جمعرات, جولائی 23, 2026
المرصاد
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے فرشتوں کی پناہ میں عید

    امن کے فرشتوں کی پناہ میں عید

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    خوارج کے جانشین! چھٹی قسط

    خوارج کے جانشین! چھٹی قسط

    حدود کے نفاذ میں معاصر اسلامی نظام کی حکمتِ عملی اور داعشی خوارج کی سخت گیر روش کے نتائج!

    حدود کے نفاذ میں معاصر اسلامی نظام کی حکمتِ عملی اور داعشی خوارج کی سخت گیر روش کے نتائج!

    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور غیر عسکری تسلط

    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور غیر عسکری تسلط

    داعش: امریکہ کا سب سے منافع بخش منصوبہ! دسویں قسط

    داعش: امریکہ کا سب سے منافع بخش منصوبہ! دسویں قسط

    افغان-پاکستان تعلقات کی مفاہمت کا فکری آغاز؛ 2021ء سے 2022ء تک کابل میں امن مذاکرات کا تعمیری دورانیہ پہلی قسط

    افغان-پاکستان تعلقات کی مفاہمت کا فکری آغاز؛ 2021ء سے 2022ء تک کابل میں امن مذاکرات کا تعمیری دورانیہ پہلی قسط

    غزہ آتش و آہن کے شعلوں میں! چھٹی قسط

    غزہ آتش و آہن کے شعلوں میں! چھٹی قسط

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

  • ابطالِ امت
    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    عزالدین حداد: مردِ مجاہد جسے شہادت امر کر گئی!

    عزالدین حداد: مردِ مجاہد جسے شہادت امر کر گئی!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے فرشتوں کی پناہ میں عید

    امن کے فرشتوں کی پناہ میں عید

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    خوارج کے جانشین! چھٹی قسط

    خوارج کے جانشین! چھٹی قسط

    حدود کے نفاذ میں معاصر اسلامی نظام کی حکمتِ عملی اور داعشی خوارج کی سخت گیر روش کے نتائج!

    حدود کے نفاذ میں معاصر اسلامی نظام کی حکمتِ عملی اور داعشی خوارج کی سخت گیر روش کے نتائج!

    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور غیر عسکری تسلط

    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور غیر عسکری تسلط

    داعش: امریکہ کا سب سے منافع بخش منصوبہ! دسویں قسط

    داعش: امریکہ کا سب سے منافع بخش منصوبہ! دسویں قسط

    افغان-پاکستان تعلقات کی مفاہمت کا فکری آغاز؛ 2021ء سے 2022ء تک کابل میں امن مذاکرات کا تعمیری دورانیہ پہلی قسط

    افغان-پاکستان تعلقات کی مفاہمت کا فکری آغاز؛ 2021ء سے 2022ء تک کابل میں امن مذاکرات کا تعمیری دورانیہ پہلی قسط

    غزہ آتش و آہن کے شعلوں میں! چھٹی قسط

    غزہ آتش و آہن کے شعلوں میں! چھٹی قسط

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

  • ابطالِ امت
    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    عزالدین حداد: مردِ مجاہد جسے شہادت امر کر گئی!

    عزالدین حداد: مردِ مجاہد جسے شہادت امر کر گئی!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
المرصاد
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
صفحہ اول تبصرے و تحریرات

۲۴ اسد؛ امارتِ اسلامی افغانستان کی کامیاب خارجہ پالیسی

خلیل عزام

۲۴ اسد؛ امارتِ اسلامی افغانستان کی کامیاب خارجہ پالیسی
Share on FacebookShare on Twitter

امسال افغانستان کی امریکی قبضے سے آزادی کی چوتھی سالگرہ ایسے وقت پر آ رہی ہے جب ملک میں تعمیرِ نو اور آبادی کی بے شمار مقامی و علاقائی منصوبے جاری ہیں۔ ملک کی بڑی شاہراہوں اور شہروں میں ترقی اور خوشحالی کے آثار نمایاں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعلقات اور روابط میں بھی قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے، جن میں سب سے اہم واقعہ روس کی جانب سے امارتِ اسلامی کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے۔

افغانستان کا یومِ آزادی (۲۴ اسد) معاصر تاریخ میں ایک عظیم اور تابناک واقعہ ہے، جس کے پس منظر میں ہزاروں شہداء کی قربانیاں اور مجاہدین کی جدوجہد کارفرما ہے۔ اسی کے ساتھ امارتِ اسلامی کی مضبوط خارجہ پالیسی اور حکمتِ عملی — جس کا محور قطر کا سیاسی دفتر اور دوحہ معاہدہ تھا — کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ امارتِ اسلامی کے وفد کی مؤثر سفارتکاری اور شریعت پر مبنی دوٹوک مؤقف نے یہ ممکن بنایا کہ قابض افواج کا خاتمہ ہو، افغانستان میں تقریباً نصف صدی پر محیط جنگ رک جائے اور حقیقی امن قائم ہو، جس کی بدولت آج افغان عوام سکون و اطمینان کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اس جیسی دیگر تحاریر

خوارج کے جانشین! چھٹی قسط

حدود کے نفاذ میں معاصر اسلامی نظام کی حکمتِ عملی اور داعشی خوارج کی سخت گیر روش کے نتائج!

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور غیر عسکری تسلط

مؤثر اور مضبوط خارجہ پالیسی کی بنیاد کسی ملک کے اندرونی استحکام، قومی اتحاد، عوامی حمایت، فیصلہ سازی کی صلاحیت اور اقتدار کی مشروعیت پر ہوتی ہے — اور آج افغانستان ان تمام نعمتوں سے بہرہ مند ہے۔ رواں ۱۴۰۴ ہجری شمسی سال، جو اسلامی امارت کے اقتدار کا چوتھا سال ہے، افغانستان نے اپنی فعال اور مؤثر سفارتکاری کے ذریعے، باضابطہ عالمی تسلیم نہ ہونے کے باوجود، اپنے پڑوسی ممالک میں بلند وقار قائم رکھا اور کئی سفارتی کامیابیاں حاصل کیں۔

عالمی سیاست میں آج فعال خارجہ سفارتکاری ایک ایسی زبان سمجھی جاتی ہے جس کے ذریعے ممالک اپنے قومی مفادات اور عوامی ضروریات دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ امارتِ اسلامی نے اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک غیر متزلزل اور اصولی مؤقف کے ساتھ عالمی سطح پر یہ باور کرایا کہ اب افغانستان میں کوئی مسلط کردہ جنگ موجود نہیں، اور موجودہ پُرامن افغانستان دنیا کے ساتھ ہر قسم کے پُرامن تعلقات اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ البتہ اپنی سرخ لکیریں اور مقاصد وہ کسی بھی ملک کے مفاد یا بے جا مطالبات پر قربان نہیں کر سکتا — اور یہی وجہ ہے کہ اس نے دنیا کا اعتماد اور وقار حاصل کیا۔ یہ حقیقت اب بہت سے ممالک اور حتیٰ کہ اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کرلی ہے، اور وہ عالمی ادارے اور متعصب حکومتیں جو کبھی انکار پر مصر تھیں، بالآخر اس حقیقت کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو رہی ہیں۔

بین الاقوامی نمائندگیاں: امارتِ اسلامی نے اپنے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے آغاز سے آج تک ہمیشہ غیر ملکیوں، یا دوسرے لفظوں میں عالمی برادری، کے ساتھ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی روشنی میں ہر قسم کے سیاسی روابط کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ قطر میں اس کا سیاسی دفتر ہر ایک کے لیے کھلا رہا، جس کے نتیجے میں — وزارتِ خارجہ کے مطابق — آج امارتِ اسلامی کے دنیا کے ۴۰ ممالک میں فعال سفارتی مشن موجود ہیں، جن میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔ ان میں چین، روس اور بھارت جیسے ایشیا کے بڑی اقتصادی و سیاسی طاقتیں بھی ہیں، جنہوں نے امارتِ اسلامی کے غیر جانبدار اور قومی مؤقف کو سمجھا اور اس نظام کو عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کیا۔

کئی ممالک نے اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد ازخود یہ فیصلہ کیا کہ وہاں موجود افغان سفارت خانے رضاکارانہ طور پر وزارتِ خارجہ کے حوالے کر دیے جائیں۔ ان تمام سفارت خانوں میں افغان سفارت کار فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور مختلف مواقع پر میزبان ملک میں اپنے عوام کے نمائندے کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ یہ دراصل ایک بروقت اور درست قدم ہے، جو اُن مخالف ذہنوں کے لیے مؤثر جواب ہے جن کی زبانیں مختلف ممالک میں امارتِ اسلامی کی مخالفت کے نعرے لگاتے لگاتے خشک ہو چکی تھیں۔

کابل میں فعال سفارت خانے: بیرونِ ملک افغان سفارت خانوں اور قطر کے دفتر کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں دنیا کے بیس بڑے اور چھوٹے ممالک — حتیٰ کہ وہ ممالک بھی جن کی افغانستان میں کبھی نمائندگی نہیں تھی — اس بات کے خواہش مند ہوئے کہ افغان عوام کے ساتھ بہتر اور سفارتی تعلقات قائم رکھنے کے لیے کابل میں دوبارہ اپنے سفارت خانے کھولیں۔ ان ممالک کے سفیر، باضابطہ تسلیم نہ ہونے کے باوجود، سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں اپنی امداد و تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے، جس کی مثالیں اور رپورٹیں گزشتہ برس میں سرکاری و غیر سرکاری میڈیا پر ادارہ جاتی ملاقاتوں اور سرگرمیوں کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن: ماضی میں افغانستان اکثر پڑوسی ممالک کے ساتھ تنازعات اور مسائل میں الجھا رہتا تھا۔ یہ مسائل زیادہ تر تعلقات میں توازن کی کمی، غیر خودمختار خارجہ پالیسی اور بیرونی مداخلت کا نتیجہ تھے۔ کسی ایک پڑوسی سے حد سے زیادہ قربت اور دوسرے سے دوری نے سفارتی توازن بگاڑ دیا تھا، جس کے اثرات تجارت سمیت دیگر امور پر بھی پڑتے، اور وہاں مقیم افغان مہاجرین کی زندگی دشوار ہو جاتی۔ بعض اوقات تو پڑوسی ممالک افغان مہاجرین کو دباؤ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے۔ خوش قسمتی سے امارتِ اسلامی نے معیشت پر مبنی پالیسی کے ذریعے اس شعبے میں توازن قائم رکھا، اور ایران و پاکستان کے ساتھ سرحدی فوجی جھڑپوں کے باوجود اپنی سفارت کاری کو فعال رکھا اور تعلقات کے استحکام کو محفوظ بنایا۔

بین الاقوامی واقعات اور مسائل پر متوازن ردعمل: افسوس کہ گزشتہ برس کچھ عالمی ادارے، تنظیمیں اور حکومتیں پہلے کی طرح افغانستان اور امارتِ اسلامی پر تنقید کرتی رہیں، غیر متوازن اور غلط بیانات جاری کرتی رہیں۔ بعض کا مقصد یہ تھا کہ امارت کی خارجہ پالیسی کو جذبات اور غیر ضروری ردعمل کی راہ پر ڈال دیا جائے، تاکہ یہ میڈیا کی بحث کا موضوع بنے۔ لیکن خوش قسمتی سے امارتِ اسلامی نے عالمی مسائل پر کبھی خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ ہر موقع اور مناسب وقت پر معقول ردعمل دیا۔ چاہے وہ ہیگ کی عالمی عدالت کے غلط فیصلے ہوں، غزہ کے مظلوم عوام پر صہیونی ریاست کا ظلم، یا افغانستان کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت — ہر موقع پر بروقت اور مناسب ردعمل دیا گیا، جس سے بڑی حد تک مخالفین کے عزائم ناکام ہوئے۔
بیرونی دورے: امارتِ اسلامی افغانستان کے وزیرِ خارجہ کا حالیہ دورہ ایک وفد کی قیادت میں سلطنتِ عمان کو ہوا — ایک ایسا ملک جو توانائی اور سرمایہ کاری کے میدان میں شاندار مگر نظرانداز شدہ امکانات رکھتا ہے۔ اس سے قبل بھی، وزیرِ خارجہ کے علاوہ کابینہ کے متعدد وزراء اور محکموں کے سربراہان کو پڑوسی اور علاقائی ممالک میں بین الاقوامی کانفرنسوں اور اجلاسوں میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا، جہاں انہوں نے اپنا مؤقف بغیر کسی سنسرشپ کے واضح طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، کابل میں بھی وزیرِ اعظم کی سطح تک غیر ملکی سربراہان اور مختلف وفود نے دورے کیے، ملاقاتوں کے بعد عبوری حکومت اور قومی استحکام پر ان کا اعتماد مزید بڑھا اور وہ اپنے ممالک کو مثبت پیغامات دے کر واپس گئے۔

یوناما اور مینڈیٹ کی توسیع: افغانستان میں اقوام متحدہ کا سیاسی مشن — یوناما — ہر سال کے اختتام پر اس فیصلے کے چیلنج سے دوچار ہوتا ہے کہ آیا اپنی موجودگی برقرار رکھے یا دفتر بند کر دے۔ جمہوری حکومت میں وزارتِ خارجہ گھر کے ملک کے اندر اور باہر درخواستوں اور التجاؤں تک محدود تھی کہ یہ ادارہ کابل میں موجود رہے، اور اس کی غیر موجودگی میں نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔ حتیٰ کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو اس ادارے کی منفی اور غلط رپورٹوں پر بھی مصلحتاً کوئی ردعمل نہیں دیا جاتا تھا۔ لیکن اس سال، جب یوناما نے اپنے کام بند کرنے کی ایک ماہ کی شرط رکھی، امارتِ اسلامی نے کسی قسم کی درخواست یا انحصار کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ الٹا سخت تنقید کی کہ یہ ادارہ عالمی سطح پر امارتِ اسلامی کی کامیابیوں کو کیوں نہیں دکھاتا اور اپنی رپورٹوں میں انصاف سے کیوں کام نہیں لیتا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بالآخر یوناما نے خود اپنی مدتِ کار مزید ایک سال بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

پروپیگنڈے کا جواب: بدقسمتی سے گزشتہ سال کچھ ممالک اور مخالف گروہوں نے بیرونِ ملک سیاسی مخالفین اور کیمپوں میں مقیم افراد کو بار بار ’’سیمینار‘‘، ’’ڈائیلاگ‘‘، ’’فورم‘‘ یا کسی اور عنوان کے تحت اکٹھا کیا، تاکہ افغانستان کی ایک منفی اور غیر حقیقی تصویر پیش کی جا سکے، خود کو حق پر ثابت کیا جائے، اور پھر اسی پلیٹ فارم سے امارتِ اسلامی اور افغان عوام کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جائے۔ ان میں سے اکثر باتیں خود بین الاقوامی برادری اور میزبان ممالک کے لیے ناقابلِ قبول تھیں۔ امارتِ اسلامی کی وزارتِ خارجہ نے ان پروپیگنڈوں کا بروقت اور مؤثر جواب پریس ریلیز اور کانفرنسوں کے ذریعے دیا، اور حقائق واضح کر کے ان کے فتنے کو دفع کیا۔ اس مہم کا ایک حصہ اُن میڈیا اداروں کے ذریعے چلایا جا رہا تھا جنہیں مفرور سابق حکومتی عہدیداران، ان کے منسلک ادارے اور خفیہ نیٹ ورک فنڈنگ فراہم کرتے ہیں۔

داعشی خوارج اور ان کے خلاف جدوجہد: داعش آج ایک بین الاقوامی دہشت گردانہ مسئلہ ہے، جس کے حملے اور اثرات کسی سرحد کے پابند نہیں۔ یہ دنیا کے مختلف ممالک میں امن برباد کرنے اور عوام کو قتل کرنے میں ملوث ہے، اسی لیے اس کے خلاف جدوجہد بھی ایک عالمی موضوع اور سلامتی کی ذمہ داری ہے۔ افسوس کہ اس میدان میں امارتِ اسلامی کی فیصلہ کن کارروائی اور اس گروہ کے خاتمے کے لیے کی گئی قربانیوں کو دنیا کی طرف سے نہ سراہا گیا، نہ کوئی عملی تعاون ہوا۔ افغانستان میں ہلاک ہونے والے اکثر داعشی دہشت گردوں سے ملنے والے شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ پڑوسی اور علاقائی ممالک سے بھیجے گئے تھے۔ وہ مشترکہ دشمن جو پوری دنیا کو خطرے میں ڈال رہا ہے، اس کے خلاف صرف امارتِ اسلامی نے جرأتمندانہ اقدامات کیے — نہ صرف افغانستان کو بلکہ بڑی حد تک دنیا کو بھی اس کے شر سے محفوظ بنایا۔ اب لازم ہے کہ دنیا بھی اپنی ذمہ داری نبھائے اور اسے مشترکہ دشمن سمجھے۔
نتیجتا کہا جا سکتا ہے کہ امارتِ اسلامی کی خارجہ پالیسی بہترین ہے، جس میں ملکی اقدار، قومی مفادات اور معیشت کا ہر پہلو سے خیال رکھا گیا ہے۔ جو ممالک مغرب اور امریکہ کے اثر سے آزاد ہیں، وہ اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ امارتِ اسلامی ایک آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی رکھتی ہے، اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ضروری ہے — جو دراصل باضابطہ تسلیم کیے جانے کی تمہید ہے۔

شیئرٹویٹ

اس طرح کی دیگر تحاریر

فوجی رجیم کے ملا طاغوت کہ راپ پر!
تبصرے و تحریرات

فوجی رجیم کے ملا طاغوت کہ راپ پر!

اپریل 22, 2026
پاکستان کی ناراض قومیں اور فوجی رجیم کی مداخلتیں!
تبصرے و تحریرات

پاکستان کی ناراض قومیں اور فوجی رجیم کی مداخلتیں!

اکتوبر 26, 2025
داعش کے ظہور کا تاریخی اور فلسفیانہ مطالعہ؛ نظریے سے عمل تک! | ساتویں قسط
تبصرے و تحریرات

داعش کے ظہور کا تاریخی اور فلسفیانہ مطالعہ؛ نظریے سے عمل تک! | ساتویں قسط

اگست 4, 2025
امارت اسلامیہ کے خلاف داعشی خوارج کے پروپیگنڈے اوراعتراضات کا شرعی جائزہ  | اٹھارہویں قسط
علمی تحریرات

امارت اسلامیہ کے خلاف داعشی خوارج کے پروپیگنڈے اوراعتراضات کا شرعی جائزہ | اٹھارہویں قسط

جنوری 21, 2025
پاکستانی فوجی رجیم کی حقیقت، تاریخ کے آئینے میں! ساتویں قسط
تبصرے و تحریرات

پاکستانی فوجی رجیم کی حقیقت، تاریخ کے آئینے میں! ساتویں قسط

مئی 14, 2026
غزہ سے افغان قیادت تک!
تبصرے و تحریرات

غزہ سے افغان قیادت تک!

جون 29, 2025

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

    • ٹرینڈنگ
    • تبصرے
    • تازہ ترین
    تاجکستانی وجود پر پڑی داعشی بندوق غلط ہدف کو نشانہ بنا رہی ہے

    تاجکستانی وجود پر پڑی داعشی بندوق غلط ہدف کو نشانہ بنا رہی ہے

    مارچ 25, 2024
    پاکستان کا قصہ تمام ہونے والا ہے

    پاکستان کا قصہ تمام ہونے والا ہے

    مارچ 28, 2024
    قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات

    قندھار حملے کے بارے میں نئے انکشافات

    مارچ 23, 2024
    کیا پاکستان میں پکڑا گیا داعشی محمد شریف جعفر واقعی کابل ہوائی اڈے پر حملے کا منصوبہ ساز یا ذمہ دار ہے؟

    کیا پاکستان میں پکڑا گیا داعشی محمد شریف جعفر واقعی کابل ہوائی اڈے پر حملے کا منصوبہ ساز یا ذمہ دار ہے؟

    مارچ 5, 2025
    چھ جدی: افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات

    چھ جدی: افغانستان کو پہنچنے والے نقصانات

    0
    افغانستان میں سوویت یونین کے وحشیانہ حملے کے نتاءج

    افغانستان میں سوویت یونین کے وحشیانہ حملے کے نتاءج

    0
    افغانستان میں داعش کے اہداف

    افغانستان میں داعش کے اہداف

    0
    بغدادی ملیشیا کے حامیوں سے سوال

    بغدادی ملیشیا کے حامیوں سے سوال

    0
    خوارج کے جانشین! چھٹی قسط

    خوارج کے جانشین! چھٹی قسط

    جولائی 22, 2026
    حدود کے نفاذ میں معاصر اسلامی نظام کی حکمتِ عملی اور داعشی خوارج کی سخت گیر روش کے نتائج!

    حدود کے نفاذ میں معاصر اسلامی نظام کی حکمتِ عملی اور داعشی خوارج کی سخت گیر روش کے نتائج!

    جولائی 22, 2026
    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور غیر عسکری تسلط

    مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور غیر عسکری تسلط

    جولائی 21, 2026
    داعش: امریکہ کا سب سے منافع بخش منصوبہ! دسویں قسط

    داعش: امریکہ کا سب سے منافع بخش منصوبہ! دسویں قسط

    جولائی 21, 2026

    تازہ خبریں

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    جولائی 1, 2026
    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    جون 21, 2026
    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    جون 19, 2026
    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    جون 2, 2026
    • ابطالِ امت
    • اداریہ
    • اصدارات
    • انفوگرافکس
    • تبصرے اور تحریرات
    • خبریں
    • صفحہ اول
    • علماء
    • لائبریری
    المرصاد سے رابطہ: info@almirsadur.com

    جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist

    کو ئی نتیجہ
    تمام نتائج دیکھیں
    • صفحہ اول
    • اداریہ
    • خبریں
      • افغانستان
      • علاقائی خبریں
      • عالمی خبریں
    • تبصرے اور تحریرات
      • خوارج العصر
      • سیاسی تحریرات
      • جہادی تحریرات
      • علمی تحریرات
      • تجزیاتی تحریرات
    • علماء
    • ابطالِ امت
    • اصدارات
    • انفوگرافکس
    • لائبریری
    • المرصاد
      • پښتو
      • دری
      • عربي
      • English
      • বাংলা

    جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔