ہفتہ, مارچ 7, 2026
المرصاد
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    تہران میں کمانڈر اکرام الدین سریع کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امت کے مخلص امیر

    امت کے مخلص امیر

  • ابطالِ امت
    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    تہران میں کمانڈر اکرام الدین سریع کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    سلطان عزیز عزام خوارج کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    ابابیل اور ہاتھی: طاقت، وزن اور نظریے کی ایک سادہ کہانی!

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    خطے کی بدلتے حالات اور امارت اسلامیہ کی بہترین خارجہ پالیسی

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امت کے مخلص امیر

    امت کے مخلص امیر

  • ابطالِ امت
    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    بطلِ اسلام شہید اللہ ‌داد ’’قصاب‘‘ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں کا مختصر تذکرہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید نصرت اللہ سنگین تقبلہ اللہ، زندگی اور کارناموں کا مختصر جائزہ

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید ابو عبیدہ (حذیفہ الکحلوت) تقبله الله زندگی، اور کارناموں پر ایک مختصر نظر

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    شہید محمد نعمان غزنوی تقبله الله کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

    ابو عبیدہ؛ النور مسجد سے لے کر الرمال میں شہادت تک!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
المرصاد
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
صفحہ اول تبصرے و تحریرات جہادی تحریرات

۱۰ حوت: معاصر افغانستان کا تابناک دن!

خلیل تسل

۱۰ حوت: معاصر افغانستان کا تابناک دن!
Share on FacebookShare on Twitter

افغانستان کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہیں جو کبھی نہیں بھولے جائیں گے، ان میں سے کچھ دن غم کے ہیں اور کچھ خوشی سے معمور، ان میں سے ہجری شمسی کے ماہ کب کی 10 تاریخ، افغانستان کو معاصر استعمار کے قبضے سے آزادی اور خودمختاری کے سنہرے دن کے طور پر بار بار یاد کیا جاتا رہے گا۔

اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو افغان ہمیشہ جدوجہد اور آزادی حاصل کرنے میں ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے کامیاب ہوئے ہیں، مگر سیاست اور عالمی سفارتکاری کے میدان میں وہ اکثر ناکام رہے ہیں اور مختلف جالوں میں پھنس ہیں۔ اس لیے شاید یہ پہلی بار ہے جب افغانوں نے دونوں میدانوں میں فخریہ انداز سے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اس جیسی دیگر تحاریر

سوویت حملے کی تاریخی صورت اور افغان عوام کے مصائب

خلافت عثمانیہ تاریخ کے اوراق سے!چھیاسٹھویں قسط

اسلام؛ اعتدال اور میانہ روی کا دین! چوتھی قسط

جہاد اور جدوجہد کے میدان میں نیٹو اور امریکہ کی فوجی طاقت گھٹنے ٹیکنے لگی اور عالمی سطح پر افغانستان کے امارت اسلامی کے وفد نے بیک آواز، اتحاد اور بہادری کے ساتھ استعمار کے اصل مرکز یعنی امریکی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت اور مفاہمت کے عمل کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا اور بالآخر آج سے پانچ سال قبل ماہ کب کی 10 تاریخ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دوحہ معاہدہ پر دستخط ہوئے۔

حقیقت میں امریکہ نے افغان عوام کی جائز مطالبات اور جدوجہد کو تسلیم کیا اور کابل میں حکومتی نظام کو مزید کنارے لگا دیا، وہ نظام جس کے مفادات اور فائدے شمالی اتحاد اور جمعیت کے گروپوں سے وابستہ افراد اور جمہوریت پسندوں کے حق میں تھے، مگر اس کا نام غلطی سے صرف نام نہاد پشتون رہنماؤں کے ساتھ نتھی کیا گیا تھا۔

امارتِ اسلامی کے مذاکراتی وفد کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر اور افغانستان کے لیے امریکی وزارت خارجہ کے نمائندے زلمے خلیلزاد کے درمیان طے ہونے والا دوحہ معاہدہ دراصل ان ہزاروں شہداء کے خون اور بیواؤں کی آہوں کی طاقت تھی، جنہوں نے آخرکار اکیسویں صدی میں افغانوں کو ایک اور سلطنت کو شکست دینے کا اعزاز بخشا۔ وہ لوگ جنہوں نے اس ملک کو اپنے مذموم مقاصد اور وحشت کے لیے قبضہ کیا تھا، انہیں اس پاک سرزمین سے نکالنے اور شکستِ فاش کا آغاز ہوا۔

اس قومی جدوجہد میں امارتِ اسلامی کا مضبوط مؤقف اور اس تاریخی دن کی یاد ہمیں چند اہم نکات یاد دلاتی ہے، جنہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور یہ تاریخ کے اوراق سے کبھی محو نہیں ہوں گے

۱۔ مؤثر سفارتکاری

سفارتکاری موجودہ دور میں عالمی مفاہمت کی زبان ہے، تمام ممالک اور تنظیمیں اپنی مشکلات، امیدیں اور مطالبات اسی میز پر حل کرتی ہیں اور عالمی نظم کے قیام اور مسائل کو حل کرنے کا یہی واحد راستہ سمجھا جاتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ماضی میں افغانوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اس عالمی طریقے کو نہیں سمجھتے، لیکن امارتِ اسلامی کی مسلح جدوجہد کے ساتھ ساتھ 2012ء کے بعد سے اس زبان و طریق کو بھی آہستہ آہستہ فعال کیا گیا، اور بالاخر قطر میں دفتر کھلنے کے ساتھ دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ ہم جنگ کے ساتھ ساتھ مذاکرات اور سفارتی زبان کے لوگ بھی ہیں۔ اس مؤثر پالیسی کے تحت دنیا اس بات پر قائل ہو گئی کہ انہوں نے افغانستان پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا تھا اور امارت اسلامی کی جدوجہد ایک خوشحال و کامیاب افغانستان کے لیے ہے جو پوری دنیا کے فائدے میں ہو گا اور کسی کو بھی اس سے نقصان نہیں پہنچے گا۔

2۔ چالیس سالہ جنگ کا اختتام:

افغانستان پر جاری یلغار کے دوران اندرونی وبیرونی میڈیا پروپیگنڈہ کرتاتھا کہ ان جنگوں کی اصل وجہ طالبان ہیں، جبکہ انہیں جمہوریت کے چرنوں میں موجود خفیہ جنگی کماندان، بدمعاش اور مافیائی گروپ، اراکینِ پارلیمنٹ یا مغربی ممالک سے پیراشوٹ کے ذریعے درآمد ہونے والے سوٹڈ بوٹڈ اہلکاروں کے وہ خفیہ مقاصد نظر نہیں آتے تھے، یہ تمام وہ لوگ تھے جو اپنی سرزمین، بیت المال اور ملکی منصوبوں کو اپنے ذاتی شکار کی حیثیت سے دیکھتے تھے اور اپنی عوام کو نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے۔

دنیا اب جان چکی ہے کہ طالبان کی جنگ و جدوجہد ذاتی اغراض کے بجائے اس خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے تھی، جس کے لیے دوحہ معاہدہ ہوا اور یوں چالیس سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی قدم اٹھایا گیا اور گذشتہ تین سال سے سب پر عیاں ہوچکا ہے کہ آج افغانستان میں مکمل امن وامان کی فضا قائم ہے۔

۳۔ اجتماعی اور مقدس مؤقف:

دوحہ دفتر کے قیام کے بعد اگرچہ امارتِ اسلامی کے مذاکراتی وفد کے اراکین میں تبدیلیاں آئیں، تاریخوں اور مقامات میں تبدیلیاں ہوئیں، مگر مؤقف اور مقصد ایک ہی تھا، وہ اسلامی شریعت کا نفاذ، افغانستان کی حقیقی خودمختاری اور شہداء کے ارمانوں کا تحفظ۔ یہ واحد نعرہ تھا جو آخر تک برقرار رہا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اور افغان عوام کی امیدوں اور آرزوؤں کے ساتھ کبھی بھی مال و متاع کی طرح سلوک نہیں کیا گیا، بلکہ اس کو ایک مقدس آرزو کے طور پر بلند مقام پر پہنچایاگیا۔

۴۔ قوم کی حقیقی نمائندگی:

جمہوری حکومت میں جب افغانستان کے بارے میں دو دہائیوں تک مختلف کانفرنسیں اور اجلاس ہوتے تھے، حکومتی وفد میں ایسے افراد شامل ہوتے تھے جو عوام کی آرزوؤں اور مطالبات کی زبان نہیں سمجھتے تھے، وہ کابل کی حکمرانی یا مغرب کی محلوں میں پلے بڑھے اور تربیت یافتہ لوگ تھے، دوہری یا تین ملکوں کی شہریت رکھنے والے حضرات بھی موجود تھے، وہ لسانی، قومی اور قبائل کی بنیاد پر منتخب کیے جاتے تھے۔ جبکہ امارتِ اسلامی کے مذاکراتی وفد کے تمام اراکین وہ علماء اور بزرگ تھے جو گاؤں دیہاتوں میں پلے بڑھے تھے، ان کا قومی مؤقف تھا، وہ دین اور افغانیت سے بخوبی واقف تھے، اسی لیے انہوں نے قوم کی آواز بلند کی اور اس کی حقیقی نمائندگی کی، جس کے نتیجے میں دوحہ معاہدے کے مواد کو حتمی شکل دی گئی۔

۵۔ مادیات اور دباؤ سے متاثر نہ ہونا:

دوحہ معاہدے اور قطر دفتر کی مختلف نشستوں میں جو رپورٹس میڈیا میں شائع ہوئیں، ان کے مطابق امریکہ اور مغربی ممالک نے اپنے فطری رویے کے مطابق بار بار مادی، اقتصادی اور سیاسی دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کیے، اور ماضی میں انہوں نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور دنیا کے دیگر ملکوں میں ان طریقوں سے اچھے نتائج بھی حاصل کیے تھے۔ لیکن اس بار صورت حال مختلف ہوئی اور امارتِ اسلامی کا وفد ہر قسم کے مادی اور اقتصادی دباؤ کے سامنے ثابت قدم اور بے پرواہ رہا، اور افغانستان کی خودمختاری کی راہ میں اپنے مقاصد سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا۔

۶۔ جنگ اور مذاکرات میں توازن:

امریکی وفد اور کابل انتظامیہ کے رہنماؤں نے بہت بار کوشش کی کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے بہانے جنگی میدانوں میں امن اور قومی مفاہمت کے نام پر رکاوٹیں اور تاخیر پیدا کی جائے، لیکن امارت اسلامی کے مجاہدین اور عسکری رہنماؤں نے مذاکرات کی کامیابی کی امید میں کبھی بھی جہاد اور جدوجہد کے محاذوں کو سرد نہیں ہونے دیا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اپنی جدوجہد کو سخت اور تیز تر کیا۔ یہی جنگوں اور مذاکرات کا مثبت توازن تھا جس نے سفارتی میدان میں مغرور امریکیوں کو بھی مجبور کیا کہ وہ مذاکرات کی طرف پوری طرح توجہ دیں۔

۷۔ بحران پر کنٹرول پانا:

دوحہ معاہدے کے دوران، مذاکرات کے دوران داخلی اور خارجی انٹیلی جنس اداروں، ممالک اور تنظیموں نے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، تاکہ افغانستان حقیقی خودمختاری تک نہ پہنچ سکے اور امارت اسلامی کو عوام پر مسلط شدہ گروہ کے طور پر پیش کیا جائے، اور کابل کی انتظامیہ کو حقیقی نمائندہ قرار دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں اقتصادی بحران اور دیگر پروپیگنڈوں کے نام پر زہر پھیلایا گیا، اور اربکی، مقامی فوج، اور دیگر گروپوں کے نام پر بحران کے دائروں کو تشکیل دیا گیا۔ تاہم امارت اسلامی نے اس بحران کو بہترین طریقے سے قابو کیا اور مقابل فریق کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا، اور افغانستان کو حقیقی آزادی تک پہنچایا۔

۸۔ مسئلے کا حقیقی حل تلاش کرنا:

امارت اسلامی نے اپنی جدوجہد کے دوران کبھی بھی حقیقی مذاکرات اور امن کا دروازہ بند نہیں کیا، اندرون ملک اور بیرون ملک مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی، لیکن مخالف فریق کبھی اس نیک نیتی کو کمزوری سمجھ کر ضائع کرتا تھا۔ آخرکار، اس دروازے کو اصل اور طاقتور فریق (امریکہ) کے لیے کھولا گیا، اور جنہوں نے اپنی کشتی ڈوبتے ہوئے دیکھی، انہوں نے ہوشیاری سے فیصلہ کیا اور قطر دفتر کے ذریعے امارتِ اسلامی کو افغانستان کے حقیقی نمائندہ کے طور پر تسلیم کیا۔ یہی وجہ تھی کہ اصلی فریق کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوئے اور دوحہ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

۹۔ دوطرفہ عزم اور وعدے:

دوحہ معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان مختلف امور پر وعدوں اور عملی اقدامات پر مبنی تھا۔ خوش قسمتی سے، امارتِ اسلامی ہمیشہ اپنے قول اور وعدے پر قائم رہی ہے اور اس معاہدے کے تحت تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنایا ہے، دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی گئی ہے، افغانستان نے کسی دوسرے ملک کے لیے کوئی خطرہ نہیں بنایا اور نہ ہی کسی کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ بدقسمتی سے مخالف فریق نے متعدد نکات کو پامال کیا ہے، کئی خلاف ورزیوں کے کیسز ہیں جن پر مستقل بحث کی ضرورت ہے۔ افغانستان کی تقریباً چھ ارب ڈالر کی قومی دولت ابھی تک منجمد ہے، اور وہ امداد جس کے افغان عوام مستحق ہیں، باقاعدگی سے فراہم نہیں کی گئی یا بہت کم فراہم کی گئی ہے۔

۱۰۔ گذشتہ غلطیوں کو نہ دہرانی کی یقین دہانی:

گذشتہ انقلابوں میں اکثر افغانوں نے کامیابی کے بعد اپنے آپ کو اور اپنے ملک کو بھلا دیا، ان کی جدوجہد اور کامیابیاں ضائع ہو گئیں، جیسا کہ روس کے خلاف کامیاب جہاد کے بعد تنظیمی رہنماؤں کی غلطیاں اس کی واضح مثالیں ہیں، جن کی وجہ سے افغانستان مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔ لیکن اس بار دوحہ معاہدے پر دستخط اور دشمنوں کے انخلاء کی تاریخ پوری ہونے کے ساتھ ہی امارتِ اسلامی کے متعلقہ اداروں نے فوری طور پر کام شروع کیا اور ملک کی تباہی، دشمنیوں اور لوٹ مار جیسے بحرانوں کے بچاؤ کے لیے تیاری شروع کی، فتح کے دنوں میں ہی عوام اس تیاری اور نظم کے گواہ ہیں۔ الحمدللہ، آج تک ایسی کوئی غلطی نہیں دیکھی گئی کہ بیت المال لوٹا جائے یا حکومتی املاک کو نقصان پنچایاجائے۔

۱۰ حوت کا پیغام:

اوپر ذکر کی گئی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کب کی دسویں تاریخ کوئی عام دن نہیں ہے، یہ ملک کی معاصر تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس دن نہ صرف عالمی سطح پر افغانوں کی سیاسی بصیرت اور عزم کی روشن تصویر پیش ہوئی، بلکہ قومی سطح پر افغانوں کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ ہر قومی مسئلے کے حل کے لیے ہمیں کبھی بھی عالمی قوتوں کے منتظر نہیں رہنا چاہیے۔

ہر وہ نظام اور حکومت جو عوام میں جڑیں اور حمایت نہیں رکھتی، وہ سیلاب کے اوپر بہتے ہوئے جھاگ اور بلبلے کی طرح ہوتی ہے۔ وہ نظام جو جمہوری حکومت کی طرح بیرونی حمایت اور امداد پر انحصار کرتا ہو، وہ غیروں کے مفادات کے لیے کام کرتا ہے، ایک دن نابو ہو جائے گا اور اس کی جگہ ملک کے حقیقی خدمت گزار اور جائز حکومتیں لے لیں گی۔

کب کی دسویں تاریخ کو اپنی تمام تاریخی عظمت کے ساتھ نصابی کتب اور نشریاتی مواد میں جگہ دی جانی چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے آباء و اجداد کا یہ قابلِ فخر کارنامہ یاد رکھیں۔

شیئرٹویٹ

اس طرح کی دیگر تحاریر

اسرائیلی جارحیت اور فلسطین پر قبضے کا تاریخی پس منظر!
تبصرے و تحریرات

اسرائیلی جارحیت اور فلسطین پر قبضے کا تاریخی پس منظر!

اکتوبر 13, 2025
غزه؛ مزاحمت اور آزادی کا سورج!
جہادی تحریرات

غزه؛ مزاحمت اور آزادی کا سورج!

جنوری 18, 2025
خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے اوراق سے! بیسویں قسط
تبصرے و تحریرات

خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے اوراق سے! بیسویں قسط

اپریل 27, 2025
غزوات النبیﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق!  تینتیسویں قسط
تبصرے و تحریرات

غزوات النبیﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق! تینتیسویں قسط

دسمبر 9, 2025
غزہ کی پٹی: ایک جامع تجزیہ!
تبصرے و تحریرات

غزہ کی پٹی: ایک جامع تجزیہ!

مئی 31, 2025
غزوات النبی ﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق! آٹھویں قسط
تبصرے و تحریرات

غزوات النبی ﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق! آٹھویں قسط

اپریل 15, 2025

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

    • ٹرینڈنگ
    • تبصرے
    • تازہ ترین
    تاجکستانی وجود پر پڑی داعشی بندوق غلط ہدف کو نشانہ بنا رہی ہے

    تاجکستانی وجود پر پڑی داعشی بندوق غلط ہدف کو نشانہ بنا رہی ہے

    مارچ 25, 2024
    پاکستان کا قصہ تمام ہونے والا ہے

    پاکستان کا قصہ تمام ہونے والا ہے

    مارچ 28, 2024
    قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات

    قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات

    مارچ 23, 2024
    کیا پاکستان میں پکڑا گیا داعشی محمد شریف جعفر واقعی کابل ہوائی اڈے پر حملے کا منصوبہ ساز یا ذمہ دار ہے؟

    کیا پاکستان میں پکڑا گیا داعشی محمد شریف جعفر واقعی کابل ہوائی اڈے پر حملے کا منصوبہ ساز یا ذمہ دار ہے؟

    مارچ 5, 2025
    چھ جدی: افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات

    چھ جدی: افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات

    0
    افغانستان میں سوویت یونین کے وحشیانہ حملے کے نتاءج

    افغانستان میں سوویت یونین کے وحشیانہ حملے کے نتاءج

    0
    افغانستان میں داعش کے اہداف

    افغانستان میں داعش کے اہداف

    0
    بغدادی ملیشیا کے حامیوں سے سوال

    بغدادی ملیشیا کے حامیوں سے سوال

    0
    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    امریکہ کا نیا منصوبہ اور خطے میں اس کے نفاذ کی ایک خاص حلقے کی کوششیں!

    مارچ 7, 2026
    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور علماء کی ذمہ داری!

    مارچ 7, 2026
    "غضب للحق” نامی فلم!

    "غضب للحق” نامی فلم!

    مارچ 5, 2026
    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    پاکستان؛ اسلام کے نام پر کفار کی تلوار!

    مارچ 5, 2026

    تازہ خبریں

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    المرصاد کو سکیورٹی ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اورکزئی میں دو کمانڈروں سمیت نو داعشی ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    مارچ 1, 2026
    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    پاکستان کے جرائم اور جارحیت کا شکار کون ہیں؟

    فروری 22, 2026
    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    پشاور شہر کے قریب باڑہ کے علاقے میں 11 داعشی ہلاک

    فروری 3, 2026

    تہران میں کمانڈر اکرام الدین سریع کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟

    دسمبر 31, 2025
    • ابطالِ امت
    • اداریہ
    • اصدارات
    • انفوگرافکس
    • تبصرے اور تحریرات
    • خبریں
    • صفحہ اول
    • علماء
    • لائبریری
    المرصاد سے رابطہ: info@almirsadur.com

    جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist

    کو ئی نتیجہ
    تمام نتائج دیکھیں
    • صفحہ اول
    • اداریہ
    • خبریں
      • افغانستان
      • علاقائی خبریں
      • عالمی خبریں
    • تبصرے اور تحریرات
      • خوارج العصر
      • سیاسی تحریرات
      • جہادی تحریرات
      • علمی تحریرات
      • تجزیاتی تحریرات
    • علماء
    • ابطالِ امت
    • اصدارات
    • انفوگرافکس
    • لائبریری
    • المرصاد
      • پښتو
      • دری
      • عربي
      • English
      • বাংলা

    جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

    Go to mobile version