جنوبی ایشیا کے اس غیر مستحکم اور بحران زدہ خطے میں، پاکستانی فوجی رجیم نے ایک بار پھر اسی پرانے اور خطرناک وسیلے کا رخ کیا ہے جس سے اسے ماضی میں بھی بدنامی اور عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، یعنی پراکسی گروہوں اور اجرتی مسلح افراد کا استعمال۔ لیکن اس بار اس کا ہدف صرف کوئی مخصوص سیاسی یا قومی گروہ نہیں، بلکہ خود پاکستان کے استحکام اور بقا کی بنیادیں ہیں۔
افغانستان کے سابق اربکی، جو ایک وقت میں قابضین کی مقامی اجرتی فورسز کے طور پر استعمال ہوتے تھے اور اب بلوچستان اور دیگر علاقوں میں جمع کیے گئے ہیں، نہ صرف پڑوسی ممالک کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر رہے ہیں بلکہ اسلام آباد کے سیاسی استحکام کی جڑوں پر بھی کلہاڑا چلا رہے ہیں۔ پاکستانی فوج اس خطرناک کھیل میں ایسے بحران کی بنیاد رکھ رہی ہے جو کل خود اسی کا دامن پکڑ لے گا۔
یہ اربکی، جن کی سابقہ زندگی بدامنی، زور زبردستی اور افغانستان کے عوام کے خلاف جرائم سے بھری ہوئی ہے، اب پاکستانی فوجی انٹیلی جنس کے کھلے تعاون کے ساتھ بلوچستان میں آباد کیے گئے ہیں۔ واضح رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بے حساب اور غیر ذمہ دار مسلح افراد، جو اپنی طاقت کے عروج میں بھی کسی قانونی ادارے کے تابع نہیں تھے اور صرف ہتھیار اور لوٹ مار کے زور پر زندگی گزارتے تھے، اب مدارس اور رہائشی علاقوں میں آباد کیے گئے ہیں اور اسلام آباد کے نام نہاد ’’سٹریٹیجک مفادات‘‘ کے نام پر علاقے کے لوگوں کی جان، مال اور املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
وہ بلوچ جو برسوں سے اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، اب دوہرے ظلم کا سامنا کر رہے ہیں؛ ایک طرف ریاستی جبر اور دوسری طرف ان اجرتی گروہوں کی دہشت، جو اسی ریاست کی حمایت سے انسانوں کے اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور وحشیانہ تشدد جیسے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
لیکن یہ منصوبہ صرف عوام کو کچلنے کی ایک سکیورٹی اسکیم نہیں، بلکہ ایک خطرناک قومی سازش کا بھی حصہ ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم بلوچوں اور پشتونوں کے خلاف اربکیوں کو استعمال کرکے دانستہ طور پر کوشش کر رہی ہے کہ خطے کی دو بڑی قوموں کے درمیان نفاق اور دشمنی کی آگ کو ہوا دی جائے۔ ایک اجنبی اور نفرت انگیز مسلح گروہ کے ذریعے مقامی لوگوں کو خوف زدہ کرنا اور پھر ان جرائم کا الزام دیگر قومی گروہوں پر ڈالنا، وہی پرانا حربہ ہے جس کا مقصد سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور سیاسی اختلافات کو قومی تنازعات میں تبدیل کرنا ہے۔
اسی طرح پاکستانی فوجی رجیم اپنی غلط پالیسیوں کے خلاف عوام کی وسیع پیمانے پر پائی جانے والی ناراضی کو قومی دشمنی میں تبدیل کرنا چاہتی ہے؛ لیکن تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ اس طرح کی پرانی سازشیں بالآخر اپنے منصوبہ سازوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ لیکن سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اسی منصوبے کے قلب میں پاکستان کے اپنے زوال کا بیج بھی بویا جا رہا ہے۔ یہ شرپسند اور بدعنوان عناصر، جن کا قانون شکنی اور ریاستی اختیار سے بغاوت کا طویل سابقہ موجود ہے، کبھی بھی مطیع اور قابلِ کنٹرول قوت نہیں رہ سکتے۔
جن لوگوں نے افغانستان میں بدامنی اور عدم تحفظ کے سوا کچھ پیدا نہیں کیا، وہ بلوچستان میں بھی وہی انجام دہرائیں گے۔ ان کی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے نتیجے میں مذکورہ علاقوں میں طویل مدتی بدامنی، منظم جرائم میں اضافہ اور ریاستی اقتدار کی کمزوری پیدا ہوگی۔ بلوچستان کے عوام کے حالیہ احتجاج اور بڑی شاہراہوں کی بندش صرف اس بڑے بحران کی ابتدائی نشانیاں ہیں، جس کے مستقبل میں اس سے کہیں زیادہ سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
وہ پاکستانی حکام جو آج ان مہروں کو اپنے ہی عوام کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، کل اسی طوفان کے سامنے بے بس کھڑے ہوں گے جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بھڑکایا ہے۔ پاکستان کی فوج کا ان بدعنوان اور مجرم گروہوں کے ساتھ تعاون اس ملک کے لیے بڑھتی ہوئی سیاسی تنہائی، معاشی عدم استحکام اور عوام کے اعتماد کے زوال کے سوا کوئی نتیجہ نہیں رکھتا۔
درحقیقت، پاکستان اپنے کٹھ پتلی گروہوں کے ذریعے ایسا ٹائم بم تیار کر رہا ہے جس کا دھماکہ اسی ملک کے اندر ہوگا۔ یہ اربکی، جو آج بلوچستان اور افغانستان کے عوام کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں، کل ایسے سرکش اور قابو سے باہر گروہوں میں تبدیل ہو جائیں گے جو پورے خطے کے استحکام کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیں گے۔ تاریخ نے فوجی رجیموں کو ہمیشہ یہ واضح سبق دیا ہے کہ دہشت گردی اور پراکسی گروہوں کے ساتھ تعاون بالآخر انہی معاونین کے خلاف پلٹ آتا ہے۔
آج کے اربکی، پاکستان کے کل کا یقینی بحران ہیں۔




















































