خوارج کی مزید خصوصیات جو داعش میں عروج کو پہنچ گئیں
خوارج کے بارے میں گزشتہ مضامین میں جن چار اہم خصوصیات کا ذکر کیا گیا تھا، ان تک ہی ان کی خصوصیات محدود نہیں ہیں۔ خوارج کے منحرف گروہ میں بہت سی دیگر ایسی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں کہ ان میں سے ہر ایک اکیلی ہی عصر حاضر کی تکفیری جماعتوں کو پہچاننے کے لیے کافی ہے۔ یہی خصوصیات داعش میں مزید شدت، منظم اور مربوط انداز میں ظاہر ہوئیں۔ اس حصے میں ہم ان خصوصیات کا ذکر کریں گے جن کا گزشتہ مضامین میں جائزہ نہیں لیا گیا تھا اور جو اس تکفیری گروہ کی فکری اور عملی حقیقت کی زیادہ واضح اور مکمل تصویر پیش کرتی ہیں۔
پانچویں خصوصیت: عبادت میں ریاکاری اور دکھاوا۔
خوارج ظاہری عبادات؛ جیسے نماز، روزہ، قرآن عظیم الشان کی تلاوت اور رات کی عبادت کرنے میں بہت زیادہ مبالغہ اور سختی کرتے تھے؛ لیکن ان کی یہ عبادات اخلاص کی بنیاد پر نہیں تھیں، بلکہ دکھاوے اور دوسروں پر اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا:
"تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے میں اور تمہارا روزہ ان کے روزے کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔”
یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ خوارج ظاہری عبادات میں اس قدر افراط کرتے تھے کہ دوسروں کی عبادات ان کے مقابلے میں معمولی نظر آتی تھیں؛ لیکن یہی ظاہری اور ریاکارانہ عبادات انہیں شریعت کی روح اور مقاصد سے دور لے گئی تھیں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، جو صحابۂ کرام کے بڑے مفسرین میں سے تھے، خوارج سے ملاقات کے بعد فرمایا:
"میں نے آج تک ایسی قوم نہیں دیکھی جو ان سے زیادہ عبادت میں کوشش کرنے والی ہو؛ ان کے ہاتھ زیادہ نماز پڑھنے کی وجہ سے اونٹ کے گھٹنوں کی طرح سخت ہو گئے ہیں اور ان کی پیشانیاں مسلسل سجدوں کی وجہ سے سیاہ ہو گئی ہیں؛ لیکن یہی گروہ اللہ تعالیٰ کی بدترین مخلوق شمار کیا جاتا ہے۔”
یہ خصوصیت داعش میں بھی واضح طور پر دیکھی جاتی ہے۔ وہ مخصوص سیاہ لباس پہنتے ہیں، جماعت کی نمازیں ظاہری خشوع اور سکون کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور انہی مناظر کی اعلیٰ معیار کی پراپیگنڈہ ویڈیوز نشر کرتے ہیں، تاکہ خود کو "واحد حقیقی مسلمان” کے طور پر پیش کریں۔ لیکن یہی لوگ بے گناہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں، ان کے سر قلم کرتے ہیں، عورتوں اور بچوں کو غلام بناتے ہیں اور مقدس مقامات کو تباہ کرتے ہیں۔ عبادت کے خوبصورت ظاہر اور فاسد باطن کے درمیان یہ واضح تضاد دکھاتا ہے کہ ان کی عبادت اخلاص پر مبنی نہیں، بلکہ لوگوں کو دھوکا دینے اور اپنی صفوں میں نئے افراد شامل کرنے کے لیے ایک پراپیگنڈہ ٹول ہے۔
چھٹی خصوصیت: تکبر، خود کو برتر سمجھنا اور دینی رہنماؤں کے سامنے گستاخی۔
"ذوالخویصرہ” کا مشہور واقعہ خوارج کے غرور اور بے ادبی کی واضح مثال ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غنیمتوں کی تقسیم میں مصروف تھے تو اس شخص نے بے ادبی سے کہا:
"اے محمد! انصاف کرو!”
دنیا کے سب سے زیادہ عادل اور بہترین انسان کے سامنے یہ گستاخی خوارج کے خود کو برتر سمجھنے اور بے ادبی کی عکاسی کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا:
"تمہاری ہلاکت ہو! اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون انصاف کرے گا؟”
بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا:
"اسی شخص کی نسل سے ایک ایسا گروہ نکلے گا جو قرآن عظیم الشان پڑھے گا، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا اور وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔”
خوارج کو امت مسلمہ کے کسی عالم یا رہنما کا کوئی احترام نہیں تھا۔
وہ خود کو سب سے زیادہ علم رکھنے والا اور متقی سمجھتے تھے اور اپنے لیے یہ حق تصور کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، تابعین اور اسلام کے بڑے علماء کو نصیحت کریں، ان پر کفر اور گمراہی کے الزامات لگائیں اور ان کے فتووں کو رد کریں۔ یہ خصوصیت داعش میں بھی انتہائی شدت کے ساتھ دیکھی جاتی ہے۔ وہ اہل سنت کے بڑے علماء کی آسانی سے تکفیر کرتے ہیں اور انہیں "طاغوت”، "سیکولر علماء” اور "کافروں کے حکمرانوں کے خادم” جیسے نام دیتے ہیں۔ داعش خود کو دین کا واحد مرجع اور قرآن عظیم الشان و سنت کا واحد حقیقی مفسر سمجھتی ہے اور اپنے نظریے سے بلند کسی عالم کو قبول نہیں کرتی۔
ساتویں خصوصیت: کم عمری اور جہالت۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشہور حدیث میں خوارج کو "کم عمر اور کم عقل نوجوان” قرار دیا ہے۔ عمر اور تجربے کی کمی کی وجہ سے وہ آسانی سے گمراہ کن نعروں کا شکار ہو جاتے ہیں اور گہری سوچ اور غور و فکر کے بغیر غیر دانشمندانہ اقدامات کرتے ہیں۔ داعش بھی اپنے اکثر ارکان کو جاہل اور مایوس نوجوانوں میں سے بھرتی کرتی ہے اور ان کے گرم مگر بے بنیاد جذبات کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یہ نوجوان، جن میں سے اکثر سیاسی اور سماجی حقائق سے بے خبر ہوتے ہیں، جنت اور شہادت کے گمراہ کن وعدوں سے دھوکا کھاتے ہیں اور اس تکفیری گروہ کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
آٹھویں خصوصیت: مسلمانوں کے خون اور مال کی بے حرمتی۔
خوارج بے بنیاد شبہات اور قرآن کی آیات کی غلط تفسیر کے ذریعے مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتے تھے اور ان کے مال لوٹتے تھے۔ وہ مسلمان کی جان اور مال کی حرمت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور اپنے مخالفین کو قتل کرنا نہ صرف جائز بلکہ واجب سمجھتے تھے۔
داعش نے بھی مسلم ممالک میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو کمزور اور بے بنیاد بہانوں کے نام پر قتل کیا اور ان کے مال لوٹے۔ افغانستان میں کابل کے دشت برچی ہسپتال پر حملہ، جس میں حاملہ ماؤں اور نومولود بچوں کو نشانہ بنایا گیا، کابل یونیورسٹی کے طلبہ کا امتحان کے دوران اجتماعی قتل اور کابل ہوائی اڈے کا خونریز واقعہ، ان ہولناک جرائم کی صرف چند مثالیں ہیں جو داعش نے انجام دیے ہیں۔
نویں خصوصیت: تاریخ کے دوران خوارج کا مسلسل ظاہر ہونا۔
نبوی احادیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وہ ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری گروہ دجال کے ساتھ نکلے گا۔”
خوارج تاریخ کے مختلف ادوار میں ظاہر ہوتے رہے ہیں اور داعش بھی موجودہ دور میں اسی منحرف فکر کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ خوارج کا منحرف نظریہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، بلکہ ہمیشہ نئی شکل اور نئے نام کے ساتھ ظاہر ہوتا رہا ہے۔
یہ تمام خصوصیات واضح کرتی ہیں کہ داعش فکری اور عملی اعتبار سے خوارج کی حقیقی جانشین اور اسی منحرف فکر کو جاری رکھنے والی جماعت ہے۔



















































