۲۴ اسد، بمطابق ۱۵ اگست، افغانستان کی معاصر تاریخ میں محض نظام کی تبدیلی یا کسی سیاسی مرحلے کے اختتام کا دن نہیں، بلکہ قبضے کے خاتمے اور مجاہدین و افغان عوام کی بے مثال قربانیوں کا ثمر دیکھنے کا دن ہے۔
قبضے کے بیس سالہ دور میں دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد (امریکا+نیٹو) کے جدید ہتھیاروں، اندھی بمباریوں اور مضبوط معیشت کے سائے تلے، ان کے خلاف افغانستان کی بہادر سرزمین کے دیہات اور گلی کوچوں میں ایسی مزاحمت اور جنگ جاری رہی جس کی معاصر تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس بیس سالہ مضبوط جدوجہد کا حقیقی ہیرو مظلوم اور مجاہد افغان ملت تھی، جس نے مجاہدین کو اپنے گھروں میں جگہ دی، بے بسی اور غربت کے باوجود مجاہدین کے ساتھ جنگ کے اخراجات میں شریک رہی اور اس عظیم فوجی اتحاد کی چھاپہ مار کارروائیوں، اندھی بمباریوں اور شہادتوں کا بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔
اس غیور ملت کے مجاہدین نے انتہائی سخت حالات میں، سردی، گرمی، مالی کمزوری اور سب سے بڑھ کر غیر مساوی فوجی حالات کے باوجود اپنے عقیدے، سرزمین، ملت، اسلامی مقدسات اور قومی ارادے کا دفاع کیا۔ بے شمار نوجوانوں کی شہادت، زخمی ہونا اور زندگی کی تمام آسائشوں سے دست بردار ہونا وہ چیزیں تھیں جنہوں نے بالآخر تاریخ کی سب سے زیادہ مسلح اور جدید ہتھیاروں و وسائل سے لیس فوجوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
یہ بات سب پر واضح ہے؛ جب ۲۰۰۱ء میں امریکہ اور اس کے ۴۸ اتحادیوں نے انتہائی غرور کے انداز میں افغانستان پر حملہ کیا تو تصور یہ تھا کہ افغانوں کی مزاحمت چند ماہ میں ختم ہو جائے گی، ان کی سرزمین پر قبضہ ہو جائے گا اور ہم ان پر فتح حاصل کر لیں گے۔ لیکن دو دہائیوں کی سخت مزاحمت کے بعد حقیقت بالکل مختلف ثابت ہوئی۔ امریکہ اور اس کے ۴۸ اتحادی اربوں ڈالر خرچ کرنے اور ہزاروں فوجیوں کو ضائع کرنے کے باوجود افغانوں کے فولادی عزم اور مضبوط ارادے کو توڑنے یا انہیں ان کے درست راستے سے منحرف کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
دوحہ کے کامیاب معاہدے پر دستخط کے بعد دنیا نے یہ حقیقت سمجھ لی کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ذلت اور شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ کابل کے ہوائی اڈے سے ان کا شرمناک اور شکست خوردہ انداز میں انخلا اور ان کے مایوس ساتھیوں کا طیاروں سے چمٹنا اس فرعونی سلطنت کی عملی شکست کی جیتی جاگتی تصویر تھی جو اپنی فرعونیت پر مغرور تھی۔
مختصر یہ کہ گزشتہ بیس سالہ حکومت کی شرمناک شکست اچانک نہیں ہوئی، بلکہ اس کی اپنی داخلی بدعنوانی، عوام سے دوری، غیر ملکی فوجوں پر بھروسا اور جھوٹے نعروں کے تحت غیر ملکی منصوبوں کا نفاذ ان کے زوال کا فطری نتیجہ تھا۔
لیکن اس سے بھی زیادہ شرم کی بات یہ ہے کہ جب ۲۴ اسد کو مجاہدین کابل کے دروازوں تک پہنچ گئے تو جمہوری حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے اپنے عوام اور فوج کے نقطۂ نظر کے بجائے ذاتی فرار کو ترجیح دی۔
صدارتی محل سے اعلیٰ عہدیداروں کے بے غیرتانہ فرار نے ثابت کر دیا کہ ان کی حکمرانی افغان عوام کے دلوں پر نہیں بلکہ بیرونی حمایت اور سرپرستی پر قائم تھی۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ۲۴ اسد صرف فتح کی خوشی منانے کا دن نہیں، بلکہ پورے ملک میں ۴۰ سالہ تباہی کے خاتمے، پراکسی گروہوں کے خاتمے، خانہ جنگی کے اختتام، پورے ملک میں ہمہ گیر امن و امان کے قیام، بیوہ بہنوں اور غمزدہ ماؤں کی خوشی کا دن ہے۔
اس روشن دن کی یاد منانا ہماری غیور ملت کو یہ یاد دلاتا ہے کہ غیروں سے امیدیں وابستہ کرنا تباہی اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت کی کھائی میں پہنچانا ہے، اور اپنے ملک کی حقیقی تعمیر و ترقی صرف اور صرف افغان ملت کے درمیان باہمی اتحاد، عدل کے قیام اور اس بھاری قربانی اور آزادی کی قدر و قیمت کو محفوظ رکھنے کے ذریعے ممکن ہے۔



































