امر بالمعروف اور نہی عن المنکر: ایک پاکیزہ معاشرے کی جانب راستہ
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہے، جو معاشرے کی سلامتی برقرار رکھنے اور فساد کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعدد ارشادات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو نہ صرف ایک عام دینی فریضہ، بلکہ اسلامی نظام کے بنیادی مقاصد میں سے بھی قرار دیا ہے۔ انہوں نے قندھار شہر میں جنوبی صوبوں کے مقامی ذمہ داروں، علمائے کرام اور قومی عمائدین کے ساتھ ایک نشست میں واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہ بیس سالہ جہاد کے بنیادی مقاصد میں سے ایک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کا نفاذ بھی تھا۔
یہ بیان نظام کی قیادت کے نقطۂ نظر میں اس فریضے کے مرکزی مقام کو واضح کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ اس اصول کا عملی تحقق افغان قوم کے برسوں پر محیط جہاد، جدوجہد اور قربانیوں کے اہم ثمرات میں شمار ہوتا ہے۔ عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کے ارشادات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے ایک اہم اور نمایاں پہلو ان کا منظم اور مربوط نقطۂ نظر ہے جس کے مطابق علماء دین کی وضاحت اور تعلیم کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں، جبکہ حکومت احکام کے نفاذ اور ان پر عمل درآمد کے لیے ضروری ماحول فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔
امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کے نزدیک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نظام کی مضبوطی اور استحکام کا سبب بنتا ہے، اور اس پر عمل کرنا مسلمانوں کا ایمانی فریضہ ہے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو محض ایک انتظامی یا حکومتی ذمہ داری نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں کی دینی اور ایمانی ذمہ داری سمجھتے ہیں جس کی ادائیگی اسلامی نظام کی بقا اور معاشرے کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے ایک دوسری نشست میں صوبۂ پکتیا کے مقامی ذمہ داروں کے ساتھ بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے قانون کے نفاذ پر زور دیا اور ملک کی موجودہ صورتِ حال کو اسلامی احکام کے نفاذ کے لیے موزوں قرار دیا۔
تجزیاتی اعتبار سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کے اصرار کا جائزہ چند بنیادی محوروں کے تحت لیا جا سکتا ہے۔
اول: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذمہ دار ادارے کی حمایت
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا قانون، جو ایک مقدمے، چار ابواب اور ۳۵ دفعات پر مشتمل ہے، امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کی منظوری کے بعد سرکاری جریدے میں شائع ہوا، اور اس کے نفاذ کی ذمہ داری وزارتِ امر بالمعروف، نہی عن المنکر و سماعتِ شکایات کے سپرد کی گئی۔ یہ قانون مذکورہ وزارت کو پابند بناتا ہے کہ وہ شریعت اسلامیہ اور فقہ حنفی کے مطابق نیکیوں کی تلقین کرے اور لوگوں کو برائیوں سے روکے۔ اسی طرح، اس وزارت کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ لوگوں کے درمیان صلح اور اخوت کو فروغ دے اور انہیں قومی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے روکے۔
دوم: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نفاذ کے دوران اخلاقی اصولوں کی پابندی
مذکورہ قانون میں افراد کی شخصیت اور انسانی وقار کا احترام، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ، نرمی کے ساتھ وعظ و نصیحت، لوگوں کے پوشیدہ گناہوں کو ظاہر کرنے سے گریز اور تجسس سے اجتناب کو احتساب کے بنیادی اصولوں میں شمار کیا گیا ہے۔ یہ اصول واضح کرتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نفاذ حکمت، اچھی نصیحت اور انسانی وقار کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیے، نہ کہ تشدد اور لوگوں کے نجی معاملات میں تجسس کے ساتھ۔
سوم: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذمہ دار ادارے کے ساتھ تعاون میں علماء کا کردار
امیرالمؤمنین حفظہ اللہ نے علماء سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کے نفاذ میں متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنی مساجد میں روزانہ نمازیوں اور لوگوں کے سامنے ایمان، عقیدے اور نماز سے متعلق موضوعات بیان کریں۔ یہ ہدایات امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے قیادت کے منظم اور مربوط نقطۂ نظر کو ظاہر کرتی ہیں جس کے مطابق علماء دین کی وضاحت اور تعلیم کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں، جبکہ حکومت اسلامی احکام کے نفاذ اور ان پر عمل درآمد کے لیے ضروری ماحول فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔
چہارم: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا لوگوں کے شرعی حقوق سے تعلق
خواتین کے شرعی حقوق کی فراہمی کے مقصد سے وزارتِ امر بالمعروف نے جبری نکاح، مہر، نفقے اور میراث سے متعلق متعدد معاملات کی پیروی کی ہے اور خواتین پر ظلم کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کے نقطۂ نظر میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر صرف برائیوں کی روک تھام تک محدود نہیں، بلکہ اس میں مظلوموں کے حقوق دلانا اور معاشرے کے کمزور طبقات کی حمایت کرنا بھی شامل ہے۔
آخر میں یہ کہنا چاہیے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالے سے عالیقدر امیرالمؤمنین حفظہ اللہ تعالیٰ کا اصرار، فرد اور معاشرے کی اصلاح میں اس فریضے کے کردار کے گہرے ادراک سے سرچشمہ لیتا ہے۔ وزارتِ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی حمایت اور اس ادارے کے ساتھ تعاون کے لیے علماء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے وہ اس الٰہی فریضے کے نفاذ کے لیے ایک منظم اور مربوط طریقۂ کار قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ افغانستان کا معاشرہ پاکیزگی، تقویٰ اور احکامِ شریعت سے وابستگی کی جانب گامزن ہو۔ یہ طرزِ عمل، اگر حکمت اور اچھے اخلاق کے ساتھ اپنایا جائے، تو معاشرتی تصورات اور رویّوں میں گہری تبدیلی کی راہ ہموار کر سکتا ہے اور اسلامی نظام کو اس کے اعلیٰ مقاصد کے حصول میں مدد دے سکتا ہے۔
کیونکہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کے بغیر معاشرے کی اصلاح ناممکن ہے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلامی معاشرے کا وہ مضبوط ستون ہے جس کے کمزور پڑ جانے سے معاشرے کا پورا ڈھانچا منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔


















































