۱۴۔ دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں افراط و تفریط کا خطرہ
گزشتہ اقساط میں ہم نے عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرتی تعلقات اور زندگی کے دیگر شعبوں میں اعتدال کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ مناسب ہے کہ اب افراد اور معاشروں کی گمراہی کے اہم اسباب میں سے ایک سبب، یعنی دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں افراط و تفریط، کا بھی ذکر کیا جائے۔
اسلام وہ پہلا دین ہے جس نے اپنے ابتدائی ایام ہی سے ہر قسم کی غلو، تفریط اور اعتدال کی راہ سے انحراف کے خلاف بھرپور جدوجہد کی ہے۔ اسلام کے عظیم پیغمبر صلیاللہعلیہوسلم نے مسلمانوں کو بار بار دینی امور میں افراط سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا:
إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ.
(نسائی و ابن ماجہ)
ترجمہ: دین میں غلو اور افراط سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو اور افراط ہی نے ہلاک کیا۔
اسلام کی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی گروہ نے میانہ روی سے فاصلہ اختیار کیا، تو اختلاف، تفرقے اور امتِ مسلمہ کو نقصان پہنچنے کی راہ ہموار ہوئی۔ جیسا کہ ہم نے موجودہ دور میں بھی دیکھا کہ بعض لوگ افراط و تفریط کے باعث امتِ مسلمہ کے درمیان اختلاف اور تفرقے کا سبب بن گئے، جبکہ بعض دوسرے افراد یا گروہوں نے دین کے دفاع کے نام پر تشدد، بے ضابطہ تکفیر، تند روی اور بے بنیاد سخت گیری کا راستہ اختیار کیا، حالانکہ اس قسم کے طرزِ عمل نہ شرعی نصوص سے مطابقت رکھتے ہیں اور نہ ہی نبیٔ رحمت صلیاللہعلیہوسلم کی سیرت سے ہم آہنگ ہیں۔
اس کے برعکس، ایک دوسرا گروہ روشن خیالی، جدت پسندی یا زمانے کے ساتھ ہم آہنگی کے عنوان سے اسلام کے ثابت شدہ اصولوں اور اقدار میں سهل انگاری کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دین کے واضح احکام کو کم اہمیت کا حامل ظاہر کرے۔ اس قسم کا طرزِ عمل بھی ایک طرح کی تفریط اور اسلام کی صحیح راہ سے دوری شمار ہوتا ہے۔ قرآن و سنت نے مسلمانوں کو جس راستے سے روشناس کرایا ہے، وہ نہ افراط کا راستہ ہے اور نہ تفریط کا، بلکہ وہی درمیانی اور سیدھا راستہ ہے جو مسلمان کو اس کی منزل تک پہنچاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو اسی خصوصیت کے ساتھ متعارف کرایا ہے اور فرمایا:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا.
البقرة: ۱۴۳
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی امت بنایا ہے۔
اسی لیے ہر ایسی فکر، نظریہ، تحریک یا طرزِ عمل جو مسلمانوں کو اعتدال، عدل، حکمت، رحمت اور قرآن و سنت کی صحیح پیروی سے دور کرتا ہے، نظرِ ثانی اور اصلاح کا محتاج ہے۔
بدقسمتی سے آج بعض لوگ سنت اور حدیث کی پیروی کے نام پر افراط اور تند روی میں اس حد تک مبتلا ہو گئے ہیں کہ انہیں دوسرے مسلمان کافر یا مشرک نظر آنے لگتے ہیں، اور اس طرح وہ امتِ مسلمہ کے درمیان اختلاف اور تفرقے کا سبب بن گئے ہیں۔ حقیقت میں اسلام اور سنت ایسے لوگوں سے بیزار ہیں اور وہ اپنی گمراہی میں سرگرداں ہیں۔ ایک باشعور مسلمان ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ دین کو صحیح اور متوازن فہم کی بنیاد پر سیکھے اور خود کو افراط و تفریط کے جال سے محفوظ رکھے۔




















































