سقوطِ امریکا اور اگست 2021ء میں امارتِ اسلامی افغانستان کے دوبارہ برسرِاقتدار میں آنے کے بعد سے خطے کی جیو پولیٹکس… بالخصوص افغان-پاکستان دوطرفہ تعلقات انتہائی نازک، پیچیدہ اور تغیّر پذیر دور سے گزر رہے ہیں۔
عوامی حلقوں، فکری مراکز اور سیاسی راہ داریوں میں اکثر یہ بنیادی سوالات گردش کرتے ہیں کہ ‘کیا امارتِ اسلامیہ نے کبھی پاکستان کے ساتھ درپیش سکیورٹی اور سیاسی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوئی سنجیدہ اور مخلصانہ دعوت دی یا کوشش کی ہے؟ کیا کابل کی جانب سے مسائل کے پائیدار حل کے لیے کوئی اعلیٰ سطحی نمائندہ اسلام آباد کے ساتھ مفاہمت کی میز سجانے آگے بڑھا ہے؟’
تفصیلی فکری تجزیوں، سرکاری بیانات اور زمینی حقائق کی روشنی میں مرتب کیا گیا زیرِ نظر تفصیلی مضمون اِنہی سوالات کا احاطہ کرتا ہے، تاکہ افغان-پاکستان تعلقات کی حالیہ تاریخ کا کوئی بھی تزویراتی، سیاسی یا سفارتی پہلو اوجھیل نہ رہے اور قاری کے سامنے معاملات کی اصل حقیقت آشکار ہو سکے۔
جب اگست 2021ء میں امارتِ اسلامیہ نے طویل جدوجہد کے بعد افغانستان کا نظم و نسق سنبھالا تو کابل نے اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی تزویراتی اصولوں میں اپنے تمام پڑوسی ممالک… بالخصوص پاکستان کے ساتھ پُرامن، پائیدار اور مستحکم تعلقات کے قیام کو اولویت دی۔
کابل کا فکری نکتہ نظر یہ تھا کہ دونوں ممالک کے مابین سکیورٹی، سرحد اور تجارت جیسے دیرینہ، گنجلک اور پیچیدہ تنازعات کو جنگ، عسکری دباؤ یا سرد جنگ کی کیفیت کے بجائے سیاسی افہام و تفہیم، باہمی احترام اور سفارتی میز پر بیٹھ کر حل کیا جائے۔
اس تعمیری سوچ اور پُرخلوص پالیسی کی پہلی باقاعدہ، بڑی اور عملی شکل نومبر 2021ء میں اُس وقت منظرِ عام پر آئی، جب اسلام آباد اور تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے مابین شدید عسکری لڑائی جاری تھی اور خطہ ایک گہرے سکیورٹی بحران کا شکار تھا۔
امارتِ اسلامیہ نے خطے کے وسیع تر امن اور نیک نیتی کے اعلیٰ مظاہرے کے طور پر کابل میں اسلام آباد اور تحریکِ طالبان پاکستان جیسے خونی دشمنوں کی میزبانی کی، اپنے وسائل کا استعمال کیا اور ان کے درمیان ایک ماہ کی تاریخی اور پُر امن فائر بندی کروانے میں کامیابی حاصل کی۔
اس کامیاب ثالثی کا اگلا، باقاعدہ اور انتہائی منظم دور مئی 2022ء میں منعقد ہوا، جب افغان حکومت کی باقاعدہ دعوت پر پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کابل پہنچا۔ اس وفد میں نہ صرف اعلیٰ عسکری حکام شامل تھے، بلکہ پاکستان کے قبائلی عمائدین اور مقتدر حلقوں کے نمائندے بھی موجود تھے… تاکہ سکیورٹی مسائل کا کوئی ایسا جامع اور پائیدار حل نکالا جا سکے، جو دونوں ریاستوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
امارتِ اسلامیہ افغانستان نے کابل کے محفوظ اور اہم مقامات پر کئی دنوں تک جاری رہنے والی ان طویل، تھکا دینے والی اور سنجیدہ نشستوں میں ایک انتہائی ذمے دار، مکمل غیر جانب دار اور مخلص ثالث کا کردار ادا کیا، تاکہ اسلام آباد اور تحریکِ طالبان پاکستان جیسے فریقین کسی پائیدار اور طویل المیعاد امن معاہدے پر پہنچ سکیں۔
امارتِ اسلامیہ نے اُن مذاکرات کو محض ایک رسمی بیٹھک بنانے کے بجائے کامیاب اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے اپنی حکومت کے بااثر اور اعلیٰ ترین سکیورٹی حکام کو اس پورے سفارتی عمل کا حصہ بنایا۔
اس سلسلے میں امارتِ اسلامیہ کے وزیرِ داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے مرکزی ثالث کا کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی قیادت میں پاکستانی وفد اور ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے وفد کو ایک میز پر بٹھایا اور دونوں کے سخت اور بظاہر ناقابلِ سمجھوتہ مطالبات میں نرمی لانے کے لیے اپنا تمام سیاسی و سفارتی دباؤ اور اخلاقی اثر و رسوخ استعمال کیا۔
اس دباؤ اور کوشش میں امارتِ اسلامیہ کا بنیادی فکری مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے اندرونی سکیورٹی مسائل پائیدار بنیادوں پر حل ہوں، کیوں کہ کابل کا یہ پختہ ایمان تھا کہ پاکستان کے امن کا مثبت اور براہِ راست اثر ڈیورنڈ لائن پر سکیورٹی کی صورتِ حال اور دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تجارت پر نظر آئے گا۔
امارتِ اسلامیہ نے دونوں فریقین کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ یہ باور کروایا کہ خطے کا امن، عوامی خوش حالی اور معاشی ترقی صرف اور صرف جنگ بندی، اسلحه کے خاتمے اور سیاسی مکالمے سے ہی ممکن ہے۔
کابل کی ان مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں انتہائی اہم، تاریخی اور دُور رس زمینی پیش رفت سامنے آئی۔ اس دورے اور بیٹھک کا سب سے بڑا، فوری اور نمایاں نتیجہ یہ نکلا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) نے ریاستِ پاکستان کے خلاف اپنی تمام عسکری کارروائیاں معطل کرنے اور جنگ بندی میں ‘لامحدود مدت’ کی توسیع کا باقاعدہ اور تحریری اعلان کر دیا، جس سے پاکستان کے اندر امن و امان کی صورتِ حال میں فوری اور واضح بہتری آئی۔
اسی طرح مذاکرات کے دوران دونوں اطراف میں اعتماد سازی کی فضا بحال رکھنے کے لیے یہ اہم نکتہ طے پایا کہ حکومتِ پاکستان جوابی حسنِ سلوک اور خیر سگالی کے طور پر ٹی ٹی پی کے کچھ اہم قیدیوں کو رہا کرے گی، چناں چہ پاکستانی عسکری حکام نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت چند درجن قیدیوں کو رہا بھی کیا۔
مزید برآں ان طویل نشستوں میں سب سے پیچیدہ اور بڑا معاملہ تحریکِ طالبان پاکستان کی طرف سے سابقہ قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کا خیبر پختونخوا میں ہونے والے آئینی انضمام کو ختم کر کے اسے پرانی نیم خود مختار حیثیت اور قبائلی نظام میں بحال کرنے کا مطالبہ تھا۔
جنرل فیض حمید اور پاکستانی وفد نے اس حساس معاملے پر تفصیلی، گہرائی کے ساتھ اور سنجیدہ بات چیت کی اور قبائلی عمائدین کی فکری ثالثی کے ذریعے اس پیچیدہ آئینی معاملے کا کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالنے پر اتفاق کیا، جو پاکستان کے آئین اور ٹی ٹی پی کے تحفظات… دونوں کے مابین پُل کا کام کر سکے۔
اس کے ساتھ ہی امارتِ اسلامیہ اور پاکستان نے اس بات کی بھی باقاعدہ منظوری دی کہ جو قبائلی خاندان پاکستان کی اندرونی کشیدگی، فوجی آپریشنز اور جنگوں کی وجہ سے ڈیورنڈ لائن پار کر کے افغانستان میں مہاجر بن کر کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں… اُنہیں مکمل تحفظ، احترام اور عزتِ نفس کے ساتھ اُن کے آبائی علاقوں، خصوصاً وزیرستان میں واپس دوبارہ آباد کیا جائے گا۔
یہاں یہ تاریخی نکتہ انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کے یہ لاکھوں مہاجرین افغانستان میں اُس دور میں داخل ہوئے تھے، جب افغانستان میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکا موجود تھی اور کابل میں اشرف غنی کی امارت مخالف حکومت قائم تھی۔
یہ امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ قیام سے بہت پہلے کا معاملہ تھا۔ اس تناظر میں یہ سوال انتہائی منطقی اور فکری اہمیت کا حامل ہے کہ ‘اُس وقت کی پاکستانی حکومت کو اپنے اُن عسکری و انٹیلی جنس مقتدر حلقوں سے پوچھنا چاہیے تھا کہ جب پاکستانی فوجیں ڈیورنڈ لائن پر باقاعدہ باڑ لگا رہی تھیں اور نگرانی کر رہی تھیں تو کیسے 18 سے 20 ہزار وزیرستانی لوگ سرحد پر کھڑے عسکری پہرے داروں کے سامنے سے گزر کر افغانستان کی حدود میں داخل ہو گئے؟’
تاہم امارتِ اسلامیہ نے اپنی طرف سے اُس دورے، معاہدوں اور مذاکراتی عمل کو پائیدار اور مستقل بنانے کی پوری کوشش کی، لیکن افسوس ناک طور پر پاکستان کے اندرونی سیاسی اور عسکری اُفق پر ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جنہوں نے محنت سے بُنے گئے اس پورے امن عمل کو سبوتاژ کر دیا۔
پاکستان میں عمران خان کی حکومت کو ہٹا کر شہباز شریف کو وزیرِ اعظم بنا دیا گیا، جس کے ساتھ ہی ریاست کی سکیورٹی اور سفارتی پالیسی کو یکسر تبدیل کر دیا گیا۔
اسی طرح مذاکراتی عمل کے روحِ رواں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو پشاور کور کی کمانڈ سے ہٹا دیا گیا، جس سے مذاکرات کا تسلسل اور رابطے کا بنیادی دھاگا ہی ٹوٹ گیا۔ پاکستان کے نئے عسکری حکام نے امارتِ اسلامی کی اس مخلصانہ ثالثی اور جنرل فیض حمید پارٹی کی طرف سے ٹی ٹی پی کے ساتھ نرم رویّے اور سیاسی مفاہمت کی پالیسی کو آگے بڑھانے سے صاف انکار کر دیا۔
چناں چہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے منصب سنبھالتے ہی سفارتی و عسکری آداب اور اپنے باوقار عہدے کے احترام کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایک سخت اور غیر لچک دار موقف اختیار کیا اور اعلان کر دیا کہ ‘عسکریت پسندوں کے ساتھ صرف گولی اور بارود کی زبان میں بات کی جائے گی اور ریاست ان کے ساتھ مذاکرات کی کسی بھی میز پر نہیں بیٹھے گی۔’
یہ پوری تفصیل اس تاریخی سچائی کو ثابت کرتی ہے کہ سال 2022ء میں امارتِ اسلامیہ نے پاکستان کے اندرونی امن اور خطے کے استحکام کے لیے اپنے تمام وسائل اور اثر و رسوخ کا مخلصانہ استعمال کر کے ایک بہترین تزویراتی موقع فراہم کیا تھا، جسے پاکستان کی ناقابلِ فہم قسمت سے راولپنڈی کے مقتدر حلقوں نے برقرار نہ رہنے دیا اور طاقت کے گھمنڈ میں ضائع کر دیا۔




















































