تیسری اینگلو-افغان جنگ اور بدلے ہوئے عالمی حالات:
جب اپریل 1919 میں جب غازی امان اللہ خان نے کابل کے شاہی دربار سے افغانستان کی مکمل سیاسی اور سفارتی آزادی کا اعلان کیا تو برطانوی سلطنت کے ایوانوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ انگریزوں کے لیے یہ تسلیم کرنا ناممکن تھا کہ ایک پہاڑی سلطنت ان کے چالیس سالہ تسلط کو ایک ہی جھٹکے میں مسترد کر دے۔
برطانوی ہند کی حکومت نے شاہ امان اللہ خان کے خط کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا، بلکہ سرحدوں پر فوجی نقل و حرکت تیز کر دی۔ شاہ امان اللہ خان ایک دور اندیش رہنما تھے۔ وہ جانتے تھے کہ آزادی مانگنے سے نہیں، بلکہ چھیننے سے ملتی ہے۔ انہوں نے مئی 1919 میں انگریزوں کے خلاف باقاعدہ ‘جنگِ استقلال’ کا اعلان کر دیا، جسے تاریخ میں تیسری اینگلو-افغان جنگ کہا جاتا ہے۔
اس بار تاریخ کا پہیہ بالکل الٹ رخ اختیار کر چکا تھا۔ چالیس سال پہلے کا طاقت ور برطانیہ اب اندرونی طور پر کھوکھلا ہو چکا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں نے برطانوی معیشت کو اپاہج کر دیا تھا اور ان کے اپنے گورا سپاہی مزید کسی جنگ کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر برطانوی راج کا اپنا مرکز یعنی ہندوستان اندرونی طور پر آزادی کے دہانے پر کھڑا تھا۔
اپریل 1919 میں جلیاں والا باغ کے لرزہ خیز قتلِ عام نے پورے برصغیر میں انگریزوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا دی تھی اور تحریکِ خلافت کے سبب مسلمان اور ہندو مشترکہ طور پر برطانوی راج کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر تھے۔ برطانوی ہند کی فوج میں شامل مسلم اور ہندو سپاہی اپنے ہی پڑوسی ملک افغانستان کے خلاف لڑنے سے کترانے لگے تھے۔ یوں جو داخلی انتشار کبھی افغانوں کی کمزوری تھا، اب وہ برطانوی سلطنت کا مقدر بن چکا تھا۔
میدانِ کارزار اور تل کے محاذ پر تاریخی فتح:
جنگِ استقلال کا آغاز تین بڑے محاذوں پر ہو۔: خیبر، قندھار اور چترال/وزیرستان۔ انگریزوں کے پاس اب بھی ایک جدید عسکری برتری موجود تھی اور انہوں نے افغانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے تاریخ میں پہلی بار کابل اور جلال آباد پر ہوائی جہازوں سے بمباری کی۔ شاہی محل کے کچھ حصوں پر بم گرے… جس سے عوام میں عارضی طور پر خوف پھیلا، لیکن افغان غازیوں کے جذبہِ حریت کو ٹیکنالوجی کے ذریعے شکست دینا ممکن نہیں تھا۔ افغان فوج اور سرحدی قبائل نے زمین پر انگریزوں کی سپلائی لائنیں کاٹ دیں اور روایتی گوریلا جنگی طریقوں سے برطانوی فوج کو مفلوج کر دیا۔
اس جنگ کا سب سے فیصلہ کن اور تاریخی معرکہ وزیرستان اور تل (موجودہ پاکستان کا سرحدی علاقہ) کے محاذ پر لڑا گیا، جہاں افغان فوج کی قیادت بعد میں افغانستان کے بادشاہ بننے والے جنرل نادر خان کر رہے تھے۔ جنرل نادر خان نے افغان فوج اور مقامی پشتون قبائل کو یکجا کر کے انگریزوں کی چھاؤنیوں پر ایسا زوردار حملہ کیا کہ برطانوی فوج کے پیر ُاکھڑ گئے۔ افغانوں نے تل کے قلعے کا گھیراؤ کر لیا، انگریزوں کے توپ خانے پر قبضہ کیا اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
اس محاذ پر برطانوی فوج کی بدترین شکست نے لندن میں بیٹھے ہوئے جنگی ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر اس جنگ کو مزید طول دیا گیا تو سرحد پار ہندوستان کے قبائلی علاقوں اور پورے برصغیر میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو جائے گا، جسے سنبھالنا برطانوی سلطنت کے بس میں نہیں ہو گا۔
معاہدہِ راولپنڈی اور 28 اسد کی تاریخ:
امریکا اور برطانیہ کی جنگی تھکن اور افغان غازیوں کی شدید مزاحمت کے سامنے آخر کار سلطنتِ برطانیہ نے گھٹنے ٹیک دیے۔ جون 1919 میں جنگ بندی کا اعلان ہوا اور دونوں ملکوں کے وفود راولپنڈی (موجودہ پاکستان) میں مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔ طویل بحث و تکرار کے بعد 8 اگست 1919 کو برطانوی حکومت اور افغان وفد کے مابین ایک تاریخی امن معاہدہ دستخط ہوا، جسے ‘معاہدہِ راولپنڈی’ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت برطانیہ نے باقاعدہ طور پر اعتراف کیا کہ ‘افغانستان ایک مستقل، خود مختار اور آزاد ملک ہے اور اس کے خارجہ امور (Foreign Policy) پر برطانوی ہند کا کوئی حق باقی نہیں رہا۔’
اگرچہ اس امن معاہدے پر دستخط 8 اگست کو ہوئے تھے، لیکن 19 اگست 1919 (بمطابق 28 اسد 1298 شمسی) کو شاہ امان اللہ خان نے کابل میں ایک عظیم الشان جشن کے دوران دنیا کے سامنے افغانستان کی مکمل سیاسی، سفارتی اور جغرافیائی آزادی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اسی تاریخی دن کی یاد میں ہر سال 28 اسد کو افغانستان کا ‘جشنِ استقلال’ (Independence Day) منایا جاتا ہے۔
یہ افغان تاریخ کا وہ معجزہ تھا، جس نے ثابت کیا کہ اگر کوئی قوم وسائل کی کمی کے باوجود متحد ہو جائے تو وہ دنیا کی سب سے بڑی نوآبادیاتی طاقت کو بھی پسپائی پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس فتح کے بعد برطانیہ نے کبھی دوبارہ افغانستان پر چڑھائی کی ہمت نہیں کی۔
مابعد 9/11 اور تاریخ کا دوبارہ دہرایا جانا:
یہ تاریخ کا ایک عجیب المیہ ہے کہ مغرور سلطنتیں ماضی کے اسباق سے کبھی نہیں سیکھتیں۔ جو سبق افغانوں نے 1919 میں سلطنتِ برطانیہ کو سکھایا تھا، وہی سبق اکیسویں صدی میں دنیا کی واحد سپر پاور امریکا اور اس کے پچاس کے قریب اتحادی ممالک (نیٹو) کو سیکھنا پڑا۔
نائن الیون کے واقعات کے بعد جب امریکی اتحاد نے کھربوں ڈالر کے جدید ترین اسلحے، ڈرونز، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور لاکھوں فوجیوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا تو بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اس جدید دور میں افغانوں کی روایتی مزاحمت دم توڑ دے گی۔
لیکن قدرت کے قوانین کبھی نہیں بدلتے۔ امریکا نے کابل میں جو حکومتیں قائم کیں، وہ شدید مالی کرپشن کا شکار تھیں اور ان کی فوج کا جذبہ حب الوطنی یا حب الاسلام پر نہیں، بلکہ غیر ملکی ڈالروں پر ٹکا ہوا تھا۔ دوسری طرف افغان عوام نے اپنی روایتی نفسیات کے مطابق کسی بیرونی قابض کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اسی سنگلاخ پہاڑی جغرافیے کو استعمال کرتے ہوئے ایک طویل اور اعصاب شکن گوریلا جنگ چھیڑ دی۔
بیس سالہ طویل جدوجہد، ہزاروں جانوں کے نقصان اور تقریباً دو ٹریلین ڈالر ضائع کرنے کے بعد 2021 میں امریکی عوام اور سیاست دان بھی اسی جنگی تھکن کا شکار ہو گئے، جو کبھی پہلی جنگِ عظیم کے بعد انگریزوں اور بعد میں روس کا مقدر بنی تھی۔ بالآخر امریکی اتحاد کو بھی اسی طرح کابل سے مایوس ہو کر نکلنا پڑا، جیسے ان سے پہلے برطانیہ اور سوویت یونین نکلے تھے۔ تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ افغانستان واقعی ‘سلطنتوں کا قبرستان’ ہے۔
باہمی اتحاد اور مادی ترقی کا سبق:
اس تفصیلی تاریخ سے سیکھنے کے لیے جو سب سے بڑا فکری اور فلسفیانہ سبق سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی حقیقی فتح اور بقا کے لیے دو بنیادی ستون ناگزیر ہیں: پہلا قوم کا باہمی اتحاد اور اتفاق اور دوسرا مادی و علمی میدان میں خود انحصاری۔
افغانستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس قوم نے بیرونی دشمن کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کو حیران کر دیا؛ لیکن جب بھی عسکری فتح کے بعد یہ قوم داخلی سطح پر قبائلی، لسانی یا مسلکی اختلافات کا شکار ہوئی تو اس کا جغرافیہ بھی تباہ ہوا اور اس کی آزادی بھی سلب ہو گئی۔
موجودہ دور میں، جب افغانستان امارتِ اسلامی کے تحت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، افغان قوم کے لیے سب سے بڑا چیلنج عسکری نہیں، بلکہ داخلی اتحاد اور معاش و علم کا ہے۔ محض ماضی کی فتوحات پر فخر کرنا کسی قوم کو مستقل عروج نہیں دے سکتا۔ جب تک کہ وہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار نہ کرے۔
آج کی دنیا صرف بندوق کی طاقت کو نہیں مانتی… بلکہ وہ معاشی استحکام، جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعتی خود انحصاری کی زبان سمجھتی ہے۔ جب تک کوئی ملک مالی امداد، قرضوں اور تزویراتی ضروریات کے لیے بیرونی دنیا کا محتاج رہتا ہے، اس کی آزادی ہمیشہ خطرے کی زد میں رہتی ہے۔
یہی اصول عمومی طور پر پورے عالمِ اسلام پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود داخلی اتحاد، فکری یکسانیت اور جدید علوم سے دوری کے باعث عالمی سطح پر اپنا حقیقی وزن کھو چکا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل، علمی اور معاشی جہاد:
تاریخ کا پہیہ اب ایک ایسے موڑ پر آ کھڑا ہے، جہاں افغان قوم اور عالمِ اسلام کو اپنی بقا کے لیے ایک نئے لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ عسکری میدان کا جہاد اپنی جگہ مکمل ہو چکا۔ اب وقت ہے کہ اسی نظم و ضبط، عزم اور بے مثال قربانی کے جذبے کو ‘باہمی اتحاد، علمی اور معاشی جہاد’ میں تبدیل کیا جائے۔
افغانستان کو اپنے نوجوانوں کے لیے جدید عزم اور تکنیکی تعلیم کے دروازے کھولنا ہوں گے، اپنے بے پناہ قدرتی اور معدنی وسائل کو جدید خطوط پر استوار اور ایک ایسا مستحکم داخلی معاشی نظام کھڑا کرنا ہوگا، جو بیرونی پابندیوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکے۔
اسی طرح جب تک عالمِ اسلام کے ممالک اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک مشترکہ معاشی اور علمی بلاک تشکیل نہیں دیتے، وہ عالمی منظر نامے پر اپنی مرضی کے فیصلے کروانے میں ناکام رہیں گے۔ اتحاد اگر بقا کی پہلی شرط ہے تو مادی و علمی ترقی اس بقا کو مستقل عروج دینے کا واحد راستہ ہے۔ تاریخ نے افغانوں کو ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع دیا ہے اور اب یہ ان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس موقع کو اپنے مستقل اور درخشاں مستقبل کی بنیاد کیسے بناتے ہیں۔




















































