قومی غیرت وہ پوشیدہ، مگر بیک وقت نمایاں جذبہ ہے جو تاریخ کے انتہائی کٹھن لمحات میں کسی قوم کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے۔ یہ تصور محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک عظیم اسٹریٹیجک حقیقت ہے؛ وہ قوت ہے جو سخت طوفانوں کے مقابلے میں معاشرے کے ڈھانچے کو مضبوط کرتی ہے، اس کے مختلف حصوں کو باہم جوڑتی ہے اور اسے بقا کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔
افغانستان کی نشیب و فراز سے بھری تاریخ میں بہت کم واقعات نے۲۸ اسد ۱۲۹۸ ہجری شمسی بمطابق 20 اگست ۱۹۱۹ء کی طرح اس تصور کو آزمائش کی کسوٹی پر پیش کیا اور اس کی حقیقی ماہیت کو آشکار کیا ہے۔
۲۸ اسد کے واقعے میں قومی غیرت کے کردار کو سمجھنے کے لیے ہمیں کئی سال پیچھے جانا ہوگا۔ پہلی افغان، انگریز جنگ سے لے کر تیسری جنگ تک تقریباً ایک صدی کے عرصے میں افغان قوم اس گہرے یقین تک پہنچ چکی تھی کہ اس کی ثقافتی بقا اور دینی شناخت کا تعلق آزادی کے تحفظ سے ہے۔ یہ یقین مٹی کے گھروں اور دیہات کی مساجد سے پھوٹا تھا اور رفتہ رفتہ ایک اجتماعی فکر اور مشترکہ ذہنیت میں تبدیل ہوگیا۔
باپ اپنے بیٹوں کو وہ دن سناتے تھے جب ان کے دادا اور پردادا اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی تلواروں کے ساتھ برطانوی توپ خانے کے سامنے ڈٹ گئے تھے اور انہیں سکھاتے تھے کہ ’’عزت‘‘، ’’زندگی‘‘ سے زیادہ قیمتی ہے۔ ایک نسل سے دوسری نسل تک ان اقدار کی منتقلی نے ۱۲۹۸ ہجری شمسی میں ایک اجتماعی قومی غیرت کے ابھرنے کے لیے فکری اور نفسیاتی بنیاد فراہم کی۔
جب افغان عوام نے مئی ۱۹۱۹ء میں برطانوی سلطنت کے خلاف جہاد کا پرچم بلند کیا تو یہی قومی غیرت ایک عظیم عوامی جذبے میں تبدیل ہوگئی۔ وہ کسان جس نے اپنی کھیتی چھوڑی اور میدانِ جنگ کا رخ کیا؛ وہ تاجر جس نے اپنی دولت اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی کے لیے حکومت کے حوالے کردی؛ اور وہ عورت جس نے محاصرے کے سخت دنوں میں اپنے گھر سے جہاد اور جدوجہد کے مورچوں تک خوراک پہنچائی، سب اس غیرت کی نمایاں مثالیں تھیں۔
معاشرے کے مختلف طبقات، کسی توقع کے بغیر اور خطرات کا مکمل ادراک و شعور رکھتے ہوئے، شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے۔ قومی غیرت نے نسلی اور لسانی حدود کو عبور کیا اور ایک طاقتور دشمن کے مقابلے میں ایک متحدہ محاذ قائم کردیا۔ شاید اس وقت قومی غیرت کا سب سے اہم نتیجہ یہی اتحاد تھا؛ کیونکہ اس کے بغیر عسکری کامیابی، خواہ کتنی ہی حکمتِ عملی اور اچھے منصوبے کے ساتھ ہوتی، ناممکن دکھائی دیتی تھی۔
قابلِ توجہ نکتہ قومی غیرت اور ۲۸ اسد کی فتح کے درمیان باہمی تعلق ہے۔ ایک طرف یہی غیرت مزاحمت کی محرک قوت تھی؛ اور دوسری طرف تیسری جنگ میں کامیابی نے اس غیرت کو قومی خود اعتمادی کی ایسی سطح تک پہنچا دیا جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی تھی۔ ۲۸ اسد کو آزادی کا اعلان صرف ایک قانونی واقعہ نہیں تھا بلکہ تمام افغانوں کے لیے ایک عظیم اخلاقی فتح بھی تھی۔ اس دن نے افغانوں پر ثابت کردیا کہ قومی غیرت اور اتحاد کے بل پر وہ اپنی تقدیر خود طے کرسکتے ہیں اور بڑی طاقتوں کی زور زبردستی کے مقابلے میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔
لیکن قومی غیرت کا تصور صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہے۔ ۲۸ اسد کی فتح کے بعد یہ تصور ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ تازہ آزاد ہونے والے ملک کو بڑی مشکلات کا سامنا تھا؛ ایک طرف برطانیہ کی معاشی پابندیاں اور دوسری طرف داخلی بے چینی۔ ایسے حالات میں قومی غیرت کی تعبیر ’’حاصل شدہ کامیابی کے تحفظ کے لیے مشکلات برداشت کرنے‘‘ کے مفہوم میں ہوئی۔ افغانستان کے عوام نے دکھایا کہ یہ غیرت صرف عسکری تنازعات کے دوران ہی بیدار نہیں ہوتی بلکہ معاشی محاصرے کے تاریک دنوں میں بھی اس پر بھروسا کیا جاسکتا ہے۔ بھوک اور محرومیوں کے مقابلے میں ان کا صبر اور استقامت قومی غیرت کا ایک اور باب رقم کرگئی؛ ایسا باب جس کی اہمیت جنگ میں بہادری اور شجاعت سے کم نہیں تھی۔
فلسفیانہ اعتبار سے ۲۸ اسد کو قومی غیرت کی شناخت کو درپیش خطرے کے مقابلے میں ایک قسم کا ’’وجودی ردِعمل‘‘ تھا۔ استعماری طاقتیں نہ صرف افغانستان کے وسائل لوٹنا چاہتی تھیں بلکہ اس قوم کے اقداری نظام کو تبدیل کرنے کی بھی کوشش کررہی تھیں۔ ایسے حالات میں قومی غیرت نے ایک دفاعی ڈھال کا کردار ادا کیا اور قوم کی مشترکہ شناخت کو ثقافتی اور سیاسی یلغار سے محفوظ رکھا۔ یہ ڈھال آج کی نسل کے لیے بھی ایک بڑا سبق رکھتی ہے: غیرت کوئی جامد تصور نہیں بلکہ اسے ہر دور میں نئے خطرات اور چیلنجوں کے مطابق ازسرِنو متعین کرنا ضروری ہے۔
۲۸ اسد نے ہمیں سکھایا کہ قومی غیرت صرف ہمدردی اور ذاتی مفادات سے دست بردار ہونے کے سائے میں اپنا مکمل مفہوم پاتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنے مفادات کو ایک بلند اور مشترکہ مقصد کی روشنی میں متعین کرتی ہے تو اس کی قوت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ آج جب افغانستان کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، اس حقیقت کی یاد دہانی آج ایک ناقابلِ انکار ضرورت ہے۔ قومی غیرت، جس طرح ۲۸ اسد کو اس نے استعمار کو شکست کی دہلیز تک پہنچایا، آج بھی قوم کو تعمیر، بازآبادکاری، ترقی اور خود کفالت کی جانب لے جاسکتی ہے؛ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ یہ غیرت محض نعروں کی زنجیروں سے نکل کر ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے عملی عزم میں تبدیل ہوجائے۔ ۲۸ اسد صرف فخر کا ایک دن نہیں؛ بلکہ ہمیشہ کے لیے ایک روشن رہنما ہے۔




















































