اکیسویں صدی میں مسلمانوں کی تقریباً تمام سرزمینیں اپنے زمانے کے باطل اور استبدادی قوتوں کے تسلط میں تھیں۔ مسلمانوں کی تہذیب، ثقافت، عقیدہ، قانون اور اخلاقی اقدار مشرق و مغرب کی فکری یلغار کے زیرِ اثر آچکی تھیں۔ یہ زوال اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ آج بھی بیشتر اسلامی ممالک میں مسلمان اپنی عقیدتی آزادی، سیاسی خودمختاری اور اپنی سرزمینوں کی قدرتی دولت پر مکمل اختیار نہیں رکھتے۔
اسی تسلط نے افغانستان کو بھی کئی دہائیوں تک اپنی گرفت میں رکھا۔ مغربی اور باطل نظریات نے سیاسی، ثقافتی، فکری اور اخلاقی میدانوں میں افغانستان کو شدید نقصان پہنچایا، لیکن اس کے باوجود افغانستان کے غیور اور مجاہد عوام نے باطل کی سازشوں اور دسیسہ کاریوں کو پہچانا، انہیں فریبِ باطل قرار دیا اور ان کے رعب و دبدبے کو کبھی قبول نہ کیا۔
امریکا اور اس کے زیرِ قیادت عالمی فوجی اتحاد، نیٹو، کے آخری قبضے کا خاتمہ تاریخ کی ایک نہایت شرم ناک جنگ کا اختتام تھا۔ اُمتِ مسلمہ کی تاریخ میں یہ معرکہ اس اعتبار سے ایک منفرد اور یادگار باب ہے کہ افغان قوم نے کفر اور باطل کی متحدہ عالمی افواج کے مقابلے میں عظیم فتح حاصل کی۔
امریکا اور نیٹو کے خلاف مجاہدین کی یہ بیس سالہ جدوجہد صرف افغانستان کی آزادی اور فتح پر منتج نہیں ہوئی، بلکہ اس نے اکیسویں صدی کی اُس سرخ لکیر کو بھی پاش پاش کر دیا جس کے مطابق دنیا کو یہ باور کرایا جاتا تھا کہ یا تو مغربی جمہوریت اور اس کے قوانین کو قبول کرو، یا پھر جارحیت اور غلامی کے لیے تیار رہو۔
یہ عظیم کامیابی اُمتِ مسلمہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے حریت، خودمختاری اور باطل قوانین کے خلاف مزاحمت کا ایک مضبوط پیغام ہے۔ چوبیس اسد وہ دن ہے جب اُمتِ مسلمہ کے گلے میں پڑی ہوئی غلامی اور قبضے کی زنجیر ٹوٹ گئی۔ وہ مسلمان جو اپنی تہذیبی شناخت، اپنے قانون اور اپنی ترقی کے راستے سے محروم کر دیے گئے تھے، ایک بار پھر ان زنجیروں کو توڑنے والے بنے اور انہیں ماضی کی شان، وقار اور تہذیبی عظمت کی بازیافت کی نئی امید نصیب ہوئی۔




















































