۶- گفتگو اور اظہارِ رائے میں اعتدال
اسلام نے جن شعبوں میں اعتدال اور میانہ روی پر زور دیا ہے، ان میں ایک اہم شعبہ گفتگو، بات کرنے کا انداز اور اس وقت خاموش رہنا بھی ہے جب کہنے کے لیے کوئی اچھی اور مفید بات موجود نہ ہو۔ زبان اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ انسان کے جسم کے نہایت خطرناک اعضا میں بھی شمار ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلام مسلمان کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ ہمیشہ اچھی، سنجیدہ اور مفید بات کرے اور اپنی گفتگو میں افراط و تفریط سے بچا رہے۔
افسوس کی بات ہے کہ آج کل بہت سے مسلمان اپنی گفتگو پر مطلوبہ توجہ نہیں دیتے اور اپنی زبان کے ذریعے اپنے مسلمان بھائیوں کی عزت، شرف اور آبرو کو نقصان پہنچاتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:
﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾ (البقرہ: ۸۳)
ترجمہ: "اور لوگوں سے اچھی بات کیا کرو۔”
اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ فرماتے ہیں:
﴿مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ (ق: ۱۸)
ترجمہ: "انسان کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگران اسے لکھنے کے لیے موجود ہوتا ہے۔”
لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور اس یقین پر قائم رہے کہ اس کی ہر بات اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ کے ہاں ثبت کی جا رہی ہے اور قیامت کے دن اس سے اس کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو زبان کی حفاظت اور گفتگو میں اعتدال اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ہے:
«مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ» (بخاری، حدیث: ۱۶۱۸)
ترجمہ: "جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔”
علمائے دین فرماتے ہیں کہ مسلمان کو اپنی گفتگو پر مکمل توجہ دینی چاہیے۔ اگر کسی بات کا کہنا یا نہ کہنا برابر ہو تو بہتر ہے کہ اسے کہنے سے گریز کرے، کیونکہ ممکن ہے کہ اسی بات کا سلسلہ آگے چل کر حرام تک پہنچ جائے۔ ان مقدس ہدایات کی روشنی میں مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنی زبان کو اسلامی نظام کی تخریب، لوگوں کی توہین، تحقیر، تمسخر، افواہیں پھیلانے، جھوٹ بولنے اور بہتان تراشی کا ذریعہ بنائے۔ دوسری طرف جہاں حق بات کہنے اور نصیحت کرنے کی ضرورت ہو، وہاں خاموشی اختیار کرنا بھی درست نہیں۔ اعتدال یہ ہے کہ انسان مناسب وقت پر، مناسب انداز میں اور ضرورت کے مطابق گفتگو کرے۔
مسلمانوں کے درمیان، گھروں، معاشروں اور حتیٰ کہ بڑے بڑے تنازعات میں بھی اکثر اختلافات اور جھگڑے غیر محتاط گفتگو اور انتہاپسندانہ اظہارِ رائے کے باعث جنم لیتے ہیں۔ اسی لیے اسلام اپنے پیروکاروں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ بولنے سے پہلے غور کریں اور اپنی بات کے نتائج اور اثرات کو پیشِ نظر رکھیں۔
حقیقت یہ ہے کہ گفتگو میں اعتدال مسلمان کی عقل، حکمت اور شخصیت کے پختہ ہونے کی علامت ہے۔ آج بعض مسلمان زبان کی آفتوں میں اس قدر مبتلا ہو چکے ہیں کہ انہیں مسلمان کی عزت، حرمت اور آبرو کی کوئی پروا نہیں رہی، بلکہ وہ اپنی زبان کو اسلام کے مقدس نظام اور اسلامی شریعت کی تخریب اور انتشار کا ذریعہ بنا رہے ہیں؛ حالانکہ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ اسلامی نظام سے دشمنی اور اس کی توہین درحقیقت اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ سے کھلی دشمنی ہے، خصوصاً موجودہ دور میں جبکہ لوگوں کی عزت اور آبرو کو مجروح کرنے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔
مختصراً یہ کہ جب زبان کو حق، ادب اور میانہ روی کے دائرے میں استعمال کیا جائے تو وہ اصلاح، اتحاد اور محبت کا ذریعہ بنتی ہے، لیکن اگر وہ اس دائرے سے نکل کر اسلام اور اسلامی نظام کے خلاف دشمنی کا ہتھیار بن جائے تو اس کا نتیجہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف، دشمنی اور ندامت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔




















































