیٹرہیڈ کے آئینے کو دیکھ کر بھی اپنی روش تبدیل نہ کی گئی اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ افغان عوام پر گرانے کا یہ ظالمانہ سلسلہ جاری رہا تو یہ روش ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف ایک ایسی مہیب اور پائیدار نفرت کو جنم دے گی، جو آخر کار پاکستانی سکیورٹی کے پورے ڈھانچے کو ایک ایسی کھائی میں دھکیل دے گی، جہاں سے زندگی کی طرف لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالی کی مدد سے افغانستان نے ہمیشہ سپر پاورز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے، اس لیے پاکستانی فوج کو اپنی اصلاح کرنا ہی عافیت کا واحد راستہ ہے۔




















































