خوارج اور ان جیسے گروہوں کے بارے میں قرآنِ عظیم الشان کی آیات اور روایات
قرآنِ عظیم الشان میں کوئی ایسی آیت واضح اور براہِ راست نظر نہیں آتی جس میں خوارج کا ذکر کیا گیا ہو, تاہم اسلام کے بہت سے جلیل القدر مفسرین کا ماننا ہے کہ بعض آیات اپنے سببِ نزول اور وسیع مفہوم کے اعتبار سے تاریخ کے مختلف ادوار میں خوارج اور ان جیسے گروہوں کو بھی شامل کرتی ہیں۔ ان آیات میں سے ایک سورۂ آل عمران کی یہ مبارک آیت ہے:
﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ﴾
"اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو واضح دلائل آ جانے کے بعد متفرق ہو گئے اور باہمی اختلافات میں پڑ گئے۔”
مفسرین کے مطابق، یہ آیت امتِ مسلمہ کو خبردار کرتی ہے کہ وہ تفرقے اور مسلمانوں کی جماعت سے جدائی سے بچیں, یہی وہ راستہ تھا جسے خوارج نے اختیار کیا اور بعد میں داعش اور اس جیسے گروہوں نے بھی بے بنیاد تکفیر کے ذریعے امتِ مسلمہ کو تقسیم، انتشار اور خونریزی میں مبتلا کیا۔ لیکن خوارج اور ان کی علامات کو پہچاننے کا سب سے اہم اور واضح ذریعہ نبوی احادیث ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے متعدد احادیث میں، جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسی معتبر حدیثی کتب میں درج ہیں، اس منحرف گروہ کی خصوصیات کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
یہ نبوی پیش گوئیاں خوارج کے ظاہر ہونے سے پہلے بیان کی گئی تھیں اور بعد میں اسلامی فقہاء کے فتووں کی اہم بنیاد بنیں، تاکہ خوارج اور تاریخ میں ان جیسے ہر گروہ کی مذمت کی جا سکے۔ اس بارے میں سب سے مشہور اور واضح حدیث رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہے:
«یَخرُجُ قَومٌ فِي آخِرِ الزَّمانِ، أَحداثُ الأسنانِ، سُفَهاءُ الأحلامِ، يَقرَؤونَ القُرآنَ لا يُجاوِزُ حُلوقَهُم، يَمرُقونَ مِنَ الدِّينِ كَما يَمرُقُ السَّهمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.»
"آخری زمانے میں ایک گروہ نکلے گا، وہ کم عمر اور کم عقل ہوں گے۔ قرآنِ عظیم الشان پڑھیں گے، مگر وہ ان کے حلق سے آگے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔”
یہ نبوی فرمان خوارج اور ان کے پیروکاروں، جیسے داعش، کی کئی بنیادی خصوصیات کو واضح کرتا ہے۔ پہلی یہ کہ وہ قرآنِ عظیم الشان کی تلاوت کرتے ہیں، لیکن اس کے گہرے معانی کے صحیح فہم سے محروم ہوتے ہیں، قرآن ان کی زبانوں پر جاری ہوتا ہے، مگر ان کے دلوں اور اعمال پر اس کا اثر نہیں ہوتا۔
دوسری یہ کہ وہ کم تجربہ کار اور کم عقل نوجوان ہوتے ہیں، جو کافی علم اور شرعی بصیرت کے بغیر جلد بازی اور بے سوچے سمجھے فیصلے اور اقدامات کرتے ہیں۔ تیسری یہ کہ اگرچہ وہ خود کو بہت زیادہ دیندار ظاہر کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں دین سے نکل جانے والے ہوتے ہیں اور حقیقی اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے خوارج کو "مخلوقات میں سب سے بدترین لوگ” قرار دیا اور فرمایا: "وہ قرآنِ عظیم الشان پڑھتے ہیں، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھتا۔”
یہ گہرا اور ہلا دینے والا فرمان واضح کرتا ہے کہ صرف ظاہری تلاوت، اگر دل کے ایمان اور دین کے صحیح فہم کے ساتھ نہ ہو، کسی فائدے کی حامل نہیں؛ بلکہ وہ لوگ جو کلامِ الٰہی کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، بدترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، جو صحابۂ کرام کے بڑے مفسرین میں سے تھے، خوارج سے ملاقات کے بعد فرمایا:
"میں نے کبھی ایسا کوئی گروہ نہیں دیکھا جو عبادت میں ان سے زیادہ کوشش کرنے والا ہو؛ کثرتِ سجدہ کی وجہ سے ان کی پیشانیاں سیاہ ہو چکی تھیں اور ان کے ہاتھ اونٹ کے گھٹنوں کی طرح سخت ہو گئے تھے؛ لیکن یہی گروہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سب سے بدترین گروہ ہے۔”
یہ قول ظاہر کرتا ہے کہ ظاہری عبادت، اگر دین کے صحیح فہم اور اسلامی اخلاق کے ساتھ نہ ہو، نہ صرف بے قدر ہے بلکہ انسان کو مزید گہری گمراہی تک پہنچا دیتی ہے۔ داعش، جو خود کو اسلام کا حقیقی نمائندہ سمجھتی ہے، حقیقت میں انہی خصوصیات کی حامل ہے جن سے رسول اللہ ﷺ نے چودہ صدیاں پہلے خبردار فرمایا تھا۔ ان کے اکثر افراد نادان اور کم تجربہ کار نوجوان ہیں جو دین کے معمولی علم کی بنیاد پر خود کو زمانے کے بڑے علماء سمجھتے ہیں۔ وہ قرآنِ عظیم الشان پڑھتے ہیں، لیکن اس کے صحیح فہم اور مقاصد سے محروم ہیں۔
وہ ظاہری عبادات کو نہایت سخت گیر انداز میں انجام دیتے ہیں، لیکن اسی وقت بے گناہ عورتوں اور بچوں کا قتل، عبادت گاہوں کی تباہی اور قیدیوں کو غلام بنانا اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ یہی وہ گروہ ہے جس کے فتنے سے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو خبردار فرمایا اور ارشاد فرمایا:
"جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ، ان سے جنگ کرو؛ کیونکہ ان کا قتل اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر کا باعث ہے۔”




















































