منگل, اگست 25, 2026
المرصاد
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    پراپیگنڈہ محاذ: بیرون ملک قیام اور واپسی کا سراب

    پراپیگنڈہ محاذ: بیرون ملک قیام اور واپسی کا سراب

    پاکستان؛ خطے میں فساد کا محرک!

    پاکستان؛ خطے میں فساد کا محرک!

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ چوتھی اور آخری قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ چوتھی اور آخری قسط

    دفاع سے اقدام تک: افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کے نقطۂ نظر میں تبدیلی

    دفاع سے اقدام تک: افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کے نقطۂ نظر میں تبدیلی

    دفاع سے پہلے ہی حساب لیا جائے گا

    دفاع سے پہلے ہی حساب لیا جائے گا

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ تیسری قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ تیسری قسط

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

  • ابطالِ امت
    خزاں کی آغوش میں کھلا ہوا گلاب

    خزاں کی آغوش میں کھلا ہوا گلاب

    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    پراپیگنڈہ محاذ: بیرون ملک قیام اور واپسی کا سراب

    پراپیگنڈہ محاذ: بیرون ملک قیام اور واپسی کا سراب

    پاکستان؛ خطے میں فساد کا محرک!

    پاکستان؛ خطے میں فساد کا محرک!

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ چوتھی اور آخری قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ چوتھی اور آخری قسط

    دفاع سے اقدام تک: افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کے نقطۂ نظر میں تبدیلی

    دفاع سے اقدام تک: افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کے نقطۂ نظر میں تبدیلی

    دفاع سے پہلے ہی حساب لیا جائے گا

    دفاع سے پہلے ہی حساب لیا جائے گا

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ تیسری قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ تیسری قسط

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

  • ابطالِ امت
    خزاں کی آغوش میں کھلا ہوا گلاب

    خزاں کی آغوش میں کھلا ہوا گلاب

    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
المرصاد
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
صفحہ اول تبصرے و تحریرات

سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ چوتھی اور آخری قسط

فرید افغان

سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ چوتھی اور آخری قسط
Share on FacebookShare on Twitter

تیسری اینگلو-افغان جنگ اور بدلے ہوئے عالمی حالات:

جب اپریل 1919 میں جب غازی امان اللہ خان نے کابل کے شاہی دربار سے افغانستان کی مکمل سیاسی اور سفارتی آزادی کا اعلان کیا تو برطانوی سلطنت کے ایوانوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ انگریزوں کے لیے یہ تسلیم کرنا ناممکن تھا کہ ایک پہاڑی سلطنت ان کے چالیس سالہ تسلط کو ایک ہی جھٹکے میں مسترد کر دے۔

اس جیسی دیگر تحاریر

پراپیگنڈہ محاذ: بیرون ملک قیام اور واپسی کا سراب

پاکستان؛ خطے میں فساد کا محرک!

دفاع سے اقدام تک: افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کے نقطۂ نظر میں تبدیلی

برطانوی ہند کی حکومت نے شاہ امان اللہ خان کے خط کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا، بلکہ سرحدوں پر فوجی نقل و حرکت تیز کر دی۔ شاہ امان اللہ خان ایک دور اندیش رہنما تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آزادی مانگنے سے نہیں، بلکہ چھیننے سے ملتی ہے۔ انہوں نے مئی 1919 میں انگریزوں کے خلاف باقاعدہ ‘جنگِ استقلال’ کا اعلان کر دیا، جسے تاریخ میں تیسری اینگلو-افغان جنگ کہا جاتا ہے۔

اس بار تاریخ کا پہیہ بالکل الٹ رخ اختیار کر چکا تھا۔ چالیس سال پہلے کا طاقت ور برطانیہ اب اندرونی طور پر کھوکھلا ہو چکا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں نے برطانوی معیشت کو اپاہج کر دیا تھا اور ان کے اپنے گورا سپاہی مزید کسی جنگ کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر برطانوی راج کا اپنا مرکز یعنی ہندوستان اندرونی طور پر آزادی کے دہانے پر کھڑا تھا۔

اپریل 1919 میں جلیاں والا باغ کے لرزہ خیز قتلِ عام نے پورے برصغیر میں انگریزوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا دی تھی اور تحریکِ خلافت کے سبب مسلمان اور ہندو مشترکہ طور پر برطانوی راج کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر تھے۔ برطانوی ہند کی فوج میں شامل مسلم اور ہندو سپاہی اپنے ہی پڑوسی ملک افغانستان کے خلاف لڑنے سے کترانے لگے تھے۔ یوں جو داخلی انتشار کبھی افغانوں کی کمزوری تھا، اب وہ برطانوی سلطنت کا مقدر بن چکا تھا۔

میدانِ کارزار اور تل کے محاذ پر تاریخی فتح:
جنگِ استقلال کا آغاز تین بڑے محاذوں پر ہو۔: خیبر، قندھار اور چترال/وزیرستان۔ انگریزوں کے پاس اب بھی ایک جدید عسکری برتری موجود تھی اور انہوں نے افغانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے تاریخ میں پہلی بار کابل اور جلال آباد پر ہوائی جہازوں سے بمباری کی۔ شاہی محل کے کچھ حصوں پر بم گرے… جس سے عوام میں عارضی طور پر خوف پھیلا، لیکن افغان غازیوں کے جذبہِ حریت کو ٹیکنالوجی کے ذریعے شکست دینا ممکن نہیں تھا۔ افغان فوج اور سرحدی قبائل نے زمین پر انگریزوں کی سپلائی لائنیں کاٹ دیں اور روایتی گوریلا جنگی طریقوں سے برطانوی فوج کو مفلوج کر دیا۔

اس جنگ کا سب سے فیصلہ کن اور تاریخی معرکہ وزیرستان اور تل (موجودہ پاکستان کا سرحدی علاقہ) کے محاذ پر لڑا گیا، جہاں افغان فوج کی قیادت بعد میں افغانستان کے بادشاہ بننے والے جنرل نادر خان کر رہے تھے۔ جنرل نادر خان نے افغان فوج اور مقامی پشتون قبائل کو یکجا کر کے انگریزوں کی چھاؤنیوں پر ایسا زوردار حملہ کیا کہ برطانوی فوج کے پیر ُاکھڑ گئے۔ افغانوں نے تل کے قلعے کا گھیراؤ کر لیا، انگریزوں کے توپ خانے پر قبضہ کیا اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

اس محاذ پر برطانوی فوج کی بدترین شکست نے لندن میں بیٹھے ہوئے جنگی ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر اس جنگ کو مزید طول دیا گیا تو سرحد پار ہندوستان کے قبائلی علاقوں اور پورے برصغیر میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو جائے گا، جسے سنبھالنا برطانوی سلطنت کے بس میں نہیں ہو گا۔

معاہدہِ راولپنڈی اور 28 اسد کی تاریخ:
امریکا اور برطانیہ کی جنگی تھکن اور افغان غازیوں کی شدید مزاحمت کے سامنے آخر کار سلطنتِ برطانیہ نے گھٹنے ٹیک دیے۔ جون 1919 میں جنگ بندی کا اعلان ہوا اور دونوں ملکوں کے وفود راولپنڈی (موجودہ پاکستان) میں مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔ طویل بحث و تکرار کے بعد 8 اگست 1919 کو برطانوی حکومت اور افغان وفد کے مابین ایک تاریخی امن معاہدہ دستخط ہوا، جسے ‘معاہدہِ راولپنڈی’ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت برطانیہ نے باقاعدہ طور پر اعتراف کیا کہ ‘افغانستان ایک مستقل، خود مختار اور آزاد ملک ہے اور اس کے خارجہ امور (Foreign Policy) پر برطانوی ہند کا کوئی حق باقی نہیں رہا۔’

اگرچہ اس امن معاہدے پر دستخط 8 اگست کو ہوئے تھے، لیکن 19 اگست 1919 (بمطابق 28 اسد 1298 شمسی) کو شاہ امان اللہ خان نے کابل میں ایک عظیم الشان جشن کے دوران دنیا کے سامنے افغانستان کی مکمل سیاسی، سفارتی اور جغرافیائی آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اسی تاریخی دن کی یاد میں ہر سال 28 اسد کو افغانستان کا ‘جشنِ استقلال’ (Independence Day) منایا جاتا ہے۔

یہ افغان تاریخ کا وہ معجزہ تھا، جس نے ثابت کیا کہ اگر کوئی قوم وسائل کی کمی کے باوجود متحد ہو جائے تو وہ دنیا کی سب سے بڑی نوآبادیاتی طاقت کو بھی پسپائی پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس فتح کے بعد برطانیہ نے کبھی دوبارہ افغانستان پر چڑھائی کی ہمت نہیں کی۔

مابعد 9/11 اور تاریخ کا دوبارہ دہرایا جانا:
یہ تاریخ کا ایک عجیب المیہ ہے کہ مغرور سلطنتیں ماضی کے اسباق سے کبھی نہیں سیکھتیں۔ جو سبق افغانوں نے 1919 میں سلطنتِ برطانیہ کو سکھایا تھا، وہی سبق اکیسویں صدی میں دنیا کی واحد سپر پاور امریکا اور اس کے پچاس کے قریب اتحادی ممالک (نیٹو) کو سیکھنا پڑا۔

نائن الیون کے واقعات کے بعد جب امریکی اتحاد نے کھربوں ڈالر کے جدید ترین اسلحے، ڈرونز، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور لاکھوں فوجیوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا تو بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اس جدید دور میں افغانوں کی روایتی مزاحمت دم توڑ دے گی۔

لیکن قدرت کے قوانین کبھی نہیں بدلتے۔ امریکا نے کابل میں جو حکومتیں قائم کیں، وہ شدید مالی کرپشن کا شکار تھیں اور ان کی فوج کا جذبہ حب الوطنی یا حب الاسلام پر نہیں، بلکہ غیر ملکی ڈالروں پر ٹکا ہوا تھا۔ دوسری طرف افغان عوام نے اپنی روایتی نفسیات کے مطابق کسی بیرونی قابض کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اسی سنگلاخ پہاڑی جغرافیے کو استعمال کرتے ہوئے ایک طویل اور اعصاب شکن گوریلا جنگ چھیڑ دی۔

بیس سالہ طویل جدوجہد، ہزاروں جانوں کے نقصان اور تقریباً دو ٹریلین ڈالر ضائع کرنے کے بعد 2021 میں امریکی عوام اور سیاست دان بھی اسی جنگی تھکن کا شکار ہو گئے، جو کبھی پہلی جنگِ عظیم کے بعد انگریزوں اور بعد میں روس کا مقدر بنی تھی۔ بالآخر امریکی اتحاد کو بھی اسی طرح کابل سے مایوس ہو کر نکلنا پڑا، جیسے ان سے پہلے برطانیہ اور سوویت یونین نکلے تھے۔ تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ افغانستان واقعی ‘سلطنتوں کا قبرستان’ ہے۔

باہمی اتحاد اور مادی ترقی کا سبق:
اس تفصیلی تاریخ سے سیکھنے کے لیے جو سب سے بڑا فکری اور فلسفیانہ سبق سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی حقیقی فتح اور بقا کے لیے دو بنیادی ستون ناگزیر ہیں: پہلا قوم کا باہمی اتحاد اور اتفاق اور دوسرا مادی و علمی میدان میں خود انحصاری۔

افغانستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس قوم نے بیرونی دشمن کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کو حیران کر دیا؛ لیکن جب بھی عسکری فتح کے بعد یہ قوم داخلی سطح پر قبائلی، لسانی یا مسلکی اختلافات کا شکار ہوئی تو اس کا جغرافیہ بھی تباہ ہوا اور اس کی آزادی بھی سلب ہو گئی۔

موجودہ دور میں، جب افغانستان امارتِ اسلامی کے تحت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، افغان قوم کے لیے سب سے بڑا چیلنج عسکری نہیں، بلکہ داخلی اتحاد اور معاش و علم کا ہے۔ محض ماضی کی فتوحات پر فخر کرنا کسی قوم کو مستقل عروج نہیں دے سکتا۔ جب تک کہ وہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار نہ کرے۔

آج کی دنیا صرف بندوق کی طاقت کو نہیں مانتی… بلکہ وہ معاشی استحکام، جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعتی خود انحصاری کی زبان سمجھتی ہے۔ جب تک کوئی ملک مالی امداد، قرضوں اور تزویراتی ضروریات کے لیے بیرونی دنیا کا محتاج رہتا ہے، اس کی آزادی ہمیشہ خطرے کی زد میں رہتی ہے۔

یہی اصول عمومی طور پر پورے عالمِ اسلام پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود داخلی اتحاد، فکری یکسانیت اور جدید علوم سے دوری کے باعث عالمی سطح پر اپنا حقیقی وزن کھو چکا ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل، علمی اور معاشی جہاد:
تاریخ کا پہیہ اب ایک ایسے موڑ پر آ کھڑا ہے، جہاں افغان قوم اور عالمِ اسلام کو اپنی بقا کے لیے ایک نئے لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ عسکری میدان کا جہاد اپنی جگہ مکمل ہو چکا۔ اب وقت ہے کہ اسی نظم و ضبط، عزم اور بے مثال قربانی کے جذبے کو ‘باہمی اتحاد، علمی اور معاشی جہاد’ میں تبدیل کیا جائے۔

افغانستان کو اپنے نوجوانوں کے لیے جدید عزم اور تکنیکی تعلیم کے دروازے کھولنا ہوں گے، اپنے بے پناہ قدرتی اور معدنی وسائل کو جدید خطوط پر استوار اور ایک ایسا مستحکم داخلی معاشی نظام کھڑا کرنا ہوگا، جو بیرونی پابندیوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکے۔

اسی طرح جب تک عالمِ اسلام کے ممالک اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک مشترکہ معاشی اور علمی بلاک تشکیل نہیں دیتے، وہ عالمی منظر نامے پر اپنی مرضی کے فیصلے کروانے میں ناکام رہیں گے۔ اتحاد اگر بقا کی پہلی شرط ہے تو مادی و علمی ترقی اس بقا کو مستقل عروج دینے کا واحد راستہ ہے۔ تاریخ نے افغانوں کو ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع دیا ہے اور اب یہ ان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس موقع کو اپنے مستقل اور درخشاں مستقبل کی بنیاد کیسے بناتے ہیں۔

شیئرٹویٹ

اس طرح کی دیگر تحاریر

بلوچ علیحدگی پسند جنگ کی نوعیت بدل رہے ہیں!
تبصرے و تحریرات

بلوچ علیحدگی پسند جنگ کی نوعیت بدل رہے ہیں!

اپریل 16, 2026
اسلام کی نظر میں معصوم عوام کا قتل!
تبصرے و تحریرات

اسلام کی نظر میں معصوم عوام کا قتل!

اپریل 13, 2026
امت مسلمہ کے بچے مغرب کی فکری یلغار کی زد میں
علمی تحریرات

امت مسلمہ کے بچے مغرب کی فکری یلغار کی زد میں

اپریل 4, 2024
غزوات النبیﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق | پہلی قسط
علمی تحریرات

غزوات النبیﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق | پہلی قسط

جنوری 5, 2025
او آئی سی کی متنازعہ کانفرنس، پاکستان کی مداخلت پسندی کا تسلسل
تبصرے و تحریرات

او آئی سی کی متنازعہ کانفرنس، پاکستان کی مداخلت پسندی کا تسلسل

جنوری 12, 2025
داعش کس طرح لوگوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہے؟ | تیسری قسط
خوارج العصر

داعش کس طرح لوگوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہے؟ | تیسری قسط

اکتوبر 31, 2024

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

    • ٹرینڈنگ
    • تبصرے
    • تازہ ترین
    تاجکستانی وجود پر پڑی داعشی بندوق غلط ہدف کو نشانہ بنا رہی ہے

    تاجکستانی وجود پر پڑی داعشی بندوق غلط ہدف کو نشانہ بنا رہی ہے

    مارچ 25, 2024
    پاکستان کا قصہ تمام ہونے والا ہے

    پاکستان کا قصہ تمام ہونے والا ہے

    مارچ 28, 2024
    قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات

    قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات

    مارچ 23, 2024
    کیا پاکستان میں پکڑا گیا داعشی محمد شریف جعفر واقعی کابل ہوائی اڈے پر حملے کا منصوبہ ساز یا ذمہ دار ہے؟

    کیا پاکستان میں پکڑا گیا داعشی محمد شریف جعفر واقعی کابل ہوائی اڈے پر حملے کا منصوبہ ساز یا ذمہ دار ہے؟

    مارچ 5, 2025
    چھ جدی: افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات

    چھ جدی: افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات

    0
    افغانستان میں سوویت یونین کے وحشیانہ حملے کے نتاءج

    افغانستان میں سوویت یونین کے وحشیانہ حملے کے نتاءج

    0
    افغانستان میں داعش کے اہداف

    افغانستان میں داعش کے اہداف

    0
    بغدادی ملیشیا کے حامیوں سے سوال

    بغدادی ملیشیا کے حامیوں سے سوال

    0
    پراپیگنڈہ محاذ: بیرون ملک قیام اور واپسی کا سراب

    پراپیگنڈہ محاذ: بیرون ملک قیام اور واپسی کا سراب

    اگست 25, 2026
    پاکستان؛ خطے میں فساد کا محرک!

    پاکستان؛ خطے میں فساد کا محرک!

    اگست 25, 2026
    خزاں کی آغوش میں کھلا ہوا گلاب

    خزاں کی آغوش میں کھلا ہوا گلاب

    اگست 25, 2026
    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ چوتھی اور آخری قسط

    سلطنتوں کا قبرستان اور تاریخ کا پلٹتا ہوا پہیہ چوتھی اور آخری قسط

    اگست 24, 2026

    تازہ خبریں

    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    اگست 13, 2026
    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    جولائی 1, 2026
    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    جون 21, 2026
    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    جون 19, 2026
    • ابطالِ امت
    • اداریہ
    • اصدارات
    • انفوگرافکس
    • تبصرے اور تحریرات
    • خبریں
    • صفحہ اول
    • علماء
    • لائبریری
    المرصاد سے رابطہ: info@almirsadur.com

    جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist

    کو ئی نتیجہ
    تمام نتائج دیکھیں
    • صفحہ اول
    • اداریہ
    • خبریں
      • افغانستان
      • علاقائی خبریں
      • عالمی خبریں
    • تبصرے اور تحریرات
      • خوارج العصر
      • سیاسی تحریرات
      • جہادی تحریرات
      • علمی تحریرات
      • تجزیاتی تحریرات
    • علماء
    • ابطالِ امت
    • اصدارات
    • انفوگرافکس
    • لائبریری
    • المرصاد
      • پښتو
      • دری
      • عربي
      • English
      • বাংলা

    جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔