افغانستان وہ واحد سرزمین ہے جس نے ’’سلطنتوں کا قبرستان‘‘ کا قابلِ فخر لقب اپنی سنہری تاریخ کے صفحات پر ثبت کیا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس نے تاریخ کے دوران مشکلات، قید، تشدد اور سینکڑوں دیگر مظالم کے باوجود کبھی ذلت اور غلامی قبول نہیں کی۔ افغانوں کی ایک عادت غلامی اور بندوں کی بندگی سے گہری نفرت رکھنا ہے، اور وہ کبھی نہیں چاہتے کہ ان سے آزادی اور عقیدہ چھین لیا جائے۔ افغانستان ہمیشہ بہادر مردوں، دلیر خواتین اور مجاہدین کی پناہ گاہ رہا ہے۔
اس سرزمین کی تاریخ جہاد، قبضے کے خلاف جدوجہد، خانہ جنگیوں اور بڑی سیاسی تبدیلیوں سے وابستہ رہی ہے۔ انہی نشیب و فراز کے درمیان طالبان کی اسلامی تحریک کا ظہور اور ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ہجری شمسی بمطابق ۱۵ اگست ۲۰۲۱ء تک رونما ہونے والی تبدیلیاں ملک کی معاصر تاریخ کے اہم ابواب میں شمار ہوتی ہیں؛ یہ وہ باب ہے جو بدامنی اور خانہ جنگیوں کے درمیان شروع ہوا اور دو دہائیوں کی جنگ و جدوجہد کے بعد امارت اسلامیہ کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے پر منتج ہوا۔
افغانوں کے برسوں کے جہاد اور قربانیوں کے بعد بالآخر سوویت قبضے کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ افغان قوم کو امید تھی کہ اس جہاد کا ثمر آزادی، امن، اتحاد اور ایک اسلامی نظام کے قیام کی صورت میں حاصل ہوگا۔ افغانوں کے لیے اسلامی نظام کا قیام ایک عظیم ارمان تھا؛ وہ ارمان جس کے حصول کے لیے انہوں نے جہاد کے برسوں میں ہزاروں قربانیاں دی تھیں۔
مختصراً، کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان ایک سخت اور بحرانی دور سے دوچار ہوا۔ مختلف گروہوں اور جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلافات، اقتدار کے حصول کے لیے گروہوں اور احزاب کی رقابتیں شدت اختیار کر گئیں اور ملک خانہ جنگیوں میں الجھ گیا۔ کابل اور ملک کے بہت سے دوسرے علاقے خونریز جھڑپوں، تباہی اور عدمِ استحکام کے گواہ بنے۔
بہت سے علاقوں میں لوگ بدامنی، زور زبردستی، علاقائی حکمرانی، مسلح گروہوں کی من مانی، بدعنوانی، ظلم اور قومی و جماعتی رقابتوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اتحاد اور استحکام کا وہ ارمان جس کے تحقق کی لوگوں کو برسوں کے جہاد کے بعد امید تھی، سیاسی اور عسکری کشمکش کے درمیان ماند پڑ گیا۔
ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ کے فضل و احسان سے مظلوم افغان قوم کو نجات دلانے کے لیے افغانستان کے جنوب میں دینی مدارس اور مجاہدین کی صفوں سے ایک اسلامی تحریک ابھری۔ اس تحریک نے خود کو خانہ جنگیوں کے خاتمے، امن کے قیام، بدعنوانی کے خلاف جدوجہد اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے پابند سمجھا۔ حقیقت میں شر اور فساد کے گروہوں کے مظالم اور فساد کو ختم کرنے کے لیے ایسی تحریک کا وجود میں آنا ایک سنگین ضرورت سمجھا جاتا تھا۔ یہ تحریک تیزی سے پھیلی، ایک کے بعد ایک علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لاتی گئی اور بالآخر کابل بھی امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے ہاتھوں میں آ گیا۔
امارت اسلامیہ افغانستان کے قیام کے ساتھ ملک کا بڑا حصہ ایک متحدہ انتظامیہ اور قیادت کے زیرِ سایہ آ گیا۔ اس دور کی اہم کامیابیوں میں سے ایک خانہ جنگیوں اور وسیع پیمانے کی بدامنی کا خاتمہ تھا۔ ملک کی مواصلاتی شاہراہیں محفوظ ہوئیں، ان علاقائی کمانڈروں کا اختیار محدود کیا گیا جو اپنے لوگوں پر ظلم و زیادتی کرتے تھے، اور ملک کے وسیع علاقوں میں نظم و امن قائم ہوا۔
امارت اسلامیہ نے قومی اور جماعتی تعصبات کا خاتمہ کرنے اور افغان قوم کو ایک متحدہ نظام کے زیرِ سایہ جمع کرنے کی کوشش کی۔ افغان قوم اس احسان کی مقروض ہے اور اسے کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ بدعنوانی کے خلاف جدوجہد، امن کا قیام اور اسلامی شریعت کے احکام کا نفاذ اس نظام کے بنیادی مقاصد میں شامل تھے۔
اس کے باوجود امارت اسلامیہ کو اندرونی مخالفتوں اور بیرونی دباؤ کا بھی سامنا رہا اور افغانستان بدستور علاقائی اور عالمی تبدیلیوں کا مرکز بنا رہا۔
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے واقعے کو عالمِ کفر نے اسلامی نظام اور افغان قوم کی آزادی کو ختم کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کیا اور افغانستان کی تاریخ میں ایک نیا باب کھول دیا۔ اس واقعے کے بعد ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔
مختصر مدت میں امارت اسلامیہ کی حکومت کو سقوط کا سامنا کرنا پڑا اور امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی ہدایت اور نصیحت کے مطابق ایک مدت کے لیے منظر سے پسپائی اختیار کی اور اقتدار کے مراکز سے دور ہو گئے۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں شاید یہ طالبان کی تحریک کا اختتام ہو، لیکن یہ اختتام نہیں بلکہ جدوجہد کے ایک نئے مرحلے کا آغاز تھا۔
غیر ملکی قابض افواج کی آمد اور ایک فاسد اور فرسودہ جمہوری نظام کے قیام کے ساتھ افغانستان ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ غیر ملکی حملہ آوروں کی وسیع فوجی موجودگی تھی اور ان کی کٹھ پتلی حکومت بھی ان کے سیاسی، مالی اور فوجی تعاون سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھی۔
امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے اپنی سرزمین اور اسلامی مقدسات کے دفاع کے لیے قابضین اور ان کے زر خرید غلاموں کے خلاف جدوجہد شروع کی۔ نتیجتاً افغانستان نے بیس سال تک اپنی معاصر تاریخ کی طویل ترین جنگوں میں سے ایک کا تجربہ کیا۔ فوجی کارروائیوں، فضائی حملوں، بمباری، غیر ملکیوں اور ان کے حامیوں کے مظالم و وحشت، گرفتاریوں اور مسلح جھڑپوں نے ملک کے لوگوں کو جانی و مالی طور پر بھاری نقصانات پہنچائے۔
اسی عرصے میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے بتدریج اپنی صفوں کو دوبارہ منظم اور مضبوط کیا اور فوجی سرگرمیاں ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل گئیں۔ جنگ کے طویل برسوں نے ہزاروں شہداء اور زخمی چھوڑے اور بے شمار خاندانوں کو اپنے عزیزوں کے سوگ میں بٹھا دیا۔ مجاہدین نے ان برسوں میں غیر ملکی قبضے اور اس کی داخلی زرخرید غلام افواج کے خلاف مزاحمت کی؛ ان افواج کے خلاف جنہوں نے غلامی اور بندوں کی بندگی کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔
اگرچہ غیر ملکی افواج کو فوجی اور تکنیکی اعتبار سے ہمہ گیر برتری حاصل تھی، لیکن جہاد اور جدوجہد جاری رہی اور غیر ملکی افواج کے انخلا کا معاملہ افغانستان کے اہم سیاسی مسائل میں شامل ہو گیا۔
برسوں کی جنگ کے بعد بالآخر امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی قابض افواج کی موجودگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا عمل شروع ہوا۔ دوحہ معاہدے نے غیر ملکی افواج کے انخلا کی راہ ہموار کی اور ان کے انخلا کے ساتھ ہی افغانستان کے سیاسی اور فوجی حالات تیزی سے تبدیل ہو گئے۔
۱۴۰۰ ہجری شمسی بمطابق ۲۰۲۱ء میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین کی پیش قدمیاں تیز ہو گئیں، صوبے یکے بعد دیگرے فتح ہوتے گئے اور جمہوریہ اور جمہوریہ کا حکومتی ڈھانچہ غیر معمولی تیزی سے ختم ہو گیا۔
بالآخر ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ہجری شمسی بمطابق ۱۵ گاست ۲۰۲۱ء کو کابل اس سرزمین کے بیٹوں اور مجاہدین کے ہاتھوں میں آ گیا اور یہودیوں اور عیسائیوں کی حمایت یافتہ کٹھ پتلی حکومت بھی سقوط کر گئی۔
سوویت یونین کے خلاف فتح سے لے کر ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ہجری شمسی تک افغانستان کی داستان ان کئی نسلوں کی زندگی کی داستان ہے جنہوں نے جنگوں، قبضے، داخلی اختلافات اور سیاسی تبدیلیوں کے درمیان زندگی گزاری۔ ان تمام برسوں میں ملک کی آزادی اور سیاسی خودمختاری، ایک اسلامی نظام کے قیام کے مطالبے کے ساتھ، افغان معاشرے کے ایک بڑے حصے کے اہم مطالبات اور مباحث میں شامل رہی۔
امارت اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین کا ظہور اور قیام وہ تحریک تھی جو خانہ جنگیوں اور بدامنی کے درمیان ابھری؛ ایک مدت تک افغانستان کے بڑے حصے پر حکمرانی کی، امریکہ کے حملے کے بعد اقتدار سے ہٹا دی گئی، بیس سال تک غیر ملکی افواج اور ان کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف جدوجہد کی اور بالآخر ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ہجری شمسی کو ایک بار پھر کابل واپس آ گئی۔
الحمدللہ، آج افغانستان کی قوم کے پاس ایک اسلامی، آزاد اور خودمختار نظام ہے؛ یہ وہ مطالبہ ہے جو افغان قوم کی دائمی اور دیرینہ خواہشات میں سے تھا۔
لیکن وہ دشمن جو اب بھی اسلام اور اسلامی نظام کو ختم کرنے کے درپے ہیں، انہیں ان تجاوز کرنے والوں اور قابضین سے عبرت حاصل کرنی چاہیے جو اس مقدس سرزمین میں آ کر رسوا اور ذلیل ہوئے؛ کیونکہ یہ آزاد اور خودمختار قوم کبھی کفار اور ان کے منصوبوں کے زیرِ تسلط آنا قبول نہیں کرے گی۔
فتوحات کا جدولِ زمانی
مغربی زون
صوبہ قمری تاریخ
نیمروز ۲۸ ذوالحجہ ۱۴۴۲ھ
فَرَاہ ۲ محرم ۱۴۴۳ھ
ہرات ۴ محرم ۱۴۴۳ھ
بادغیس ۴ محرم ۱۴۴۳ھ
غور ۵ محرم ۱۴۴۳ھ
جنوب مغربی زون
صوبہ قمری تاریخ
ہلمند ۵ محرم ۱۴۴۳ھ
قندھار ۵ محرم ۱۴۴۳ھ
ارزگان ۵ محرم ۱۴۴۳ھ
زابل ۵ محرم ۱۴۴۳ھ
دایکندی ۷ محرم ۱۴۴۳ھ
جنوب مشرقی زون
صوبہ قمری تاریخ
غزنی ۴ محرم ۱۴۴۳ھ
پکتیا ۶ محرم ۱۴۴۳ھ
پکتیکا ۶ محرم ۱۴۴۳ھ
خوست ۷ محرم ۱۴۴۳ھ
لوگر ۵ محرم ۱۴۴۳ھ
مشرقی زون
صوبہ قمری تاریخ
ننگرہار ۷ محرم ۱۴۴۳ھ
کنڑ ۶ محرم ۱۴۴۳ھ
لغمان ۶ محرم ۱۴۴۳ھ
نورستان ۷ محرم ۱۴۴۳ھ
شمال مشرقی زون
صوبہ قمری تاریخ
بدخشان ۳ محرم ۱۴۴۳ھ
تخار ۳۰ ذوالحجہ ۱۴۴۲ھ
قندوز ۲۹ ذوالحجہ ۱۴۴۲ھ
بغلان ۲ محرم ۱۴۴۳ھ
شمالی زون
صوبہ قمری تاریخ
سرپل ۲۹ ذوالحجہ ۱۴۴۲ھ
جوزجان ۲۹ ذوالحجہ ۱۴۴۲ھ
سمنگان ۱ محرم ۱۴۴۳ھ
فاریاب ۶ محرم ۱۴۴۳ھ
بلخ ۶ محرم ۱۴۴۳ھ
مرکزی زون
صوبہ قمری تاریخ
میدان وردک ۷ محرم ۱۴۴۳ھ
بامیان ۷ محرم ۱۴۴۳ھ
کاپیسا ۷ محرم ۱۴۴۳ھ
پروان ۷ محرم ۱۴۴۳ھ
کابل ۷ محرم ۱۴۴۳ھ
پنجشیر ۲۹ محرم ۱۴۴۳ھ




















































