مسلمانوں کو قتل کرنا، ان سے جنگ کرنا اور غیرمسلمانوں کو چھوڑ دینا
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث میں خوارج کی نمایاں نشانیوں میں سے ایک مسلمانوں کے ساتھ ان کا سخت رویہ، ان سے جنگ کرنا اور مسلمانوں کا خون بہانا ہے۔
یہ خصوصیت ان کے افکار و نظریات کے خطرناک پہلوؤں میں شمار ہوتی ہے, کیونکہ وہ فکری اختلافات اور دین کے بارے میں مختلف فہم و تعبیرات کو مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور تشدد میں بدل دیتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا ہے:
«يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ»
وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔
[صحیح البخاری، حدیث: ۷۴۳۲]
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ان کی بنیادی گمراہیوں میں سے ایک یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کو اپنا اصل دشمن سمجھتے تھے, حالانکہ شریعت میں مسلمان کی جان کی حرمت کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتے ہیں:
«وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا»
اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا, اللہ تعالیٰ جل جلالہ اس پر غضب ناک ہوا، اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ [النساء: ۹۳]
آج جب ہم عصرِ حاضر میں اس گروہ کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان فتنہ پرور گروہوں نے اپنے ظہور کے آغاز سے لے کر آج تک مسلمانوں سے دشمنی کی ہے اور ان کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ وہ امت مسلمہ کے بہترین افراد کو ختم کرنے کے مقصد سے اپنی تمام قوت اور وسائل استعمال کرتے ہیں۔
مسلمانوں کے ساتھ خوارج کے اس گروہ کی دشمنی کی ایک واضح مثال امارت اسلامیہ کے ساتھ جنگ اور مخالفت ہے، ایسا نظام جس کے آغاز سے آج تک اس کے دشمن کفار، یہود، نصاریٰ اور دنیا کے تمام طاغوت رہے ہیں اور ہیں۔ اس نظام نے اپنے بہادر سپوتوں اور قربانیوں کے ذریعے حملہ آوروں اور فرعونوں کی ناک خاک میں رگڑ دی اور اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی نصرت و مدد سے فتح و کامیابی حاصل کی۔
لیکن آج یہ گروہ اسلام کے سابقہ دشمنوں کے مطالبات پر لبیک کہہ چکے ہیں اور اسی اسلامی نظام کے ساتھ ٹکراؤ میں ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس بارے میں شرعی نصوص کا مجموعہ واضح کرتا ہے کہ اسلام فکری اور دینی اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں کی جان کی حرمت پامال کرنے کو قبول نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ شدید اختلافات کے حالات میں بھی انسانوں کی جان اور حقوق اپنی حرمت رکھتے ہیں، اور محض ذاتی فہم و رائے کی بنیاد پر کسی مسلمان کا خون بہانا حلال قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اسی لیے خوارج کے بارے میں احادیث کے اہم اسباق میں سے ایک یہ ہے کہ دینی انتہا پسندی، جب تکفیر اور تشدد کے ساتھ مل جائے، تو اسلامی معاشرے کو اندر سے اختلاف اور خونریزی کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ درست راستہ یہ ہے کہ صالح سلف کے فہم و علم کے مطابق قرآن عظیم الشان اور نبوی سنت کی طرف رجوع کریں، عدل کو پیش نظر رکھیں، انسانوں کی جان کی حرمت کا تحفظ کریں اور پیچیدہ مسائل میں اہلِ علم سے رہنمائی حاصل کریں۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں کوشش کریں اور امت مسلمہ کے نوجوانوں کو اس گمراہ اور بے راہ فرقے کے غلط افکار و عقائد سے آگاہ کریں۔


















































