خوارج کون تھے؟
خوارج وہ پہلا گروہ تھا جس نے اسلام کے ابتدائی دور میں امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے سنگین خطرہ پیدا کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کی تکفیر، تشدد اور عادل امام کے خلاف بغاوت کے ذریعے امت مسلمہ کو ایک خونریز بحران سے دوچار کیا۔
بحث کے آغاز سے پہلے اس گمراہ فرقے کا مختصر تعارف پیش کرنا مناسب ہے، تاکہ اس مضمون کا متعین موضوع واضح طور پر سامنے آ سکے، کیونکہ نوجوانوں اور عام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے جاہل گروہوں کے بارے میں معلومات رکھیں، تاکہ اس گمراہ گروہ کو پہچان کر اس کے جال میں پھنسنے اور ملامت کا نشانہ بننے سے بچ سکیں۔ یہ گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی سے موجود ہے اور شرعی نصوص کی صریح وضاحت کے مطابق آخری زمانے تک بھی باقی رہے گا، یہاں تک کہ اس کا آخری فرد دجال کے ساتھ مل کر نکلے گا۔
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
“جب خوارج کا معاملہ امت مسلمہ میں پھیلا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے بارے میں گفتگو شروع کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے متعلق مروی احادیث بیان کیں اور قرآن کریم کے وہ دلائل پیش کیے جو ان کے نظریات کی تردید کرتے تھے، یہاں تک کہ لوگوں کے سامنے ان کے عقائد کی بدعت ہونا واضح ہوگیا۔”
اسی وجہ سے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خوارج، یعنی اس تکفیری اور انتہا پسند گروہ کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«وسُمُوا خوارج لخروجهم عن الجماعة، وقيل لخروجهم عن طريق الجماعة».
’’انہیں مسلمانوں کی جماعت سے نکلنے یا مسلمانوں کے راستے اور طریقے سے انحراف کرنے کی وجہ سے خوارج کہا گیا ہے۔‘‘
چونکہ خوارج اپنی غلط فہمی اور نادرست سمجھ کی بنیاد پر مختلف زمانوں میں مخصوص عقائد کے تحت بغاوتیں اور سرکشی کرتے ہیں، اور ان کی کچھ خاص نشانیاں اور صفات ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں بیان فرمایا ہے، اس لیے میں نے بھی ضروری سمجھا کہ ان احادیث کی کسی حد تک تشریح اور وضاحت کروں، تاکہ اس گمراہ فرقے کو پہچاننے میں مدد مل سکے۔
راجح قول کے مطابق، اس گروہ کے پہلے فرد نے روئے زمین پر انسانوں کی سب سے افضل شخصیت، عدل و ہدایت کے رہنما، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغاوت کی۔ یہ اس وقت ہوا جب ذوالخویصرہ نامی اس گستاخ خارجی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بے ادبی کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حروریہ کے خوارج ان ابتدائی بدعتی گروہوں میں سے تھے جو اہل سنت والجماعت کے راستے سے الگ ہوگئے، حالانکہ اس وقت خلفائے راشدین، مہاجرین اور انصار میں سے بعض افراد ابھی زندہ تھے۔ ان کی اس علیحدگی نے اسلامی امت کے اتحاد اور یکجہتی کو نقصان پہنچایا۔
خوارج کا پہلا باقاعدہ اجتماع حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت، جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں ان کی شرکت اور سبائیہ فرقے کے ساتھ تعاون کے بعد عمل میں آیا۔ اس فرقے کی قیادت منافق یہودی عبداللہ بن سبا کر رہا تھا۔ خوارج نے اس وقت سر اٹھایا جب مسلمانوں نے صلح کی پیش کش کی اور متحد ہوگئے، بعد ازاں وہ حروراء کے علاقے میں جمع ہوئے۔
خوارج کی بغاوتیں ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور تنازعات کے دوران سامنے آتی ہیں اور وہ ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاریخ کے تمام ادوار میں خوارج کا گروہ اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کی متحدہ صف کو توڑنے کی فکر میں رہا ہے۔ وہ امت کی بہترین شخصیات اور شریعتِ محمدی کے محافظوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ اسلامِ عزیز کمزور ہو اور اسلام کے دشمن اپنے ناپاک مقاصد حاصل کرلیں۔
اس کے باوجود اس نکتے پر توجہ دینا ضروری ہے کہ خوارج کی شناخت قرآن عظیم الشان اور معتبر احادیث میں بیان کردہ صفات کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ محض فکری یا سیاسی اختلاف کی وجہ سے، کسی دلیل اور تحقیق کے بغیر، کسی فرد یا گروہ کو خوارج قرار نہیں دینا چاہیے۔
اسی لیے خوارج کا تاریخی تعارف ان کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث کو درست طور پر سمجھنے کا ایک مقدمہ ہے۔ مضمون کی آئندہ قسطوں میں ان کی ہر اہم نشانی کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا، مثلاً دین میں حد سے تجاوز کرنا، غلط فہم کے باوجود کثرت سے عبادت کرنا، مسلمانوں کی تکفیر کرنا، قرآن عظیم الشان کو سطحی طور پر سمجھنا، سخت مزاجی اور اعتدال سے انحراف کرنا۔


















































