امارت اسلامیہ کی دوبارہ فتح کو پانچ سال گزر چکے ہیں۔ آج افغانستان اور اس تصویر کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے جو اس کے دشمن اور بعض ذرائع ابلاغ پیش کرتے ہیں۔ آئیے وہ دن یاد کریں جب ملک کی سرزمین غیر ملکی قابضین کے قدموں تلے تھی، ہر ضلع مقامی غنڈوں کے شکنجے میں تھا اور دھماکوں کی آواز لوگوں کی روزمرہ زندگی کا ایک معمول کا حصہ بن چکی تھی۔
ان تاریک دنوں میں کسی کو یقین نہیں تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ایک آزاد اور اسلامی نظام نہ صرف لوگوں کے گھروں میں امن لائے گا، بلکہ اقتصادی، عدالتی، معاشرتی اور سفارتی شعبوں میں بھی اپنی واضح اور قابلِ ذکر کارکردگی کے نقوش چھوڑے گا۔ لیکن آج یہ یقین حقیقت میں بدل چکا ہے اور امارت اسلامیہ نے اپنے ایمان اور عوام کی حمایت کی بدولت اس تھکے ماندے اور جنگ زدہ ملک میں تاریخی تبدیلیاں لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
لیکن افغانستان جیسے خطے میں ہر بڑی تبدیلی ہمیشہ شکوک، الزامات اور تخریب کاری کی لہروں کے ساتھ آتی ہے۔ امارت اسلامیہ کا نظام بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ امارت کی واپسی کے ساتھ ہی ان گروہوں نے، جن کا اصل سرمایہ بدامنی اور افراتفری میں تھا، ان ذرائع ابلاغ نے، جو عوام کی بدبختیوں اور مشکلات سے اپنی خبروں کی خوراک حاصل کرتے تھے، اور بعض علاقائی و بیرونی طاقتوں نے، جنہوں نے افغانستان میں بحرانوں کے تسلسل سے اپنے مفادات وابستہ کر رکھے تھے، اس نظام کے خلاف ہمہ گیر مہم شروع کر دی۔
انہوں نے کوشش کی کہ امارت اسلامیہ کی عظیم کامیابیوں کو ملک چلانے کی نااہلی، عالمی تنہائی، حقوق کو دبانے یا دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعاون جیسے الزامات کے ذریعے مشکوک بنا دیا جائے۔ یہ الزامات، جو ہر روز نئی زبان اور نئی شکل میں دہرائے جاتے ہیں، اگرچہ پہلی نظر میں قائل کرنے والے دکھائی دیتے ہیں، لیکن معلوم حقائق کی روشنی میں یکے بعد دیگرے اپنی قوت کھوتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ حقیقت کچھ اور ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امارت اسلامیہ نے گزشتہ پانچ برسوں میں ملک کے تمام اہم شعبوں میں ایسی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کی اس سے پہلے نہ جمہوریہ کے دور میں اور نہ ہی افغانستان کی معاصر تاریخ کے کسی دوسرے مرحلے میں کوئی مثال ملتی ہے۔ سکیورٹی کے شعبے میں آج افغانستان اپنی تاریخ کی محفوظ ترین حالت میں ہے۔ گزشتہ نصف صدی میں پہلی بار ملک کی سرحدیں مکمل طور پر نیشنل فورسز کے کنٹرول میں ہیں اور داعش کا وہ دہشت گرد گروہ، جسے ایک وقت میں وحشت اور بربریت کی علامت سمجھا جاتا تھا، حکومت کے مطابق اور بین الاقوامی رپورٹس کی روشنی میں، اس سرزمین سے مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ وسیع پیمانے کا امن و امان حکومت کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، جس نے دیگر تمام تر ترقی کے لیے راہ ہموار کی ہے۔
معیشت کے شعبے میں ملک بیرونی امداد اور کشکول اٹھانے کے دور سے نکلنے کی جانب گامزن ہے اور اس نے داخلی آمدنی کی بنیاد پر خود کفالت کی سمت اہم قدم اٹھائے ہیں۔ قوش تپہ نہر کا منصوبہ، جسے خطے کے بڑے بنیادی انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے، قومی وسائل سے ملک کے شمال کی پیاسی زمینوں کو سیراب کر رہی ہے، جبکہ غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں افغانی کا استحکام نظام کی اقتصادی بنیادوں کے مضبوط ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ قانون کی بالادستی اور انصاف کے شعبے میں شرعی عدالتوں نے تیزی اور دقت کے ساتھ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں قانونی اور فوجداری مقدمات نمٹائے ہیں، اور شریعت کی بنیاد پر قائم عدالتی نظام نے نہ صرف لوگوں کی زندگی میں انصاف کے قیام کی راہ ہموار کی ہے بلکہ زمینوں پر قبضے اور انتظامی بدعنوانی کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔
امارت اسلامیہ نے معاشرتی میدان میں بھی قابلِ ذکر کارکردگی دکھائی ہے۔ یتیموں، بیواؤں اور معذور افراد کی ہر طرح سے مدد، ان دسیوں ہزار افراد کا علاج جو منشیات کے عادی ہو گئے تھے اور قبضے کے دوران اس گھر اجاڑنے والی آفت کا شکار ہوئے تھے، اور واپس آنے والے مہاجرین کے مسائل سے نمٹنا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ نظام خود کو عوام کے سامنے عہد کا پابند اور ذمہ دار نظام سمجھتا ہے، نہ کہ ویسا جیسا اس کے دشمن پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی، تمام دباؤ اور پابندیوں کے باوجود، امارت اسلامیہ علاقائی ممالک اور عالمی طاقتوں کے ساتھ وسیع تعلقات اور روابط قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور روس سمیت بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے باضابطہ تسلیم کیے جانے کا اعزاز بھی حاصل کر چکی ہے۔
اس سلسلے کے مضامین کا مقصد انہی سادہ اور واضح حقائق کو دوبارہ بیان کرنا ہے۔ ہم بڑے نعروں اور عمومی باتوں کے ذریعے قارئین کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے، بلکہ رواں، حقائق پر مبنی اور مستند زبان استعمال کرتے ہوئے نظام کی پانچ سالہ کارکردگی، سکیورٹی اور معیشت سے لے کر انصاف اور سفارت کاری تک، کو یکے بعد دیگرے حقیقت کے آئینے میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان الزامات کا بھی واضح اور منطقی رد پیش کریں گے جو مختلف حلقوں کی جانب سے اس نظام کے خلاف اٹھائے جاتے ہیں۔
کیونکہ ہمارے نزدیک شکوک و شبہات تاریکی میں باقی رہتے ہیں اور صرف حقیقت کی روشنی میں ختم ہو سکتے ہیں۔ امارت اسلامیہ آج ایک تاریخی اور قومی حقیقت ہے، جو اس سرزمین کے نوجوانوں کے خون اور قربانیوں سے وجود میں آئی ہے، اور ہر وہ آزاد انسان جو افغانستان کے امن اور خوش حالی پر یقین رکھتا ہے، اسے یہ ذمہ داری سمجھنی چاہیے کہ اس نظام کے تحفظ اور تسلسل کے لیے کوشش کرے اور جھوٹ بولنے والوں کو یہ اجازت نہ دے کہ وہ اس عظیم کامیابی کو اس سرزمین کے لوگوں سے چھین لیں۔




















































