صدیوں کے دوران بارہا ایسی ٹولیاں اور گروہ وجود میں آتے رہے ہیں جو بظاہر مسلمان نظر آتے تھے، اسلامیت کا دعویٰ کرتے تھے، مگر باطن میں مسلمانوں کا خون چوسنے والے اور لوٹ مار کرنے والے ہوتے تھے۔ جیسے صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ اور نورالدین زنگی رحمہ اللہ کے زمانے میں “شیخ سنان” کی کرائے کی ملیشیا اور حشاشین، جن کے اعمال بالکل پاکستانی فوج جیسے تھے۔ وہ اجرت اور معاوضے کے بدلے مسلمانوں اور اعلیٰ شخصیات کو شہید کرتے، مسلمانوں کا مال و اسباب لوٹتے، اور مسلمان عورتوں کو کفار کے لیے سازشوں اور دسیسوں کی خاطر تیار کرتے تھے۔
آج بھی بالکل یہی صورتِ حال ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل، ذخائر اور عوامی ٹیکسوں پر انہوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔ اگر عوام بھوک سے مر بھی رہے ہوں تب بھی یہ گروہ ٹیکس ضرور وصول کرتے ہیں۔ پاکستان میں اسی (فوج) کے ہاتھوں مخالف افراد اور شخصیات کے پراسرار قتل، اس قوم کی پاکدامن عورتوں کو اجرت کے عوض اور کفار کی خوشنودی کے لیے فروخت کرنا، اور کفر کے مفادات کے لیے مظلوم مسلمانوں کا قتلِ عام، یہ وہی کام ہیں جو پہلے بھی ایسی کرائے کی ملیشیائیں کیا کرتی تھیں، اور آج پاکستان کی فوج انہیں اسلامیت کے نام پر انجام دے رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی فوج اپنے آپ کو پاک، مسلمان اور “اسلامی فوج” کہتی ہے۔ عوامی طبقات کے ظاہری اصولوں اور مقدس نعروں کی پابندی صرف اس لیے کی جاتی ہے کہ ظاہر میں لوگوں کو دھوکا دیا جائے اور باطن میں اپنے مقاصد کو آگے بڑھایا جائے۔ تاریخ میں بھی ایسی کرائے کی ملیشیائیں اسی طرح کے القابات اور نعروں کا سہارا لیتی تھیں تاکہ ظاہری طور پر عوام کی بداعتمادی اور ملامت سے بچ سکیں۔
اس فوج نے بھی اپنی خباثت اور شرارت کو چھپانے کے لیے بظاہر ایسا نام اور نشان اختیار کیا ہے گویا کہ وہ اسلام کی محافظ ہے، پاک فوج ہے اور اسلام کی نگہبان ہے، مگر باطن میں وہ اس آیت کے مصداق ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ: ہم تمہارے دوست ہیں، لیکن جب کفار کے پاس جاتے ہیں تو انہی کی دوستی اور مفادات کا ذکر کرتے ہیں اور مسلمانوں کے اخلاص اور اعتماد کا مذاق اڑاتے ہیں۔ پاکستانی فوج کی پالیسی بھی یہی ہے: ظاہر میں مسلمانوں کی دوستی اور حمایت کے بلند و بانگ دعوے، مگر باطن میں انہی مسلمانوں کو فروخت کرنا، قتل کرنا، لوٹنا اور کفار کے مفادات کے لیے قربان کرنا۔
اس بات کے بے شمار شواہد موجود ہیں کہ یہ گروہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں: اپنے زیرِ تسلط مظلوم شہریوں پر “ضربِ غضب” جیسے آپریشن، قبائلی اور پشتون علاقوں کے بے بس عوام پر روزانہ بمباری اور پراسرار قتلِ عام، افغانستان میں ہزاروں اور فلسطین میں دسیوں ہزار مظلوم مسلمانوں کا قتل، کیا یہ کسی پاک فوج، اسلامی فوج اور مسلمانوں کی محافظ فوج کے اعمال ہیں، یا مسلمانوں کے دشمن اور ان کے وسائل، زمین اور مقدسات کے لٹیرے اور تباہ کاروں کے؟
پاکستان کے عوام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس فوج کا اصل چہرہ پہچانیں، جو محض اسلام اور مذہب کے نام پر ایک نعرہ ہے؛ جبکہ حقیقت میں یہ اسلام اور مسلمانوں کی ایک کرائے کی دشمن قوت ہے، جو اپنے مکر، فریب اور نفاق کے ذریعے کفر کے مقاصد کو آگے بڑھا رہی ہے۔




















































