بلوچستان کی تاریخ ہمیشہ پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں، گہرے سیاسی رازوں اور خون سے لکھی گئی داستاوں کے ساتھ جڑی رہی ہے، لیکن گزشتہ دنوں ضلع مستونگ کے ولی خان بائی پاس کے علاقے میں پیش آنے والے ایک واقعے نے اس علاقے کی فوجی سیاست، جغرافیائی سیاسی تضادات اور جاری بیانیوں کی جنگ کو ایسے مرحلے تک پہنچا دیا ہے، جہاں دوست اور دشمن کے درمیان لکیریں دھندلی ہو گئی ہیں۔
ضلعی و سیشن عدالت کے جج عبدالحکیم کاکڑ کا قتل صرف ایک عدالتی شخصیت کا قتل نہیں، بلکہ اس گہرے بحران کی واضح علامت ہے جس میں بلوچستان کا پورا سکیورٹی اور سیاسی ڈھانچہ دن بہ دن ڈوبتا جا رہا ہے۔
اگر اس واقعے کے پس منظر، محرکات اور اس کے بعد سامنے آنے والے حقائق کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ایک ایسا حیران کن اور تضادات سے بھرا منظر سامنے آتا ہے جس سے پاکستان کے جاری مسائل اور بحرانوں کے بہت سے اسباب واضح ہوتے ہیں۔
اس کہانی کا آغاز کیچ (تربت) کی سیشن عدالت کے اس کمرۂ عدالت سے ہوتا ہے، جہاں جج عبدالحکیم کاکڑ نے آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچم بلند کیا، ایسا مؤقف جس کی بلوچستان جیسے ایک حساس اور خوف زدہ ماحول میں توقع بہت کم کی جاتی تھی۔ نومبر 2023ء میں انسدادِ دہشت گردی کے محکمے (CTD) نے دعویٰ کیا کہ اس نے تربت میں ایک جھڑپ کے دوران چار ’’دہشت گرد‘‘ ہلاک کیے، جن میں ’’بالاچ بلوچ‘‘ نامی ایک نوجوان بھی شامل تھا۔
اس نوجوان کے رشتہ داروں نے اس کی لاش سڑک پر رکھ کر دھرنا دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالاچ کو مبینہ جھڑپ سے کئی دن پہلے اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا؛ اس لیے یہ پولیس کی جھڑپ نہیں بلکہ ماورائے عدالت قتل تھا۔ جب یہ مقدمہ جج عبدالحکیم کاکڑ کی عدالت میں پیش ہوا تو انہوں نے بعض روایتی ججوں کی طرح سکیورٹی اداروں کے تحریری دعووں کو نظرانداز نہیں کیا اور بغیر تحقیق کے ان کی تصدیق اور دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کے محکمے (CTD) سے مبینہ ’’پولیس مقابلے‘‘ کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس اور دستاویزی شواہد طلب کیے۔ جب مذکورہ ادارہ یہ ثابت نہ کر سکا کہ ’’یہ قتل قانون کے مطابق کیا گیا ہے‘‘ تو جج نے ایک دلیرانہ اور بے مثال قانونی قدم اٹھایا اور پولیس کو متعلقہ سی ٹی ڈی افسران کے خلاف قتل کی ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا حکم دیا۔
یہ ایسا فیصلہ تھا جس نے ایک طرف سکیورٹی اداروں کو شدید دباؤ سے دوچار کیا، اور دوسری طرف جج عبدالحکیم کاکڑ ان لوگوں کے لیے، جو خود کو مظلوم سمجھتے تھے، انصاف کے مطالبے کی ایک قابلِ اعتماد آواز بن گئے۔
جج صاحب کا یہ قانونی مؤقف صرف یہیں تک محدود نہیں رہا۔ جب بھی سکیورٹی ادارے کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری، حراست یا تلاشی کے لیے ان کی عدالت سے اجازت یا حکم طلب کرتے، جج عبدالحکیم کاکڑ قانون کی بنیاد پر ان کی درخواستوں کا جائزہ لیتے۔
وہ واضح الفاظ میں کہتے تھے: ’’عدالتیں اس لیے نہیں ہیں کہ کسی ادارے کے غیر قانونی اقدامات یا شواہد کی موجودگی کے بغیر شہریوں کو لاپتا کرنے کے لیے محض تصدیق کی مہر بن جائیں۔‘‘ ٹھوس شواہد نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے کئی مرتبہ انسدادِ دہشت گردی کے محکمے (CTD) کی وارنٹ جاری کرنے کی درخواستیں مسترد کیں اور متعدد گرفتار افراد کی رہائی کا حکم دیا۔
اسی وجہ سے جج عبدالحکیم کاکڑ عملی طور پر بلوچستان میں سرگرم سکیورٹی اداروں، بالخصوص انسدادِ دہشت گردی کے محکمے (CTD)، کے لیے ایک مستقل چیلنج بن گئے تھے؛ کیونکہ وہ ان کے ایسے اقدامات کے خلاف، جنہیں قانون کے دائرے سے باہر سمجھا جاتا تھا، ایک اہم قانونی رکاوٹ سمجھے جاتے تھے۔
اب اس تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیے، جو مستونگ کے پہاڑوں میں ہونے والی ایک الگ اور خونریز لڑائی سے جڑا ہوا ہے۔
ایک طویل عرصے سے بلوچستان میں ایک طرف بلوچ قوم پرست مسلح گروہ، جیسے بلوچ لبریشن آرمی (BLA)، سرگرم ہیں، اور دوسری طرف داعش خراسان (ISKP) بھی مختلف رپورٹس اور دعووں کے مطابق اس علاقے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مارچ 2025ء میں بلوچ لبریشن آرمی نے دعویٰ کیا کہ اس نے مستونگ کے علاقے میں داعش کے ایک خفیہ تربیتی کیمپ پر حملہ کیا اور تیس سے زیادہ داعش کے جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔ داعش نے بعد میں جون 2025ء میں ایک ویڈیو جاری کرکے اس حملے کا ذکر کیا اور بلوچ لبریشن آرمی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ اس خونریز جھڑپ کے بارے میں بلوچ لبریشن آرمی کا دعویٰ تھا کہ مستونگ میں داعش کے ارکان پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کی ہدایت پر بلوچ جنگجوؤں کے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں، تاکہ پاکستانی فوج ان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز کر سکے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ جب مستونگ میں بلوچ لبریشن آرمی نے داعش کو اتنا بھاری نقصان پہنچایا تو پاکستانی میڈیا میں اس واقعے کی کوریج تقریباً نظر نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت بلوچ لبریشن آرمی کو یہ امتیاز نہیں دینا چاہتی تھی کہ گویا وہ ایک بین الاقوامی دہشت گرد گروہ کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن کچھ عرصے بعد، جب داعش نے بلوچ لبریشن آرمی کے خلاف انتقامی حملے شروع کیے تو پاکستانی حکومت کے حامی سوشل میڈیا کے متعدد اکاؤنٹس، یوٹیوبرز اور بعض تجزیہ کاروں نے ان حملوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے داعش کے ان حملوں کو بلوچ لبریشن آرمی کی کمزوری اور ریاست کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا۔
یہیں پہلا بڑا اور حیران کن تضاد سامنے آتا ہے، جو پاکستانی فوج اور اس کے حامیوں کے بیانیے میں موجود تضادات کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستانی حکومت کے حامی حلقوں نے بلوچ لبریشن آرمی کی مخالفت کے جذبات میں یہ بات فراموش کر دی کہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ملک میں داعش کی کوئی منظم موجودگی یا محفوظ ٹھکانے موجود نہیں ہیں۔ لیکن جب پاکستانی فوج کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے داعش کے حملوں کا خیرمقدم کرنا شروع کیا تو انہوں نے بالواسطہ طور پر یہ تاثر بھی دیا کہ گویا داعش پاکستان میں اتنی منظم اور طاقتور موجودگی رکھتی ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی جیسے ایک بڑے مسلح گروہ کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
’’دشمن کا دشمن دوست ہے‘‘ کے منطق کے مطابق ایک بین الاقوامی انتہا پسند گروہ کی فوجی کامیابیوں کا جشن منانا، سکیورٹی اداروں کے اس سرکاری بیانیے سے متصادم ہے جو وہ ایک طویل عرصے سے پیش کرتے آئے ہیں۔
اسی کے ساتھ وہ روایتی مؤقف بھی سوالیہ نشان بن جاتا ہے جو پاکستان کی فوج کا شعبۂ تعلقاتِ عامہ (ISPR) ہمیشہ پیش کرتا رہا ہے؛ یعنی یہ کہ پاکستان کے خلاف تمام مسلح گروہوں، خواہ بلوچ ہوں یا مذہبی انتہا پسند، کے درمیان کسی نہ کسی طرح کا خفیہ تفاهم اور ہم آہنگی موجود ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی اور داعش کے درمیان خونریز جھڑپیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ دونوں کے درمیان نہ کوئی رسمی اور نہ ہی کوئی غیر رسمی معاہدہ ہے، بلکہ دونوں نظریاتی اور عسکری اعتبار سے ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں۔ ریاست کی جانب سے تمام مسلح گروہوں کو یکساں طور پر پیش کرنا بین الاقوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ایک پروپیگنڈا حکمتِ عملی تھی، تاکہ بلوچ تحریک کو داعش کے ساتھ جوڑا جائے، عالمی رائے میں اسے بدنام کیا جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ہونے والی تنقید کو کمزور کیا جائے۔ لیکن یہ تضادات اس وقت اپنے انتہائی حساس اور حیران کن مرحلے تک پہنچ جاتے ہیں جب مستونگ میں جج عبدالحکیم کاکڑ قتل ہوتے ہیں اور داعش اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
داعش کے اعلان کردہ مؤقف کے مطابق، یہ گروہ ان حکومتوں، افراد اور عدالتوں کا مخالف ہے جو جمہوریت اور انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین اور آئین کی بنیاد پر کام کرتی ہیں۔ جج عبدالحکیم کاکڑ بھی اسی جمہوری آئین کے تحت اپنے فرائض انجام دیتے تھے، لہٰذا اس منطق کے مطابق وہ داعش کے ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن قابلِ غور تضاد یہ ہے کہ یہی جج اسی وقت پاکستانی سکیورٹی اداروں کے ان اقدامات کی مخالفت کر رہے تھے جنہیں قانون کے دائرے سے باہر سمجھا جاتا تھا، اور ان کی پسند کے فیصلے جاری کرنے سے انکار کرتے تھے۔
جج کا یہ مؤقف بالواسطہ طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند تھا جو خود کو ریاستی دباؤ اور ظلم کا شکار سمجھتے تھے، اور اس سے قبل جج اور داعش کے درمیان کسی واضح ذاتی یا سابقہ اختلاف کا بھی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ پھر داعش نے ایسے جج کو کیوں نشانہ بنایا جس کا عدالتی مؤقف سکیورٹی اداروں کے لیے مسئلہ سمجھا جاتا تھا؟
یہی سوال اس بنیاد کی تشکیل کرتا ہے جس کی بنا پر بعض بلوچ سیاسی حلقے، آزاد تجزیہ کار اور میڈیا یہ دعویٰ پیش کرتے ہیں کہ داعش بلوچستان میں سکیورٹی اداروں کی ایک پراکسی تنظیم کے طور پر کام کر رہی ہے۔ جج عبدالحکیم کاکڑ کے قتل سے سب سے بڑا نقصان قانون کی حکمرانی اور انصاف کو پہنچا، لیکن ان کے مطابق سب سے زیادہ فائدہ ان سکیورٹی اداروں کو پہنچا جنہیں داعش اپنے اعلان کردہ نظریے کے مطابق اسلام کے دائرے سے باہر سمجھتی ہے، اور جج نے ان کے بعض اہلکاروں کے خلاف قانونی مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
اگر جج عبدالحکیم کاکڑ کے قتل کے بعد تمام شک اور عوام کا غصہ سکیورٹی اداروں کی طرف منتقل ہو جاتا تو داعش کی جانب سے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے بالواسطہ طور پر سی ٹی ڈی (CTD) اور پاکستانی فوج جیسے سکیورٹی اداروں پر موجود شکوک کم ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ ایک قابلِ غور تضاد ہے کہ ایک ایسا گروہ جو خود کو جمہوریت کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے، ایسا اقدام کرتا ہے جو عملی طور پر اسی جمہوری نظام کے سکیورٹی اداروں کے مفاد میں جاتا ہے اور ان کا مؤقف آسان بنا دیتا ہے۔
اس تمام صورتِ حال کا سب سے تلخ نتیجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں جاری تنازع، جس میں داعش اور پاکستانی فوج و سکیورٹی ادارے ایک فریق کے طور پر دکھائی دیتے ہیں، اب ایسے مرحلے تک پہنچ گیا ہے جہاں ریاست کے سرکاری بیانیوں کو سنجیدہ سوالات کا سامنا ہے۔
اگر پاکستانی سکیورٹی ادارے واقعی داعش کو اپنے تزویراتی مقاصد اور اپنے قلیل مدتی مخالفین، یعنی بلوچ قوم پرستوں، کو کچلنے کے لیے ایک پراکسی قوت کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو پھر یہ گروہ پاکستان میں کبھی ختم نہیں ہوگا۔
’’دہشت گردی اس سانپ کی مانند ہے جسے انسان صرف اس لیے نہیں پال سکتا کہ وہ اس کے پڑوسی کو ڈسے؛ کیونکہ ایک دن یہی سانپ اپنے پالنے والے کو بھی ڈس لے گا۔‘‘
جج عبدالحکیم کاکڑ کا قتل اسی پالیسی کی ایک مثال ہے، کیونکہ یہی پراکسی قوت بالآخر ریاست کے اس ستون پر حملہ آور ہوئی جسے عدلیہ کہا جاتا ہے۔ جب تک پاکستانی فوج اور سکیورٹی ادارے اپنے قانونی فرائض مکمل طور پر انجام نہیں دیتے، عوام کو حقیقی اثاثہ نہیں سمجھتے اور پروپیگنڈا جنگوں کے ذریعے اپنے فاسد مقاصد کی پیروی کرتے ہیں، تب تک جج عبدالحکیم کاکڑ جیسے قانون اور عوام کے حامی افراد قربان ہوتے رہیں گے، اور سی ٹی ڈی (CTD) جیسے مجرم ادارے داعش کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے پردے میں خود کو چھپانے کی ناکام کوشش جاری رکھیں گے۔




















































