شیخ ابو عبداللہ بیان کرتے ہیں:
علامہ ابو عصمہ رحمہ اللہ، حماد بن ابی حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں:
قال أبو عصمة قال: حماد بن أبي حنيفة: «لما بلغ الخوارج أن أبا حنيفة لا يُكَفِّرُ أحدًا بذنبٍ أتاه أربعون (وفي كشف الآثار ١/٤٧٩، ومناقب الإمام أبي حنيفة للكردري ١/١٦٣: سبعون) رجلاً معهم السلاح، حتى دخلوا الكوفة فأتوا أبا حنيفة وهو في جمع كثير».
یعنی:
جب خوارج کو یہ خبر پہنچی کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کسی مسلمان کو صرف گناہ کی بنا پر کافر قرار نہیں دیتے، تو چالیس (اور کشف الآثار ۱/۴۷۹ اور مناقب الإمام أبي حنيفة ۱/۱۶۳ للکردری کی روایت کے مطابق ستر) مسلح افراد آپ کے پاس آئے۔ وہ کوفہ میں داخل ہوئے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پاس پہنچے، اس وقت آپ کے گرد لوگوں کا ایک بڑا مجمع موجود تھا۔
پھر انہوں نے کہا:
"اے ابو حنیفہ! لوگوں سے کہو کہ وہ تم سے الگ ہو جائیں، کیونکہ ہمیں تم سے ایک سوال کرنا ہے۔”
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے لوگوں کو اشارہ کیا، چنانچہ سب لوگ اٹھ کر چلے گئے اور صرف امام صاحب رحمہ اللہ رہ گئے۔ اس کے بعد خوارج نے کوئی بات نہ کی، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی تلواریں نیام سے کھینچ لیں۔
پھر انہوں نے کہا:
"اے اس امت کے دشمن!
اے اس امت کے شیطان!
تمہیں قتل کرنا ہمارے نزدیک ستر برس کے جہاد سے زیادہ محبوب ہے۔
ہمارے دو سوالوں کا جواب دو، ورنہ قتل کے لیے تیار ہو جاؤ۔”
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
"اپنی تلواریں نیام میں رکھ لو۔”
انہوں نے کہا:
"ہم انہیں کیسے نیام میں رکھ دیں، جبکہ ہمارا ارادہ ہے کہ انہیں تمہارے خون سے رنگیں؟”
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
"اللہ کا نام لے کر بات کرو۔”
تب انہوں نے کہا:
"مسجد کے دروازے پر دو جنازے رکھے ہیں۔
پہلا جنازہ ایک ایسے شخص کا ہے جس نے شراب پی تھی، پھر حالتِ نزع میں اس کا دم گھٹنے لگا اور وہ اسی حالت میں مر گیا۔
دوسرا جنازہ ایک ایسی عورت کا ہے جس نے زنا کیا، پھر جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ حاملہ ہے تو اس نے دوا پی کر خودکشی کر لی۔
کیا یہ دونوں مؤمن ہیں؟”
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
"کیا وہ یہودی تھے؟”
انہوں نے کہا:
"نہیں۔”
آپ نے فرمایا:
"کیا وہ مجوسی تھے؟”
انہوں نے کہا:
"نہیں۔”
آپ نے فرمایا:
"پھر وہ کس دین کے ماننے والے تھے؟”
انہوں نے جواب دیا:
"وہ اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اور آپ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں اس سب پر ایمان رکھتے تھے۔”
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
"مجھے بتاؤ، ان کا یہ اقرار ایمان ہے یا نہیں؟”
انہوں نے کہا:
"ہاں، یہ ایمان ہے۔”
امام صاحب نے فرمایا:
"کیا یہ ایمان کا ایک تہائی، ایک چوتھائی یا نصف ہے؟”
انہوں نے کہا:
"نہیں، ایمان نہ تہائی ہوتا ہے، نہ چوتھائی اور نہ نصف؛ بلکہ یہی پورا ایمان ہے۔”
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
"پھر تم مجھ سے ایسے لوگوں کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جن کے متعلق تم خود گواہی دے رہے ہو کہ وہ کامل ایمان رکھتے تھے؟”
انہوں نے کہا:
"پھر ہمیں بتائیے، وہ جنتی ہیں یا جہنمی؟”
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
"میں وہی کہتا ہوں جو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا:
﴿فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
"پس جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے، اور جس نے میری نافرمانی کی، تو بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔”
(سورۂ ابراہیم: 36)
یہاں ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا میں کفر کی نافرمانی مراد نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کفر کی حالت میں مرنے والوں کو کبھی معاف نہیں فرماتا۔ یہاں مراد وہ مؤمن ہے جس سے ایمان برقرار رہنے کے باوجود گناہ سرزد ہو جائیں، اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مشیت کے سپرد ہے۔
پھر میں وہی کہتا ہوں جو عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا:
﴿إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾
"اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔”
(سورۂ المائدہ: 118)
یعنی جو لوگ ایمان پر فوت ہوئے ہوں، اگرچہ ان سے گناہ سرزد ہوئے ہوں، تو ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔
جب خوارج نے یہ جواب سنا تو انہوں نے اپنی تلواریں زمین پر ڈال دیں اور کہا:
"ہم اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے سابقہ تمام عقائد و اعمال سے توبہ کرتے ہیں، اور آپ کے دین و عقیدے کو اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکمت، علم، عقل اور فضیلت عطا فرمائی ہے۔”




















































