روسیوں نے برسوں تک افغانستان کی سرزمین پر بارود کی بارش برسائی، مگر اس کا انجام سوویت یونین کے انہدام اور زوال کی صورت میں نکلا۔ امریکہ اور نیٹو نے بھی افغانستان پر تقریباً ایک کھرب ڈالر مالیت کا اسلحہ اور بارود استعمال کیا، لیکن آخرکار ان کے حصے میں رسوائی، شرمندگی اور شکست ہی آئی۔ یہ ساری تاریخ پاکستانی جرنیلوں کے سامنے موجود ہے۔
اگر پاکستانی جرنیل اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان پر بمباری انہیں کامیابی دلا سکتی ہے، تو بہتر ہے کہ پہلے اپنے استادوں، یعنی امریکی جرنیلوں سے اس تجربے کے نتائج کے بارے میں پوچھ لیں۔ پاکستانی جرنیلوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ افغان سرزمین پر بم گرانا تو آسان ہے، لیکن اس کے ردِعمل کا سامنا کرنا اور اس کا حساب چکانا بہت بھاری قیمت کا تقاضا کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس طاقت نے بھی افغانستان کے خلاف طاقت اور بارود کی زبان استعمال کی، آخرکار اسے شکست، زوال اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔
افغانوں سے دشمنی چند دنوں یا چند مہینوں کی جنگ نہیں، بلکہ ایسا حساب ہے جسے چکانے میں کبھی کبھی کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ اگر پاکستانی جرنیل یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ بھی بھارت کے ساتھ ہونے والی چند روزہ جذباتی بمباری اور جوابی حملوں تک محدود رہے گی، یا وہ بمباری کے ذریعے افغانوں کو جھکا لیں گے، تو وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔
افغان جنگ آہستہ ضرور لڑتے ہیں، مگر صبر، استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ لڑتے ہیں۔ نہ وہ موت سے خوف کھاتے ہیں اور نہ طویل جنگ سے تھکتے ہیں۔ پاکستانی جرنیل آج بموں کا جو کھیل شروع کر رہے ہیں، افغان گزشتہ چالیس برس سے اس کھیل سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کا حساب ابھی نیٹو اور امریکہ کے ساتھ بھی پورا نہیں ہوا، حالانکہ وہی ان پاکستانی جرنیلوں کے سب سے بڑے سرپرست اور تربیت دینے والے تھے؛ اس لیے ان جرنیلوں کے ساتھ ان کا حساب اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔
لاہور اور اسلام آباد میں ایئرکنڈیشنڈ کمروں کی ٹھنڈک اور شراب کی مدہوشی میں بیٹھے جرنیلوں نے ابھی تک کار بم کی دہکتی ہوئی آگ اور اس کے تلخ دھوئیں کا سامنا نہیں کیا، وہی چیز جس سے افغانوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں اپنے دشمنوں کو روشناس کرایا ہے۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بے گناہ شہریوں کے قتل کا بدلہ افغان پاکستان کے عوام سے لیں گے، تو ان کا یہ اندازہ بھی غلط ہے۔ افغان اپنے دشمن کو پہچاننے کا ہنر رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس خطے کی بدقسمتی کے اصل ذمہ دار چند مخصوص شرپسند افراد ہیں، اور حساب بھی صرف انہی سے لیا جائے گا۔
اس بار پاکستانی جرنیل ایک ایسے دشمن کے سامنے ہیں جو اب انہیں پوری طرح پہچان چکا ہے، اور اب وہ پاکستان کے عوام کی آڑ میں خود کو نہیں چھپا سکتے۔ انہیں یہ حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے کہ آج انہوں نے غربت، قرضوں اور بیرونی امداد کے سہارے جتنے بم جمع کیے ہیں، ان سے کئی گنا زیادہ بارود نیٹو اور امریکہ اسی سرزمین پر استعمال کر چکے ہیں، مگر نتیجہ پھر بھی افغانوں ہی کے حق میں نکلا۔
اگر افغان موت سے جھکنے والے ہوتے تو آج کراچی کی بندرگاہ روسیوں کے قبضے میں ہوتی۔ اور اگر افغان بمباری سے خوف زدہ ہونے والے ہوتے تو آج امریکی بگرام سے ایران کو نشانہ بنا رہے ہوتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستانی جرنیلوں کے اسلحے کا ایک بڑا حصہ اسی کرائے سے حاصل ہوا جو نیٹو افغانستان کے لیے اپنے بم اور جنگی سازوسامان پاکستان کے راستے منتقل کرنے کے عوض پاکستان کو ادا کرتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ یہ نہیں سوچتے کہ نیٹو کے وہ بم، جن کی صرف ترسیل کا کرایہ ہی ان کے پورے اسلحہ خانے سے کئی گنا زیادہ تھا، افغانوں کو جھکا نہ سکے، تو ان کے بم یہ کام کیسے کر سکتے ہیں؟
افغان نہ بارود سے ڈرتے ہیں اور نہ ہتھیار ڈالتے ہیں۔ بموں کے زور پر افغانستان کو شکست دینے کی کوشش پاکستانی جرنیلوں کی سب سے غیر سنجیدہ اور احمقانہ سوچ ہے، کیونکہ دنیا کئی مرتبہ دیکھ چکی ہے کہ اس راستے سے کبھی مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔ بموں کا یہ کھیل، کسی اور کے بجائے، آخرکار پاکستانی جرنیلوں کو بھی اسی انجام سے دوچار کرے گا جو ایک وقت میں امریکی جرنیلوں کے حصے میں آیا تھا؛ یعنی شکست، نفسیاتی اور جسمانی نقصانات، اور تاریخ کے صفحات میں ایک ناکام تجربے کے طور پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جانا۔




















































