پچھلے کچھ عرصے سے ایک سوال کثرت سے گردش کر رہا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امارتِ اسلامیہ قاتل کو قصاصاً قتل کرتی اور شرابی یا غیر شادی شدہ زانی پر کوڑوں کی سزا بھی نافذ کرتی ہے، لیکن ابھی تک کسی چور کا ہاتھ کاٹنے یا شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے کی کوئی خبر نظر سے نہیں گزری، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟
یاد رہنا چاہیے کہ یہ سوال دراصل اس فکری الجھن کا عکاس ہے، جو نظامِ شریعت کو صرف سزاؤں کے نفاذ کی عینک سے دیکھنے کے باعث پیدا ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کا نظامِ عقوبات محض سزاؤں کے نفاذ کا نام نہیں… بلکہ یہ عدل و انصاف، انسانی جان و مال کی حفاظت اور معاشرتی اصلاح کا ایک عادلانہ اور حکیمانہ امتزاج ہے۔
معترضین یا سطحی نظر رکھنے والے بعض احباب کا یہ اشکال کہ ‘اسلامی حکومت میں چوری پر ہاتھ کاٹنے یا شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے کے واقعات کثرت سے کیوں نظر نہیں آتے’… دراصل شریعت کے مزاج، تعزیری حکمتِ عملی اور حدود کی سخت شرائط سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔
شریعتِ اسلامیہ کے حقیقی فہم کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام کا بنیادی مزاج جرم ثابت کرنے کی ضد کرنا نہیں، بلکہ جہاں تک ممکن ہو سزاؤں کو ٹالنا ہے۔ فقہِ اسلامی کا یہ ایک متفق علیہ اور بنیادی ترین اصول ہے کہ ‘جہاں بھی جرم کے قطعی ثبوت میں معمولی سا شبہ پیدا ہو جائے، وہاں حد کی سزا ساقط ہو جاتی ہے’۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی مشہور نبوی ارشاد ہے کہ ‘جہاں تک ممکن ہو مسلمانوں سے حدود کی سزاؤں کو ٹالو، اگر ملزم کے بچنے کی کوئی راہ نکلتی ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دو۔ کیوں کہ امام یا قاضی کا معاف کرنے میں غلطی کرنا، سزا دینے میں غلطی کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
حدیث کا عربی متن یہ ہے:
‘ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَإِنَّ الإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ.’ (سنن الترمذی، کتاب الحدود ‘باب ما جاء في درء الحدود’، حدیث نمبر:1424)
اس نبوی ارشاد کا یہ حصہ کہ ‘قاضی کا معاف کرنے میں غلطی کرنا سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے’، اسلامی قانونِ قضا (Jurisprudence) کا وہ شاہکار اصول ہے، جس پر جدید دنیا کا پورا نظامِ انصاف رشک کرتا ہے۔
اس کا سادہ اور منطقی مفہوم یہ ہے کہ ‘اگر کسی ایسے شخص کو رہا کر دیا جائے، جو حقیقت میں مجرم تھا تو یہ ایک عدالتی تسامح یا غلطی ضرور ہے، مگر اس کا نقصان صرف ایک فرد کی حد تک یا محدود ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی ایسے شخص کو سزا دے دی جائے، جو حقیقت میں بے گناہ تھا تو یہ ایک ایسا سنگین ظلم اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے، جو پورے عدالتی نظام کے وقار اور ریاست کے جواز کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ ایک مجرم کا سزا سے بچ جانا معاشرے کے لیے اتنا بڑا خطرہ نہیں ہے، جتنا بڑا خطرہ ایک بے گناہ کا سلاخوں کے پیچھے جانا یا اس کا ناحق خون بہنا ہے۔’
لہذا سزا دینے میں غلطی اس لیے بھی زیادہ ہولناک ہے، کیوں کہ ہاتھ کاٹنا یا قصاصاً جان سے مارنے جیسے حدود کی سزائیں ناقابلِ واپسی (Irreversible) ہوتی ہیں۔ اگر کسی بے گناہ کا ہاتھ کاٹ دیا جائے یا اسے سنگسار کر دیا جائے اور بعد میں عدالت پر یہ واضح ہو کہ فیصلہ غلط تھا تو عدالت چاہ کر بھی اس بندے کا کٹا ہوا ہاتھ یا اس کی چھینی گئی زندگی واپس نہیں لوٹا سکتی۔
اسی لیے شریعت قاضی کو پابند کرتی ہے کہ وہ ملزم کو ہمیشہ شک کا فائدہ (Benefit of Doubt) دے۔ اسلام کا یہ تصورِ عدل واضح کرتا ہے کہ اسلامی ریاست سزائیں دینے کی پیاسی نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد جان و مال کا تحفظ ہے۔ جب عدالتیں سو فیصد یقین کے بغیر صرف جذبات یا دباؤ میں آ کر سزائیں سنانے لگیں تو وہ عدلِ فاروقی کا نمونہ نہیں رہتیں، بلکہ ظلم کا ہتھیار بن جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے معافی کی غلطی کو سزا کی غلطی پر ترجیح دی ہے، تاکہ معاشرے کا کوئی ایک بے گناہ فرد بھی نظامِ انصاف کے ہاتھوں مظلوم نہ بن سکے۔
چناں چہ یہ نبوی اسلوب واشگاف الفاظ میں بتاتا ہے کہ اسلام ملزم کو اقرارِ جرم سے بچنے اور توبہ کی طرف راغب کرنے کی مہلت دیتا ہے، نہ کہ سزا دینے میں جلدی کرتا ہے۔ عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں جب سیدنا ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ نے خود حاضر ہو کر چار مرتبہ زنا کا اقرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار منہ مبارک دوسری طرف پھیر لیا اور یہاں تک پوچھا کہ ‘کیا تم پاگل ہو یا کیا تم نے صرف بوس و کنار تو نہیں کیا؟’
یہ پورا واقعہ شریعت کے اسی رحم دِلانہ مزاج کی عکاسی کرتا ہے کہ جب تک جرم سورج کی طرح واضح نہ ہو، حد نافذ نہ کی جائے۔
یہی وجہ ہے کہ عوام الناس جسے ایک سادہ امر سمجھتے ہیں، اس حدِ سرقہ یعنی چوری کی سزا کے نفاذ کے لیے فقہِ اسلامی میں اتنی کڑی شرائط رکھی گئی ہیں کہ ان کا بیک وقت پورا ہونا عام حالات میں بہت نادر اور تقریباً نایاب ہوتا ہے۔
شرعی اصولوں کے مطابق چوری پر ہاتھ کاٹنے کے لیے لازم ہے کہ مال کی مالیت ایک مخصوص شرعی نصاب تک پہنچتی ہو، وہ مال کسی ‘حرز’ یعنی ایسی محفوظ جگہ سے چُرایا گیا ہو، جو اس کی حفاظت کے لیے مخصوص ہو، جیسے تالے والی جگہ، الماری یا گھر وغیرہ۔ اور اس مال میں چور کا کوئی شریک حق یا شبہِ ملکیت بھی موجود نہ ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ اگر کوئی شخص بھوک، مجبوری یا شدید معاشی بحران کی وجہ سے چوری کرے تو حد بالاتفاق ساقط ہو جاتی ہے، جیسا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ‘عام الرمادۃ’ یعنی قحط کے سال میں چوروں کے ہاتھ کاٹنے کا حکم معطل فرما دیا تھا۔
امارتِ اسلامیہ افغانستان کی عدالتوں میں اگر ہاتھ کاٹنے کے فیصلے کثرت سے سامنے نہیں آ رہے تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عدالتیں شرعی تقاضوں کے تحت ان تمام باریک شرائط کی چھان بین کرتی اور عصرِ حاضر کے معاشی حالات اور شبہات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حد کے بجائے تعزیری سزائیں دینے کو ترجیح دیتی ہیں۔
شرعی نظامِ قضا میں حد اور تعزیر کا یہی فرق قاضی کو وسیع اختیارات دیتا ہے۔ جب کسی ملزم کا جرم ثبوت یا شرائط کی کمی کی وجہ سے حد کے درجے تک ثابت نہ ہو سکے، لیکن یہ واضح ہو جائے کہ وہ کسی نہ کسی طرح جرم میں ملوث رہا ہے تو قاضی وہاں حد کے بجائے تعزیر یعنی حالات اور مجرم کی نفسیات کے مطابق قید، جرمانہ یا جسمانی سزا نافذ کر دیتا ہے۔
چناں چہ اگر کسی چور کا ہاتھ کٹتے ہوئے نہیں دیکھا گیا تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے معاف کر دیا گیا ہے، بلکہ امارتِ اسلامیہ کے قُضاۃ حدود کے شُبہات کی وجہ سے اکثر مقدمات میں سخت تعزیری سزائیں نافذ کرتے ہیں، جو معاشرے میں عبرت اور امن و امان قائم رکھنے کے لیے کافی ثابت ہو رہی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ موجودہ ملکی و بین الاقوامی حالات اور مصلحتوں کو دیکھنا بھی اولو الامر یعنی حکمرانوں کا کام ہے۔ امارتِ اسلامیہ افغانستان کو ایک طرف اندرونی طور پر دہائیوں کی جنگ کے بعد معاشرے کی فکری و معاشی تعمیرِ نو کرنی ہے تو دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر شدید منفی پروپیگنڈے اور اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔
ایسے حالات میں شریعتِ اسلامیہ حکومت کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ سزاؤں کے نفاذ کے طریقۂ کار میں ایسی حکمتِ عملی اپنائے، جس سے فتنہ دبے اور اسلام کا حقیقی متوازن چہرہ سامنے آئے۔ بعض سنگین سزاؤں کو سرِعام چوکوں پر دینے کے بجائے عدالتی احاطوں یا مخصوص مقامات پر منتقل کرنے کی بڑی وجہ یہی ہے، تاکہ عالمی میڈیا کو شریعت کے عادلانہ نظام کو مسخ کرنے اور دعوتِ دین کے کام کو متاثر کرنے کا موقع نہ ملے اور ساتھ ہی عام لوگوں کی نفسیات میں ہر وقت سخت سزائیں دیکھنے سے قساوتِ قلبی یعنی دل کی سختی پیدا نہ ہو۔
اگر ہم خوارجِ عصر یعنی داعش کے ماڈل کا جائزہ لیں تو ان کی ناکامی اور تباہی کا ایک بڑا سبب اُن کا حد سے بڑھا ہوا سخت گیر رویّہ تھا۔ انہوں نے شرعی حدود کی باریک شرائط اور شبہات کو یکسر نظر انداز کر کے محض شک کی بنیاد پر گردنیں اُڑائیں اور ہاتھ کاٹے… جس سے دنیا کے سامنے اسلام کا ایک ایسا مسخ شدہ چہرہ گیا، جیسے یہ دین صرف سزائیں دینے کے لیے آیا ہو۔ یہ سخت گیری شریعت کی روحِ رحمت کے منافی تھی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا زور توڑ دیا۔
اس کے برعکس امارتِ اسلامیہ کا قصاص لینا یا کوڑے لگانا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ نفاذِ شریعت میں مخلص ہے، لیکن وہ سستی شہرت یا دکھاوے کے لیے حدود نافذ کرنے کے بجائے عدالتی وقار اور شرعی مصلحتوں کو اولیت دیتی ہے۔
لہذا سمجھنا چاہیے کہ اسلام کا تعزیری نظام سزاؤں کی کثرت یا سرِعام نمائش سے نہیں، بلکہ عدل کے قیام اور جرائم کی روک تھام سے ناپا جاتا ہے۔ چور کا ہاتھ نہ کٹنا یا سنگسار کرنے کی خبریں عام نہ ہونا امارتِ اسلامیہ کی کمزوری یا چشم پوشی نہیں، بلکہ شریعتِ اسلامیہ کے عین مطابق احتیاط، باریک بینی اور حکیمانہ تدبر کی علامت ہے۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دین کا گہرا اور حقیقی فہم حاصل کریں اور جذباتی و ظاہری امور کے بجائے شریعت کے اصل مقاصد اور اس کی حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔




















































