گزشتہ نصف صدی کے دوران افغانستان میں استحکام، نظام سازی اور نام نہاد قومی تشکیل کے لیے ہمیشہ بیرونی نسخے آزمائے گئے اور مختلف ناموں سے فرمائشی نظام اس پر مسلط کیے جاتے رہے، جن کے نتائج بھی ہمیشہ منفی نکلے۔ تاہم اس پورے عرصے میں اقتدار یا نظام کے صرف دو ایسے ادوار گزرے ہیں جن کی جڑیں افغان معاشرے میں گہری تھیں اور جو بیرونی حمایت کے بغیر عوامی تائید سے قائم ہوئے۔ یہ امارتِ اسلامیہ کے پہلے اور دوسرے، یعنی موجودہ دورِ اقتدار ہیں۔
ان دونوں ادوار کا امن، تعمیرِ نو اور قومی استحکام آج بھی عوام کی یادوں اور قومی افتخار کا حصہ ہے۔ امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے نہ صرف بیس سالہ بیرونی تسلط کی سیاہ بساط لپیٹ دی گئی، بلکہ قابض قوتوں کے وہ داخلی کٹھ پتلی اور ایک مخصوص علاقے اور صوبے کے نام پر مراعات بٹورنے والے عناصر بھی اقتدار اور سودے بازی سے محروم ہوگئے، جو گزشتہ بیس برسوں کے دوران نام نہاد مجاہد، مزاحمت کار اور جنگجو کے نام پر جمہوری نظام سے بے پناہ مراعات حاصل کرتے رہے۔ مگر ان کی تمام سرگرمیاں ایک ہی خاندان اور قبائلی حلقے تک محدود رہیں؛ نہ انہوں نے اپنے لوگوں کو کوئی فائدہ پہنچایا اور نہ اپنے صوبے کو، جس کے آج تمام افغان گواہ ہیں۔
اپنی باج گیری کا یہ سلسلہ دوبارہ جاری رکھنے اور ماضی کی طرح قوم کے بچوں کو اپنے مفادات، اپنے غیر ملکی آقاؤں کے فائدے اور ان کے مذموم مقاصد کے لیے جنگ میں جھونکنے کی غرض سے انہوں نے مختلف ناموں سے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے۔ اس منفی پروپیگنڈے میں متعصب ذرائع ابلاغ، سابق ترجمان اور نام نہاد مجاہد کے عنوان سے مراعات حاصل کرنے والے عناصر شامل ہیں۔ اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے ان نعروں پر ایک فی صد بھی عمل نہیں کیا، بلکہ اس کے برعکس انتظامی و اخلاقی بدعنوانی، زمینوں پر غاصبانہ قبضے، قتل، اغوا اور منشیات کا کاروبار ان کی نمایاں کارکردگی رہی۔
اس وقت بھی ملک سے باہر مجازی دنیا میں ایسی بہت سی نام نہاد تنظیمیں سرگرم ہیں، جو خطے اور قابض ممالک کے بدنامِ زمانہ خفیہ اداروں کی پشت پناہی سے عام افغان قوم کے بچوں، بالخصوص جذباتی نوجوانوں کو اپنی جانب کھینچنا اور طرح طرح کی امیدیں اور سبز باغ دکھا کر انہیں فریب دینا چاہتی ہیں۔
آزادی، مزاحمت، مبارزین اور محبانِ وطن کے نام سے قائم مختلف محاذ، کونسلیں اور سیاسی اتحاد—جن کی قیادت میں احمد مسعود، سمیع سادات، ڈاکٹر ضیا، استاد سیاف اور گذشتہ جمہوری حکومت کے دیگر مفرور حکام کے نام لیے جاتے ہیں—محض ناموں تک محدود ہیں۔ مزید برآں، انہیں پیش کرنے والے عناصر بھی سخت انتشار اور کمزوری کا شکار ہیں۔ غیر ملکی سرپرستوں کے ڈالروں کا سہارا ہی انہیں کسی قدر ذرائع ابلاغ کے کیمروں کے سامنے زندہ رکھے ہوئے ہے، جبکہ ان کی تمام سرگرمیاں اعلامیوں اور کانفرنسوں تک محدود ہیں۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ افغان مجاہد اور مسلمان عوام ان کی ان مجازی اور نام نہاد خفیہ سرگرمیوں کی حقیقت سمجھ چکے ہیں اور انہیں بخوبی پہچانتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں امارتِ اسلامیہ کی معنوی حقانیت دن بہ دن محض پروپیگنڈے سے نہیں، بلکہ عملی اقدامات سے نمایاں ہورہی ہے۔ یہاں تک کہ افغانستان کے دشمن بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ حکمرانی اور تعمیرِ نو کے موجودہ سلسلے کی گزشتہ نصف صدی میں مثال نہیں ملتی۔
ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ اس نوع کی تنظیمیں، سابق حکام اور ان کے حامی اپنی ساکھ مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔ اس وقت انہیں افغانستان میں تخریبی کارروائیوں، شرانگیزی یا عوام کو یرغمال بنانے کے لیے ایک بالشت جگہ بھی میسر نہیں۔ جب کسی شخص کو ملک کے اندر فساد اور تخریب کاری کے لیے نہ ایک بالشت جگہ حاصل ہو، نہ عوامی اعتماد، بلکہ لوگ اس سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہوں، تو اس کا پروپیگنڈا اور اس کے نعرے بھی الٹا اسی کا شرم ناک چہرہ اور مذموم عزائم بے نقاب کرتے ہیں۔
ان گروہوں، محاذوں اور جمہوری دور کے مراعات یافتہ عناصر کے اپنے زمانۂ اقتدار کے کرتوت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کابل اور دیگر شہروں میں ان کے درندگی، ظلم و وحشت، چوری اور لوٹ مار کی ایک طویل تاریخ ہے۔ یہ اپنے ہی حکومتی رہنماؤں سے مراعات بھی لیتے تھے اور حزبِ اختلاف، سول کارکن یا صحافی کے نام پر اپنے ہی نظام اور اداروں کی جڑیں بھی کاٹتے تھے۔ کبھی حکومت کے ساتھی بنتے اور کبھی اس کے مخالف؛ حکومت کے اندر اپنی الگ حکومتیں قائم کرکے ظلم و دہشت کا بازار گرم رکھتے۔ لوگوں کی آبرو، عزت، مال اور کاروبار ان سے محفوظ نہ تھے۔ انہی کی بداعمالیوں کے باعث بہت سے افغان اندرونِ ملک بے گھر ہونے یا بیرونِ ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔
یہ نام نہاد محاذی عناصر اپنی تمام توجہ ذرائع ابلاغ اور اعلامیوں پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ان کا جواب صرف امارتِ اسلامیہ کے ذرائع ابلاغ اور ترجمان ہی نہیں دیتے، بلکہ عام لوگ اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ کارکن بھی اپنے ایمانی اور افغانی فریضے کے احساس کے تحت رضاکارانہ طور پر ان کا جواب دے رہے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ اعتماد مزید مضبوط اور عوامی ہوتا جارہا ہے کہ بالآخر عالمی قوتوں اور متعصب بیرونی خفیہ حلقوں کو بھی اس قومی اعتماد اور عوامی حمایت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑے گا۔




















































