8- اسلامی مشن کو فراموش کرنا، مقصدِ حیات سے غفلت اور دنیا پرستی
حقیقت یہ ہے کہ وہ پہلا سبب جس نے ہمارے اسلامی معاشرے کو شدید نقصان پہنچایا، امتِ مسلمہ کو کمزور کیا اور اس کے اتحاد و انسجام کو ختم کر دیا، اس عظیم مقصد اور مشن کو بھول جانا ہے جس کی تکمیل کے لیے یہ امت بنیادی طور پر وجود میں آئی تھی اور اسی ذمہ داری کی وجہ سے اسے روئے زمین پر بہترین امت کے طور پر پہچانا گیا ہے۔
قرآنِ عظیم الشان نے انسان کی پیدائش کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت قرار دیا ہے:
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ [الذاریات: ۵۶]
"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔”
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی امت کی فضیلت کو انسانیت کی خیرخواہی اور بھلائی میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عزت اور سربلندی کو اپنی عبادت اور انسانیت کو حیات بخش اسلام کی طرف بلانے میں رکھا ہے۔ جب مسلمان اپنی اس ذمہ داری کو عملی طور پر ادا کر رہے تھے تو دنیا کی روحانی، علمی اور سیاسی قیادت ان کے ہاتھ میں تھی، لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ مسلمان دنیا اور مادّیات میں ڈوب گئے اور اپنی اس عظیم ذمہ داری کو بھول گئے، جو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور انسانوں کو اسلام کی طرف دعوت دینا تھی۔
اس عظیم مشن کو فراموش کرنے کے ساتھ ہی امتِ مسلمہ کے تدریجی زوال کا عمل شروع ہوا اور مسلمان انحطاط کی کھائی میں جا گرے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ قوموں کی زندگی کسی مقصد اور مشن کے وجود میں ہوتی ہے، جبکہ مقصد و مشن سے محرومی موت اور تاریخ کا حصہ بن جانے کے مترادف ہے۔ حقیقت میں، اپنے مقصد کو بھول جانا اور دنیا کی طرف متوجہ ہو جانا وہ دو مہلک بیماریاں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، یہاں تک کہ بہت سے مسلمانوں کی پوری فکر اور کوشش دولت جمع کرنے، دنیاوی نعمتوں کے حصول اور اس کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے تک محدود ہو گئی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو خبردار فرمایا ہے:
«إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً، وَإِنَّ فِتْنَةَ أُمَّتِي الْمَالُ»
"ہر امت کے لیے ایک فتنہ ہے، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔”
دنیا سے بے حد محبت نے مسلمانوں کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ وہ آخرت اور یومِ حساب کے بارے میں بہت کم سوچتے ہیں۔ اپنے عظیم مقصد کو بھول جانا مسلمانوں کے زوال کا پہلا سبب ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کی عزت اور کامیابی کو شریعتِ محمدی میں رکھا ہے۔ جب بھی مسلمان اس راستے سے ہٹیں گے اور دنیا کی طرف متوجہ ہوں گے تو ذلت و رسوائی سے دوچار ہوں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«نحن قومٌ أعزَّنا اللهُ بالإسلام، فإن ابتغينا العزةَ بغيره أذلَّنا اللهُ.»
"ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی ہے، اگر ہم اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں ذلیل کر دے گا۔”
مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کے یہ سنہری الفاظ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں؛ کیونکہ جس دن مسلمانوں نے اپنا مقصد اور اپنا عظیم مشن بھلا دیا، دنیا اور مادّیات کی طرف رخ کیا اور اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کرنے لگے، اسی دن سے وہ ذلت اور پسماندگی کا شکار ہو گئے۔ مختصر یہ کہ جب تک ہم اپنے اصل مقصد اور اپنی دینی ذمہ داری کو دوبارہ زندہ نہیں کرتے اور اس الٰہی مقصد کو اپنی عملی زندگی میں نافذ نہیں کرتے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا فرمایا ہے، اس وقت تک ہم اپنی سابقہ عزت اور سربلندی دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے۔




















































