خودکفیل معیشت
امارت اسلامیہ نے پورے ملک میں پائیدار سکیورٹی کے قیام کے بعد معیشت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے میدان میں اہم اور بڑے اقدامات کیے ہیں۔ وہ معیشت جو قبضے کے دوران بڑی حد تک بیرونی امداد پر منحصر تھی اور امداد دینے والے ممالک کی پالیسیوں میں کسی بھی قسم کی تبدیلی لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر سکتی تھی، آج ایک نئی راہ پر گامزن ہے، جو داخلی آمدنی میں اضافے، ملکی وسائل سے استفادے، پیداوار کی ترقی اور علاقائی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر مبنی ہے۔
یہ تبدیلی نہ صرف بیرونی دنیا پر اپنے انحصار کو کم کرنے کے لیے امارت اسلامیہ کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ اس سے معیشت کی زیادہ پائیدار بنیادیں قائم کرنے اور ملک کے لیے ایک روشن مستقبل کی راہ ہموار کرنے کا موقع بھی پیدا ہو تا ہے۔
اس سلسلے میں افغانستان کی پانچ سالہ ترقیاتی حکمتِ عملی کی تدوین اور منظوری ایک اہم قدم ہے۔ مذکورہ حکمتِ عملی میں اچھی حکمرانی، شرعی قانون کی بالادستی، سکیورٹی اور عوامی نظم و ضبط کا قیام، ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی اہم بنیادوں میں شمار کیا گیا ہے، اور اس میں کوشش کی گئی ہے کہ اقتصادی پروگراموں کو ایک منظم اور بامقصد فریم ورک کے تحت آگے بڑھایا جائے۔ اسی دستاویز کے پروگراموں کی بنیاد پر مالی سال ۱۴۰۵ ھ ش کے ترقیاتی بجٹ کی تیاری بھی طویل مدتی منصوبہ بندی اور ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل تشکیل دینے پر زیادہ توجہ کی عکاسی کرتی ہے۔
کان کنی اور پٹرولیم کے شعبے میں افغانستان کے قدرتی وسائل کی شناخت، استخراج اور استفادے کے لیے وسیع پیمانے پر سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں۔ نئے معدنی علاقوں کی شناخت اور رجسٹریشن کی گئی ہے، متعدد منصوبے بولی کے لیے پیش کیے گئے ہیں اور متعدد منصوبوں کے لیے سرگرمیوں کے اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ داخلی آمدنی میں اضافے، متعلقہ صنعتوں کی ترقی اور ملک کے قدرتی وسائل سے زیادہ مؤثر استفادے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
صنعت اور تجارت کے شعبے میں بھی وسیع پیمانے پر سرگرمیاں انجام دی گئی ہیں۔ نئی فیکٹریوں نے کام شروع کیا ہے، ملکی صنعتوں کی ترقی کے لیے مواقع فراہم کیے گئے ہیں اور بعض خام مال اور صنعتی مشینری کے لیے کسٹم کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ اسی دوران خطے کے ممالک کے ساتھ افغانستان کی تجارت میں بھی وسعت آئی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ برآمدات، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی موجودگی کے لیے مزید سہولتیں فراہم کی جائیں۔
وزارتِ صنعت و تجارت نے بھی مختلف کمپنیوں اور ممالک کے ساتھ متعدد تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں اور قراردادوں پر دستخط کی اطلاع دی ہے، جو افغانستان میں سرمایہ آنے اور ملک کے اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے راستہ ہموار کریں گے۔
بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں قوش تیپہ نہر کا منصوبہ حالیہ برسوں کے اہم اقتصادی اور زرعی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس منصوبے پر کام ملکی وسائل کے استعمال سے جاری ہے اور اس کی تکمیل ملک کے شمال میں زرعی زمین کے ایک بڑے حصے کو آب پاشی کے دائرے میں لا سکتی ہے۔ مذکورہ منصوبہ زراعت کی ترقی اور زرعی زمین میں اضافے کے علاوہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے اور آبی وسائل کے بہتر انتظام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
زراعت اور مال مویشیوں کے شعبے میں بھی ملکی پیداوار میں اضافے کے لیے مختلف پروگرام نافذ کیے گئے ہیں۔ بہتر اقسام کے بیجوں کی تقسیم، پھل دار باغات کی توسیع، آب پاشی کے نئے نظاموں کو وسعت دینا، کسانوں کی مدد اور زرعی پیداوار کی خریداری ایسے اقدامات ہیں جو اس شعبے میں کیے گئے ہیں۔ مال مویشیوں کے شعبے میں بھی ملکی پیداوار میں اضافہ لوگوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
افغانستان کی معیشت میں ایک اور اہم موضوع غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں افغانی کی قدر برقرار رکھنا ہے۔ افغانستان بینک نے مالیاتی پالیسیوں کے نفاذ اور کرنسی مارکیٹ کے انتظام کے ذریعے شدید اتار چڑھاؤ کو روکنے اور قومی کرنسی کا استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ معاملہ، خصوصاً مالی پابندیوں اور بین الاقوامی پابندیوں کے حالات میں، اقتصادی ذمہ داران کی جانب سے حالیہ برسوں کی اہم کامیابیوں میں شمار کیا گیا ہے۔
ان بہت سی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی اعداد و شمار وزارتوں، محکموں اور متعلقہ اداروں میں موجود ہیں اور ذمہ دار حکام نے پریس کانفرنسوں اور مختلف پروگراموں میں یہ رپورٹس عوام کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ اسی لیے ہم نے اپنے مضمون میں تمام جزوی اعداد و شمار بیان کرنے کے بجائے سرگرمیوں کی اصل نوعیت اور پیش رفت کے عمومی عمل پر توجہ مرکوز کی ہے۔
لیکن غیر ملکیوں اور ان کے اجرتی کارندوں کے چنگل سے ملک کی آزادی کے بعد بعض مخالف میڈیا اداروں، حلقوں اور تخریب کار عناصر نے کوشش کی ہے کہ افغانستان کی معیشت کو تباہی، تعطل اور بدانتظامی کے تناظر میں پیش کریں اور امارت اسلامیہ کی وسیع اقتصادی اور تعمیراتی سرگرمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا تاثر دیں کہ سیاسی نظام کی تبدیلی کے باعث ملک کی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ یہ بیانیہ موجودہ اور جاری حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اگر افغانستان کی معیشت واقعی تباہی کی طرف جا رہی ہوتی تو بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا جاری رہنا، کان کنی کی سرگرمیوں میں توسیع، فیکٹریوں کا آغاز اور ان کی توسیع، خطے کے ممالک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات میں اضافہ، زراعت کے شعبے میں وسیع پروگراموں کا نفاذ اور قومی کرنسی کے استحکام کو برقرار رکھنے کی کوششوں کی آخر کس طرح توجیہ کی جا سکتی ہے؟ امارت اسلامیہ ایسے حالات میں، جب ملک کو بیرونی امداد میں شدید کمی، مالی اور دیگر پابندیوں اور قومی اثاثوں کے ایک حصے کے منجمد کیے جانے کا سامنا تھا، داخلی آمدنی کے نظام کو فعال رکھنے، بڑے قومی منصوبوں کو جاری رکھنے اور معیشت کے بعض شعبوں کو بیرونی امداد پر شدید انحصار سے نکال کر ملکی وسائل اور صلاحیتوں کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
اگرچہ غربت، بے روزگاری اور عوام کے معیارِ زندگی کے حوالے سے اب بھی سنگین مسائل موجود ہیں، لیکن مذکورہ تمام اقدامات ہمیں یہ دکھاتے ہیں کہ بعض جارحانہ میڈیا اداروں کی جانب سے پیش کیا جانے والا افغانستان کا منظرنامہ ملک کی معیشت کی مکمل اور غیر جانب دار تصویر نہیں ہے۔ اقتصادی مسائل سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان مسائل کو اس قدر بھی بڑا نہیں کیا جا سکتا کہ تمام انجام دی جانے والی سرگرمیوں، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور حکومت کی ان کوششوں کو نظر انداز کر دیا جائے جو داخلی وسائل کی بنیاد پر ایک معیشت تشکیل دینے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
زمینی حقائق یہ واضح کرتے ہیں کہ افغانستان کی معیشت تمام مشکلات کے باوجود نہ رکی ہے اور نہ تباہ ہوئی ہے، بلکہ یہ ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے اور ایسی معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے جس میں داخلی آمدنی، پیداوار، کان کنی، زراعت، تجارت اور سرمایہ کاری کا کردار روز بروز وسیع ہو رہا ہے۔ درحقیقت ان تمام اقدامات کا مجموعہ امارت اسلامیہ کی ان کوششوں کی عکاسی کرتا ہے جن کے ذریعے وہ ایک آزاد اقتصادی نظام کی بنیادیں مضبوط کرنا اور افغانستان کو ایک خوش حال، مضبوط اور خودکفیل ملک کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔




















































