پردے کے سامنے اور پسِ پردہ: بیانیوں کی جنگ
غزہ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی آگ کے شعلوں کے درمیان ایک اور جنگ بھی خاموشی کے ساتھ، مگر نہایت وسیع پیمانے پر جاری ہے؛ یہ جنگ بیانیوں پر غلبہ حاصل کرنے کی جنگ ہے۔ یہ ذرائع ابلاغ، تصاویر اور افکار کی جنگ ہے؛ ایسا محاذ جہاں حقائق بھی ہتھیار بن جاتے ہیں اور عالمی ہمدردی حاصل کرنا کامیابی کا ایک مؤثر ذریعہ بن جاتا ہے۔
ایک طرف غزہ کے عوام کے موبائل فونز کے کیمرے اور آزاد ذرائع ابلاغ دنیا تک تصاویر کا ایک طوفانی سلسلہ پہنچا رہے ہیں۔ ملبے سے نکالے جانے والے معصوم بچے، ایک ہی لمحے میں بکھر جانے والے خاندان، اور خوف سے لبریز نگاہوں کے ساتھ کیمرے کے سامنے کھڑے بے بس چہرے—یہ تمام مناظر قربانی، استقامت اور مزاحمت کے بیانیے کو غیر معمولی قوت عطا کرتے ہیں اور دنیا کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ اس انسانی المیے کے قلب سے تصاویر، ویڈیوز اور رپورٹس کی ترسیل خود مزاحمت کی ایک نئی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہر مختصر ویڈیو اور ہر تصویر اس حقیقت کی گواہ ہے جسے چھپانے یا مسخ کرنے کی مسلسل کوشش کی جاتی ہے۔
اس محاذ کے دوسرے رخ پر صہیونی ریاست کا طاقت ور ابلاغی نظام پوری قوت کے ساتھ سرگرم ہے؛ ایسا نظام جو خطیر مالی وسائل اور عالمی میڈیا نیٹ ورکس کے سہارے ایک بالکل مختلف بیانیہ پیش کرتا ہے۔ اس بیانیے میں مسلسل "حقِ دفاع” پر زور دیا جاتا ہے، "آئرن ڈوم” جیسے جدید دفاعی نظاموں کو نمایاں کیا جاتا ہے، اور شہری آبادی کی ہلاکتوں سے یا تو انکار کیا جاتا ہے یا انہیں معمولی اور غیر اہم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ذرائع ابلاغ نہایت مہارت سے ایسی زبان اور اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جن میں شہریوں کے قتلِ عام کو "ضمنی نقصان” (Collateral Damage) اور رہائشی علاقوں کی مکمل تباہی کو "دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کا خاتمہ” قرار دیا جاتا ہے۔ زبان کا یہ طرزِ استعمال تشدد کو معمول کی چیز بنا کر پیش کرنے اور انسانی المیے کی سنگینی کو کم رنگ دکھانے کی ایک منظم کوشش ہے۔
سماجی رابطے کی بڑی بڑی ویب سائٹس بھی اس جنگ میں غیر جانب دار نہیں رہیں۔ ان کے الگورتھمز اکثر فلسطینیوں سے متعلق مواد کی رسائی محدود کر دیتے ہیں یا اسے حذف کر دیتے ہیں، جبکہ صہیونی ریاست کے سرکاری اکاؤنٹس کو وسیع پیمانے پر نمایاں کیا جاتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل سنسرشپ دراصل مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کی ایک نئی اور جدید صورت ہے۔
تاہم اس ابلاغی جنگ کا حقیقی مرکز انسانیت ہے۔ فلسطینی بیانیہ اس اعتبار سے نمایاں کامیابی حاصل کر چکا ہے کہ اس نے انسانی زندگیوں اور ان کے المیوں کو مرکزِ توجہ بنا کر اس بحران کو محض ایک دور افتادہ جغرافیائی و سیاسی تنازع سے نکال کر ایک محسوس، دردناک اور ذاتی انسانی سانحے میں تبدیل کر دیا ہے۔ انسانی اذیت و مصیبت کی یہ شخصی تصویر کشی بے حسی کی دیواریں ڈھا دیتی ہے اور دنیا کے اجتماعی ضمیر کو بیدار کرتی ہے۔
اس کے برعکس، صہیونی ریاست کا بیانیہ زیادہ تر ایک تجریدی اور سلامتی پر مبنی زاویۂ نظر پیش کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی ہمدردی حاصل کرنے میں، خصوصاً اس نوجوان نسل کے درمیان جو اپنی بیشتر خبریں سماجی رابطے کی ویب سائٹس سے حاصل کرتی ہے، اسے نسبتاً کم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
اس بیانیاتی کشمکش کا نتیجہ عالمی رائے عامہ کی گہری تقسیم کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ دنیا کے متعدد دارالحکومتوں کی سڑکیں ان وسیع عوامی مظاہروں کی گواہ ہیں جن میں غزہ کے مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کی جا رہی ہے، جبکہ بعض ممالک کے روایتی ذرائع ابلاغ اب بھی سرکاری بیانیے کو احتیاط کے ساتھ پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عوامی احساسات اور بعض حکومتوں نیز روایتی ذرائع ابلاغ کے مؤقف کے درمیان پیدا ہونے والا یہ فاصلہ اس ابلاغی جنگ کے نمایاں اثرات میں شمار ہوتا ہے۔ بالآخر، اس معرکے میں فیصلہ کن قوت صرف پیغام کی ترسیل نہیں، بلکہ اس کا جذباتی اور اخلاقی اثر بھی ہے۔ آج غزہ کے ایک عام شہری کے موبائل فون کا کیمرہ بسا اوقات ایک بڑی بین الاقوامی خبر رساں تنظیم کے برابر اثر ڈال سکتا ہے، اور یہی جنگ بیانیے کے میدان میں ایک بنیادی اور تاریخی تبدیلی ہے؛ ایسی تبدیلی جس کے اثرات غزہ کی آگ بجھ جانے کے بعد بھی طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔




















































