گزشتہ صدیوں میں بھی مسلمانوں کی خلافتوں، امارتوں اور ریاستوں کے خلاف صلیبی اور یہودی مداخلتوں اور سازشوں کی یہی صورتِ حال رہی ہے۔ خود مسلمانوں کے درمیان سے کچھ داخلی عناصر اٹھتے، یہود و کفار سے سازباز شروع کردیتے اور کفار انہیں کامیابی کی صورت میں مال و منصب کے وعدے دیتے۔ یوں ایمان فروش یا بظاہر مسلمانوں جیسی صورت رکھنے والے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے اور اسلامی خلافتوں، امارتوں اور ریاستوں کے خلاف بغاوت و جنگ کا آغاز کردیتے۔
تاریخ کے صفحات میں ایسے منافق صفت اور ایمان فروش لوگوں کے مقاصد اور عزائم پوری طرح عیاں ہیں۔ وہ کفار کی سازشوں کے تحت مسلمانوں اور ان کے شرعی نظاموں کے لیے مشکلات کھڑی کرتے تھے، تاکہ ایک طرف اپنے کافر آقاؤں کو خوش کریں اور دوسری طرف مسلمانوں کو باہم الجھاکر کفار کے خلاف ان کی سرگرمیوں کا راستہ روکیں۔ اس طرح وہ اپنی بغاوت میں ذاتی مفادات کے حصول اور کفر کے دفاع کی راہیں تلاش کرتے تھے۔
ماضی میں بھی باغیوں کے سردار کفر و باطل کے محلات اور شہروں میں آرام سے بیٹھے رہتے، جب کہ ان کے لالچ اور فریب کا شکار ہونے والے افراد ہی خون میں نہلاتے جاتے تھے۔ تاریخ کے صفحات میں یہ حقیقت بھی دوٹوک الفاظ میں درج ہے کہ باطل مفادات اور مقاصد کے لیے ایمان فروشوں اور منافقوں کی کوئی بغاوت کبھی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئی؛ بلکہ خود یہی باغی اس طرح غرق و نابود ہوئے کہ کفار نے بھی اس کا تصور نہ کیا تھا۔ ایک زمانے میں سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے خلاف سوڈانیوں نے صلیبیوں کے اشارے پر بغاوت کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس بغاوت کے نتیجے میں سوڈانیوں کو جلنے، پانیوں میں غرق ہونے اور بیابانوں میں سڑ جانے جیسے عذابوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں خوارج کے ابتدائی ظہور اور بغاوت نے بھی خوارج اور باغیوں کی جڑیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔ چناںچہ امارتِ اسلامیہ افغانستان آج بھی باغیوں اور اغیار کے اشاروں اور مقاصد کے فریب میں آنے والوں سے کہتی ہے کہ اس تاریخ کو دیکھو؛ جن لوگوں نے اسلام کے لباس اور نام کی آڑ میں ذاتی مفادات اور کفر کے فائدے تلاش کیے تھے، آج ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں۔
امارتِ اسلامیہ افغانستان باغیوں اور بغاوت کی سرکوبی کے سلسلے میں اپنے اسلاف اور گزشتہ شرعی امراء کے طرزِ عمل اور فتوے ہی کو اپنا لائحۂ عمل سمجھتی ہے کہ باغیوں کی بغاوت کا انجام خود انہی کا خون میں نہانا ہوگا۔ آج افغان قوم جس بے مثال امن و آزادی سے بہرہ مند ہیں، وہ انہوں نے قربانیوں اور طویل جدوجہد کے نتیجے میں حاصل کی ہے۔ پھر آج تخریب کار حلقوں اور محاذوں کو منظم ہونے اور سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت اور موقع کیوں کر دیا جاسکتا ہے؟
امارتِ اسلامیہ افغانستان اور عمومی طور پر مسلمانوں کی ہر شرعی امارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بدامنی، تخریب کاری اور خطرات پیدا کرنے والے عناصر کی جڑیں اکھاڑ پھینکے؛ کیوں کہ وہ اپنے عوام کے دفاع پر مامور اور اس کے ذمہ دار ہیں۔ اگر بروقت دفاع کے لیے اپنے حدودِ اقتدار سے باہر کسی اقدام یا کارروائی کی ضرورت پیش آئے تو وہ بھی انجام دی جائے گی۔ آج امارتِ اسلامیہ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے، دھمکیاں دینے اور غنڈا گردی کی روش دہرانے والا ہر حلقہ ماضی کی نسبت کہیں زیادہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
مطمئن اور پُراعتماد رہئیے! جس طرح ہم نے افغانستان کی پاک سرزمین کو ان کے وجود سے پاک کیا تھا، اسی طرح آج بھی ان کے ناپاک قدم افغانستان کی غازی اور مقدس سرزمین کو دوبارہ آلودہ نہیں کرسکیں گے۔




















































