تاریخ کا مطالعہ محض ماضی کے دریچوں میں جھانکنے یا گزرے ہوئے سلاطین کے مقابر پر کَتبے پڑھنے کا نام نہیں ہے۔ یہ دراصل اُن ناقابلِ تبدیل اور آفاقی اصولوں کا فہم حاصل کرنے کی جستجو ہے، جو انسانی معاشروں کے عروج و زوال کو کنٹرول کرتے ہیں۔
دنیا کے نقشے پر قومیں ابھرتی ہیں، عروج کے آسمان کو چھوتی ہیں اور پھر وقت کی بے رحم موجوں میں اس طرح گم ہو جاتی ہیں، جیسے اُن کا کبھی کوئی وجود ہی نہ تھا۔
تاہم ایشیا کے قلب میں واقع ایک ایسا خطہ بھی ہے… جس نے زمانوں کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھے، عالمی فاتحین کے طوفان سہے، مگر اپنی انفرادیت اور حریت پسندی کا سودا کبھی نہیں کیا۔ اس خطے کو دنیا افغانستان کے نام سے جانتی ہے۔
افغانستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے صرف اس کی جنگوں کا مطالعہ کافی نہیں، بلکہ یہاں کے سنگلاخ پہاڑوں، دشوار گزار دروں اور یہاں کے باسیوں کی نفسیات کا ادراک ضروری ہے۔ یہ ایک ایسا جغرافیہ ہے… جہاں قدرت نے خود دفاع کی ایسی دیواریں کھڑی کر دی ہیں، جنہیں دنیا کی جدید ترین عسکری مشینری بھی اب تک تسخیر کرنے میں ناکام رہی ہے۔
البتہ تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ محض ایک مضبوط جغرافیہ اور انفرادی بہادری کسی ملک کو عالمی سازشوں سے مستقل تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔ جب تک ایک قوم کے پاس مضبوط معاشی نظام، جدید عسکری ٹیکنالوجی اور سب سے بڑھ کر ایک مستحکم داخلی اتحاد موجود نہ ہو، اُس وقت تک وہ عالمی شطرنج کی بساط پر محض ایک مہرہ بن کر رہ جاتی ہے۔
انیسویں صدی کا اواخر اور بیسویں صدی کا آغاز افغانستان کے لیے ایک ایسا ہی کٹھن دور تھا، جہاں اسے ایک طرف اپنے اندرونی انتشار کا سامنا تھا اور دوسری طرف دنیا کی دو عظیم ترین استعماری طاقتیں اس کی سرحدوں پر خیمہ زن تھیں۔ یہ وہ دور تھا، جس نے افغان تاریخ کے رخ کو ایک طویل عرصے کے لیے بدل کر رکھ دیا اور موجودہ نقشے کی بنیادیں رکھیں۔
دی گریٹ گیم؛ دو پاٹوں کے درمیان پھنسا ہوا خطہ:
انیسویں صدی کے وسط میں دنیا ایک ایسی سرد اور گرم سفارتی جنگ کی گواہ بن رہی تھی، جسے تاریخ نویسوں نے ‘دی گریٹ گیم’ یا ‘عظیم کھیل’ کا نام دیا۔ یہ کھیل کسی میدان میں نہیں، بلکہ ایشیا کے وسیع و عریض نقشے پر کھیلا جا رہا تھا اور اس کے اصل کھلاڑی زارِ روس کی سلطنت اور برطانوی راج تھے۔
سلطنتِ روس اُس دور میں بڑی تیزی کے ساتھ جنوب کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی۔ تاشقند، سمرقند، خیوا اور امارتِ بخارا جیسے تاریخی اور مضبوط مراکز ایک ایک کر کے روسی سلطنت کے زیرِ نگین آ رہے تھے۔ روس کا یہ بڑھتا ہوا سیلاب برطانوی حکمرانوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا تھا۔
کیوں کہ برطانیہ کے لیے ہندوستان صرف ایک نوآبادی نہیں، بلکہ وہ برطانوی سلطنت کا تاج تھا۔ اس کی معیشت کا انجن تھا اور اس کا سب سے قیمتی اثاثہ تھا۔ لندن اور کلکتہ میں بیٹھے ہوئے انگریز وائسرائے اور جرنیل اس خوف میں مبتلا تھے کہ اگر روس اسی تیز رفتاری سے آگے بڑھتا رہا تو وہ ہندوکُش کے پہاڑوں کو پار کر کے کسی بھی وقت ہندوستان کی زرخیز زمینوں پر قابض ہو سکتا ہے۔
اس پورے منظر نامے میں افغانستان کی حیثیت ایک ایسے دروازے کی تھی… جس کی چابی جس کے ہاتھ میں ہوتی، وہ پورے خطے کا مالک بن سکتا تھا۔ برطانوی ہند کی حکومت نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جارحانہ حکمتِ عملی تیار کی جسے ‘فارورڈ پالیسی’ یا ‘آگے بڑھنے کی پالیسی’ کہا جاتا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ افغانستان کو یا تو برطانوی سلطنت کا حصہ بنا لیا جائے یا پھر یہاں ایک ایسی کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی جائے، جو مکمل طور پر لندن کے اشاروں پر چلے۔
دوسری طرف روس براہِ راست افغانستان پر قبضہ تو نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ کابل میں اپنا سفارتی اثر و رسوخ اس حد تک بڑھانا چاہتا تھا کہ ضرورت پڑنے پر برطانیہ کو ہندوستان کی سرحد پر الجھایا جا سکے اور یورپ میں جاری دیگر سیاسی تنازعات پر برطانیہ سے اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جا سکیں۔
یوں افغان قوم اپنی مرضی کے بغیر دنیا کے دو سب سے بڑے استعمار کے مابین ایک بفر زون یا دو پاٹوں کے درمیان پسنے والا دانہ بن چکی تھی۔
روسی وفد کی آمد اور امیر شیر علی خان کی مجبوری:
اس عظیم کھیل کا سب سے ڈرامائی موڑ اُس وقت آیا، جب جولائی 1878 میں روسی جنرل اسٹولیٹوف کی قیادت میں ایک بڑا اور بااثر سفارتی وفد اچانک کابل پہنچ گیا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس وقت افغانستان کے امیر ‘شیر علی خان’ نے روسی وفد کو کابل آنے کی کوئی باقاعدہ دعوت نہیں دی تھی۔
وہ ایک دانا حکمران تھے اور جانتے تھے کہ روس اور برطانیہ جیسے بھیڑیوں کی لڑائی میں ان کا ملک تباہی کا شکار ہو گا۔ انہوں نے روسی وفد کو دریائے آمو (دریائے جیحوں) کے پار ہی روکنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن روسی جرنیل نے افغان سرحدوں پر فوج کے دباؤ اور سفارتی دھمکیوں کے ذریعے کابل کا راستہ اختیار کیا۔
جب روسی وفد کابل کے دروازوں پر پہنچ گیا تو امیر شیر علی خان کے پاس اِس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ روایتی افغان مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا استقبال کریں۔ کیوں کہ روس کو ناراض کرنے کا مطلب شمالی سرحدوں پر ایک نئی جنگ کو دعوت دینا تھا۔
جب یہ خبر برطانوی ہند کے وائسرائے لارڈ لٹن تک پہنچی تو برطانوی ایوانوں میں زلزلہ آ گیا۔ انگریزوں کے لیے یہ منظر ناقابلِ برداشت تھا کہ کابل کے شاہی دربار میں روسی سفیر امان اللہ خان کے اسلاف کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی اور معاہدے کر رہے ہوں۔
ممکنه طور پر پاکستانی جنرل فیض حمید بھی امریکی شکست اور کابل کی فتح کے وقت کابل کے سرینا ہوٹل میں اُسی انگریزی خیال و فکر کے ساتھ سبز چائے کا کپ تھامے بتانا چاہ رہے تھے کہ برطانیہ کی سوچ اب بھی موجود ہے اور اُس کے وارث زندہ ہیں۔
چناں چہ لارڈ لٹن نے فوری طور پر امیر شیر علی خان کو ایک انتہائی سخت، تحقیر آمیز اور دھمکی آمیز خط لکھا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان فوری طور پر سر نیویل چیمبرلین کی قیادت میں ایک برطانوی وفد کو بھی کابل آنے کی اجازت دے اور یہ وفد کابل میں مستقل طور پر قیام کرے گا۔
امیر شیر علی خان کے لیے یہ ایک بڑا امتحان تھا۔ وہ جانتے تھے کہ انگریزوں کا مستقل سفیر کابل میں بیٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ آہستہ آہستہ افغانستان کی اندرونی آزادی ختم ہو جائے گی۔ بالکل اسی طرح، جیسے انگریزوں نے برصغیر کے نوابوں اور راجوں کے درباروں میں اپنے ‘ریزیڈنٹ’ بٹھا کر پورے ہندوستان کو غلام بنا لیا تھا۔
خیبر پاس کا واقعہ اور جنگ کا طبل:
امیر شیر علی خان اُن دنوں ایک گہرے صدمے میں بھی تھے۔ کیوں کہ ان کے نوجوان بیٹے اور ولی عہد شہزادہ عبداللہ جان کا اچانک انتقال ہو چکا تھا اور پورا کابل سوگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ امیر نے برطانوی وائسرائے کو جواب بھیجا کہ اِنہیں سوگ اور ملکی حالات کا جائزہ لینے کے لیے کچھ وقت دیا جائے، لیکن برطانوی تکبر اس قدر عروج پر تھا کہ انہوں نے افغان امیر کی اجازت کا انتظار کیے بغیر ہی برطانوی وفد کو زبردستی کابل کی طرف روانہ کر دیا۔
جب ستمبر 1878 میں یہ برطانوی وفد خیبر پاس کے مقام پر ‘علی مسجد’ کے تاریخی قلعے کے پاس پہنچا تو وہاں تعینات افغان کمانڈر فیض محمد خان نے وفد کا راستہ روک لیا۔ افغان کمانڈر نے انتہائی شائستگی، مگر پختہ عزم کے ساتھ برطانوی جرنیل کو بتایا کہ ‘جب تک امیر شیر علی خان کی طرف سے باقاعدہ تحریری حکم نامہ موصول نہیں ہوتا، وہ کسی بھی غیر ملکی وفد کو افغان حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔’
برطانوی وفد کو روکے جانے کے اس واقعے کو انگریز حکومت نے اپنی عالمی ساکھ پر ایک کاری ضرب سمجھا۔ سلطنتِ برطانیہ کہ جس کا سورج دنیا میں کبھی غروب نہیں ہوتا تھا، یہ کیسے برداشت کر سکتی تھی کہ ایک پہاڑی سلطنت کا معمولی کمانڈر ان کا راستہ روک دے۔ چناں چہ اس سے لارڈ لٹن کو کابل پر حملے کا وہ بہانہ مل گیا، جس کی وہ طویل عرصے سے تلاش میں تھے۔
نومبر 1878 میں برطانیہ نے باقاعدہ طور پر افغانستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور یوں ‘دوسری اینگلو-افغان جنگ’ کا آغاز ہوا۔ برطانوی فوج نے خیبر پاس، وادیِ کرم اور درہ بولان جیسے تین مختلف راستوں سے بیک وقت افغانستان پر چڑھائی کر دی۔




































